کیا کراچی واقعی تبدیل ہوسکے گا؟
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 11 / ستمبر / 2020
- 5020
کیا کراچی کا بنیادی مسئلہ ایک بڑا مالیاتی پیکج ہے جو شہر کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بناسکتا ہے؟ وزیر اعظم عمران خان نے کراچی پیکج کے لئے 1113ارب روپے کی مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔
یہ ایک بڑا ترقیاتی پیکج ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ کراچی کو اگر واقعی مثبت انداز میں تبدیل ہونا ہے تو اس میں ایک بڑا نکتہ مالیاتی وسائل کی فراہمی کا بھی ہے۔ یہ پیکج وفاق دے یا سندھ حکومت ان مالی وسائل کی شہر کو ضرورت ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے قبل ماضی میں کراچی کی درستی کے لیے مالی وسائل ہی سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا یا مسائل کی نوعیت مالیات کی فراہمی کے علاوہ بھی تھی۔ایک سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ ’کراچی ٹرانسفارمیشن پلان‘ کے تحت کراچی کا یہ شہر واقعی تین برسوں میں تبدیل ہوجائے گا۔اسی طرح یہ گیارہ سو تیرہ ارب روپے موجودہ صورتحال میں کہاں سے آئیں گے خود ایک اہم اور بنیادی نوعیت کا سوال ہے۔کیونکہ اگر یہ مالی وسائل نہیں ملتے تو پھر شہر کی حالت بدلنے کی بات بھی پیچھے جاسکتی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کراچی پیکج کے نام پر سیاسی طور پر تقسیم بھی نظر آتی ہیں۔ سندھ حکومت کے بقول کراچی پیکج کے گیارہ سو ارب روپے میں سے 750ارب سندھ حکومت جبکہ 362ارب روپے وفاقی حکومت خرچ کرے گی۔ اس کے برعکس وفاقی وزیر اسد عمرکے بقول وفاقی حکومت کا حصہ 62فیصد جبکہ سندھ حکومت کا حصہ 38فیصد ہے۔یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ فریقین میں کراچی کی ترقی سے زیادہ وہاں سے جڑی سیاست اہم ہے او ر ہر جماعت اپنے مفاد کی بنیاد پر سیاست کرنا اپنا حق سمجھتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ گیارہ سو ارب روپے کا بجٹ جو تقریبا ًتین برسوں کے لیے 366ارب روپے فی سال بنتا ہے کو فراہم کرنا ہی کوئی معمولی اقدام نہیں ہوگا۔ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت ہو یا سندھ کی صوبائی حکومت دونوں نے کراچی پیکج کے نام پر حقائق سے زیادہ خواہشات یا جذبات کی سیاست کو بنیاد بنا کر بھاری بھرکم پیکج کا اعلان کردیا ہے، جو عملدرآمد کے نظام میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ایک مسئلہ کراچی کی درستی کے لیے سیاسی کمٹمنٹ کے فقدان کا ہے۔ ماضی میں بھی کراچی کمزور سیاسی کمٹمنٹ، وفاق اور صوبوں و مقامی نظام حکومت کے درمیان بداعتمادی کا فقدان، کمزور مقامی حکومت کا نظام،بیوروکریسی کے نظام میں پائی جانے والی خرابیاں او ربالخصوص 18ویں ترمیم کے بعد صوبہ کو مرکزیت کی بنیاد پر چلانے کی روش نے کراچی کا سیاسی، سماجی، انتظامی او رمالی حلیہ کو بگاڑ دیا ہے۔سندھ میں پچھلے تیرہ برسوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ کراچی شہر کی حکومت مجموعی طور پر ایم کیو ایم کے پاس رہی ہے۔کراچی کا ایک بڑا حصہ کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس ہے جہاں ان کا اپنا ترقیاتی نظام ہے۔اس لیے کراچی شہر کی بنیادی خرابی کی بڑی ذمہ داری ان ہی فریقین پر عائد ہوتی ہے۔یہ رویہ کہ سندھ کے طاقت ور فریقین سمیت سندھ او رمقامی حکومت ذمہ داری لینے کی بجائے اسے وفاقی حکومت پر ڈال کر خود کو بچانے کی جو کوشش کرتے ہیں جو دونوں فریقین میں پہلے سے جاری بداعتماد ی کو مضبوط بناتی ہے اور دو طرفہ تعاون کے امکانات کو بھی ختم کرتی ہے۔
اگر ہم 1113ارب کے کراچی پیکج کی جزیات کو دیکھیں تو اس میں فراہمی آب کے منصوبے کے لیے 192ارب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ یا برساتی نالوں کی صفائی، متاثرین کی آباد کاری کے لیے 267ارب، ماس ٹرانزٹریل، ٹرانسپورٹ572ارب روپے،سیوریج ٹریٹمنٹ اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 141ارب روپے، انڈر پاسز، فلائی اورز کی تعمیر کے لیے 41ارب روپے مختص کیے ہیں۔لیکن سوال وہی ہے کہ یہ تو کراچی سے جڑے ترقیاتی مسائل ہیں جو یقینی طور پر اگر شفاف انداز میں وسائل خرچ ہوں تو نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں۔لیکن کراچی کا عملی بگاڑ بڑا ہے۔یہ بگاڑ ایک بری سرجری کا تقاضہ کرتا ہے او ریہ محض مالیات کی فراہمی سے درست ہونے والا نہیں۔ ہمیں کراچی سے جڑے مسائل کی درست درجہ بندی کے لیے پہلے اس کی درست تشخیص کرنا ہوگی۔اسی بنیاد پر کراچی کی سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی سطح کی ترجیحات کا تعین کیا جاسکتا ہے۔
سابقہ سیاسی اور فوجی حکمرانوں نے جو بگاڑ کراچی میں پیدا کیا اسے درست کرنے کے لیے روائتی اور فرسودہ یا میٹھی گولیوں یا کچھ ترقیاتی فنڈ ز کی فراہمی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ماضی میں جو کچھ کراچی کی ترقی کو بنیاد بنا کر جو بڑے وسائل آئے تھے ان کا سیاسی او رمالی آڈٹ کون کرے گا۔ اگر ماضی کی بھاری رقم لوٹ مار، اقرباپروری، قبضوں کی سیاست یا کرپشن و بدعنوانی کی نذر ہوگئی تو حالیہ کراچی پیکج پر عملدرآمدہو بھی جائے تو اس کی شفافیت کی ذمہ داری کون لے گا۔اگرچہ اس بار ایک نیا تجربہ وفاقی، صوبائی حکومت، ریاستی اداروں، کنٹونمنٹ بورڈز، این ڈی ایم سمیت مختلف اداروں کی شمولیت کے بعد ایک نگران کمیٹی قائم کی گئی ہے او راس کی سربراہی وزیر اعلی سندھ خود کریں گے۔ لیکن کیا یہ کمیٹی اپنی شفافیت، فعالیت اور خود مختاری ثابت کرسکے گی یا اس کمیٹی کو کام کا موقع دیا جائے گا۔ کیونکہ سندھ حکومت پہلے ہی انتباہ کرچکی ہے کہ وہ ایسی کسی کمیٹی کی فعالیت کے حق میں نہیں جو عملی طور پر سندھ حکومت کے مفادات یا اختیارات کو چیلنج کرتی ہوگی۔
کراچی کا بڑا مسئلہ سیاسی ہے۔ اس میں جہاں فریقین میں ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ درکار ہے وہیں اس میگا شہر کے لیے ایک بڑا ماسٹر پلان درکار ہے جو سب فریقین کی باہمی مشاورت سے بنا نا ہوگا۔ اسی طرح میگا شہر کے تناظر میں وفاق اور صوبو ں سمیت مقامی نظام حکومت کے دائرہ کار کو نئے سرے سے پرکھ کر کچھ اصلاحات کرنی ہوگی۔ایک مضبوط رابطہ کاری وفاق، سندھ، شہری اور کنٹونمنٹ بورڈ کے درمیان درکار ہے او ران فریقین میں عملی تعاون او راعتماد سازی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔ اس شہر سے کیسے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ ہوگا، کیسے شہر کو جرائم پیشہ افراد سے نجات دلائی جائے گی، کیسے قبضہ گروپوں سے جو سیاسی طور پر مختلف لوگوں کی پشت پناہی رکھتے ہیں سے کیسے جگہیں خالی کروانا، منشیات فروشی کاخاتمہ، سرکاری و غیر سرکاری املاک کی تعمیر میں غیر قانونی اقدامات یا تجاوز کرنا، پارکنگ اور پارکوں کے نام پر قبضہ کا کھیل، ٹرانسپورٹ او رٹمبرز مافیا، سیاسی جماعتوں میں جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی جیسے امور اہم نوعیت کے مسائل ہیں او ران کو اپنی ترجحات کا حصہ نہ بنا کر کچھ نیا کرنا ممکن نہیں۔
یہ کام ایک بڑی ادارہ جاتی اصلاحات کا تقاضہ کرتا ہے۔ پولیس، جوڈیشل ریفارمز کے لیے بیوروکریسی میں سرجری، انتظامی اداروں میں سیاسی مداخلتوں کا خاتمہ کیے بغیر کراچی پیکج بھی اپنا اثر نہیں دکھا سکے گا۔کیونکہ مسئلہ مالیات کے ساتھ ساتھ شفافیت کا بھی ہے۔ بالخصوص جب تک اس بڑے اور میگا شہر کے لیے ایک خود مختار مضبوط مقامی حکومت کا نظام جس میں ان اداروں کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات نہیں دیے جائیں گے اس شہر کی حقیقی حالت، ترقی یا خوشحالی کا خواب مشکل او رناممکن نظر آتا ہے۔