بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق
- جمعہ 11 / ستمبر / 2020
- 5780
چین اور بھارت نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔ چین کے اسٹیٹ کونسلر وانگ ژی اور بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان جمعرات کو ماسکو میں ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے حالیہ سرحدی کشیدگی میں اضافے پر بات چیت کی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پانچ نکات پر اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے کہا گیا ہے کہ سرحدی کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ دونوں جانب سے فوجیوں کو فوری طور پر سرحد سے ہٹایا جائے اور تناؤ میں کمی لائی جائے۔
دونوں ملکوں کے اعلی سفارتی عہدے داروں کے درمیان یہ ملاقات ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر الگ سے ہوئی جس میں سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا۔ چین اور بھارت کے درمیان یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب رواں ہفتے لداخ میں متنازع سرحد پر فائرنگ کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے کے الزامات لگائے تھے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وانگ ژی نے اجلاس کے دوران بھارتی وزیرِ خارجہ سے کہا کہ سرحدی مداخلت اور فائرنگ جیسی اشتعال انگیزی کو فوری روکنے کی ضرورت ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
بیان کے مطابق وانگ ژی نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے کہا کہ کشیدگی کے دوران سرحد پر لائے جانے والے تمام عسکری ساز و سامان اور سرحدی فورسز کو وہاں سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے سرحدی کشیدگی جاری ہے اور دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان ایک جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
بھارت نے بھی اس جھڑپ میں چین کے فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا تاہم چین نے ہلاکتوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔ ہمالیہ کے اس بلند و بالا علاقے میں دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ سرحد بندی نہیں ہے اور اسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے۔
ایک معاہدے کے تحت اس سرحد پر دونوں ملکوں کے فوجی غیر مسلح ہوتے ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں جانب سے انہیں اسلحہ فراہم کر دیا گیا تھا۔