سوڈان: اسلامی کی بجائے سیکولر ریاست کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 11 / ستمبر / 2020
- 9650
سوڈان افریقہ کا تیسرا بڑا ملک ہے، اس کی 45 ملین آبادی میں91 فیصد مسلمان اور محض 6 فیصد مسیحی ہیں۔1989سے یہاں عمر البشیر کی سخت گیر اسلامی حکومت قائم تھی جو عسکری طاقت سے امہ پارٹی کے وزیراعظم صادق المہدی کی حکومت ہٹا کر برسر اقتدار آئے تھے۔
پھر تین دہائیوں بعد ان کی حکومت کا خاتمہ اپریل 2019میں ہوا ہے۔ ہمارے صدر ضیاءالحق کی طرح سوڈان کے صدر عمر البشیر بھی مذہبی ذہن کی حامل فوجی شخصیت تھے ، جنہوں نے اپنے تیس سالہ دور حکومت میں نہ صرف یہ کہ سوڈان میں شریعت نافذ کرنے کیلئے خاصی سختی سے کام لیا بلکہ سخت گیر اسلامی و جہادی تحریکوں کو بھی خاصی ڈھیل دیے رکھی تھی۔ ایک دور میں سوڈان القاعدہ کا اڈا بنا رہا، شرعی سزائیں لاگو کی گئیں، خواتین کو کوڑے بھی مارے جاتے رہے۔ اسلامائزیشن کی اس کشمکش میں نہ صرف یہ کہ کوئی تین لاکھ کے قریب سوڈانی شہری ہلاک ہوئے بلکہ خانگی لڑائیوں میں 27 لاکھ سوڈانی بے گھر بھی ہوئے۔ اس شدت پسندی کی وجہ سے سوڈان کو 1993میں ناصرف یہ کہ امریکا کی طرف سے دہشت گردی کو پروموٹ کرنے والا ملک قرار دیا گیا بلکہ اس پر بعد ازاں امریکی پابندیاں بھی عائد ہوئیں۔
اتنی تباہ کاریوں کے بعد عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے پر سوڈانی عوام نے سکھ کا سانس لیا اور باہم دست و گریبان گروہوں بالخصوص عبدالعزیز الہیلو کی پیپلز لبریشن تحریک نے سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے ساتھ ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں ہفتہ بھر مذاکرات کرتے ہوئے جس کا سلسلہ بہت پہلے سے جاری تھا، ایک صلح نامہ پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے مطابق عبوری آئین کے تحت سابقہ اسلامائزیشن کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس میں بلاسفیمی لاز بھی شامل ہیں، جن کی سزا موت تھی۔ مشترکہ اعلامیہ میں کھلے بندوں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ سے سوڈان ایک سیکولر مملکت ہو گا اور مذہب کا ریاستی امور و معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ یوں امور مملکت میں مذہب کے سیاسی استعمال کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوڈان کو ایک جمہوری ملک بنایا جائے گا، جہاں مملکت کے تمام شہریوں کو برابر کے مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ مسیحیوں کے ساتھ جبر کا خاتمہ ہو گا اور کرسمس پر پورے ملک میں چھٹی ہو گی۔ چرچ کونسل کا یہ حق ہو گا کہ وہ ملک میں موجود تمام کلیساﺅں کو چلائے، ماضی کے برعکس کسی اقلیتی فرقے کے ساتھ کوئی زیادتی روا نہیں رکھی جائے گی۔ تھامس جیفرسن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ
"The Constitution should be based on the Principle of serpration of religion & state".
"The state shall not estabilshed an officail religioun."
اسلامی ملک سوڈان کی صورتحال ہم پاکستانیوں کے لئے سبق آموز ، آئینے کی طرح ہے بشرطیکہ یہاں اس پرکھلے بندوں مباحثہ ہونے دیا جائے۔ اصولی طور پر دنیا کے تمام مذاہب نیکی، خدمت اور انسانی ہمدردی کا درس دیتے ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب یہ سبق نہیں دیتا کہ کسی انسان کو دکھ پہنچاﺅ یا تشدد کرو۔ دیکھا جائے تو ہر مذہب ایک طرح سے اعلیٰ انسانی اخلاقیات اور اکرام انسانیت کا دعویدار ہے لیکن بالفعل جہاں جہاں اہل مذہب کی اجارہ داری ہوتی ہے یا مذہب کا سیاسی استعمال ہوا ہے تو اچھی بھلی سوسائٹی میں ایک سو ایک خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ یوں بالآخر مذاہب کے مقدس ناموں پر وہ قتل و غارت اور خون خرابے ہوئے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔
انسانی شعور نے صدیوں کی بربادیوں کے بعد یہ سبق سیکھا کہ کسی بھی مہذب ریاست کو مذہبی معاملات میں ٹانگیں نہیں اڑانی چاہیں، مذہب بندے اور خدا کا باہمی معاملہ ہے جبکہ ریاست کو مائی باپ بن کر اپنے تمام شہریوں کو اپنے بچوں کی طرح بلاامتیاز مذہب و نسل ایک نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر کوئی ریاست مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے مملکت میں مذہبی تجربہ گاہیں قائم کرنے پر مصر ہوتی ہے تو اس کے وہی مفاسد برآمد ہوں گے جو سوڈان میں ہوئے ہیں، فاعتبر ویا اولوالابصار
صدر عمر البشیر نے جب سے اسلامائزیشن کا بیڑا اٹھایا اور سوڈان کو اسلامی آئین دیتے ہوئے شریعہ کا نفاذ کیا پوری سوڈانی سوسائٹی باوجود، 91 فیصد مسلم میجارٹی کے، انتشار و بدامنی کا شکار ہو کر رہ گئی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جنوبی و شمالی سوڈان کی صورت دو ٹکڑے ہو گئی۔ یہ بے چینی صرف مسیحیوں میں نہیں ہوئی خود مسلمانوں کے اندر شیعہ سنی اور پھر سنیوں میں صوفی و سلفی اسلام کی پھوٹ بڑھتی چلی گئی۔ سنی میجارٹی میں شیعوں کے خلاف منافرت کا طوفان امڈ آیا ۔ کفر اور قتل کے فتاویٰ جاری ہوئے، بلاسفیمی کے نام پر لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی۔
مذہبی کے علاوہ سماجی طور پر مختلف النوع بندشوں نے سوسائٹی میں انارکی پیدا کی۔ شراب پر بندش نے دیگر منشیات کو بڑھایا، تفریحی پروگراموں پر بندشوں نے مذہبی دہشت گردی اور شدت پسندی کو داداگیری کی حد تک پہنچا دیا۔ میڈیا پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہوئیں، سچ لکھنے والوں پر حملے ہوئے، اسلامیات لازمی کرنے پر دیگر مذاہب بالخصوص مسیحیوں کو شکایت ہوئی کہ ان کے بچوں کو جبری مسلمان بنانے کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔
صدرعمر البشیر کی اسلامائزیشن کا نزلہ خواتین پر کس بے دردی سے نازل ہوا، اس کی ایک زندہ مثال نوجوان سوڈانی لڑکی مریم ابراہیم کی ہے جس کے مسلمان باپ نے ایک مسیحی خاتون سے شادی کی۔ 3 نومبر 1987کو مریم پیدا ہوئی مگر اس کے مسلمان باپ نے اس کی ماں کو بوجوہ طلاق دے د ی۔ یوں بچی اپنی ماں کے پاس پلی بڑھی اور اس نے اپنی ماں کا عقیدہ ہی اختیار کرنا تھا سو کیا۔ مگر اسلامی شرعی قوانین کے مطابق بچی کو باپ کا مذہب اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اس سلسلے میں شرعی و فقہی تشریحات واضح ہیں۔ بالغ ہو کر اس بچی نے اپنی مرضی سے ایک مسیحی نوجوان دانیال وانی سے شادی کر لی۔ جب وہ حاملہ تھی تو کسی رشتے دار نے اس کی شکایت کر دی اور نکاح نامہ شائع کر دیا جس پر مریم ابراہیم کو گرفتار کر لیا گیا۔ 27 مئی 2014کو مریم نے جیل میں ہی ایک بچی کو جنم دیا۔ یوں اس کا معاملہ پاکستان کی آسیہ بی بی جیسا رخ اختیار کر گیا۔ آسیہ کے برعکس مریم ابراہیم مذہبی آزادیوں کی علمبردار اور پبلک سپیکر تھی اس کی آواز ایک پاپولر آواز تھی۔ بہرحال اسے اسلامی قانون ارتداد کے تحت سوڈانی عدالت نے 15مئی 2014کو سزائے موت سنا دی کہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر دوسرا مذہب یعنی مسیحیت اختیار کی ہے۔ بہرحال جج نے یہ مہربانی فرمائی کہ مریم کو تین دن دیے کہ وہ اپنی ماں کا مذہب چھوڑ کر اپنے والد کا مذہب اختیار کر لے۔
مریم ابراہیم نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس کی ماں کو اس کے باپ نے اس کی کم سنی میں ہی طلاق دے دی تھی، اس کے بعد وہ بالغ ہونے تک مسلسل اپنی ماں کے پاس رہی یوں وہ روز اول سے کرسچین تھی۔ اور کرسچین ہی رہی جب اس نے کبھی مسلمان باپ کا مذہب اختیار ہی نہیں کیا تو پھر مرتد ہونے کے کیا معنی ہیں؟ لہٰذا وہ عدالت کے کہنے پر اپنا پیدائشی مذہب بدلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
مریم ابراہیم کے خاوند دانیال وانی نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم یا اپیل کورٹ میں اپنی اور مریم ابراہیم اسحق کی طرف سے اپیل دائر کر دی اور اس کی مطابقت میں دلائل پیش کئے۔ 24 جون 2014کو سوڈانی اپیل کورٹ نے ان کی اپیل قبول کرتے ہوئے مریم کو رہا کر دیا۔ اسی روز وہ اپنے خاوند کے ساتھ امریکا بھاگ جانے کیلئے ایئر پورٹ پہنچی کیونکہ انہوں نے بورڈنگ وغیرہ کا پورا اہتمام کر رکھا تھا تاکہ انتہاپسندوں کے ہتھے نہ چڑھنے پائیں۔ لیکن مریم ابراہیم کو خرطوم ائیر پورٹ سے گرفتار کر کے مزید تحقیقات کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور امریکی سفیر کو بھی سوڈانی دفتر خارجہ میں طلب کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا کہ تم نے اسے باہر جانے کے لئے امریکی ویزا کیوں دیا ہے ۔ اسے جرم قرار دے دیا گیا۔ مگر سفارت کاری کے تحت دو دن بعد اسے رہائی ملی اور اس کی پوری فیملی کو امریکی سفارتخانے میں پناہ دے دی گئی اور پھر بالآخر اگلے مہینے یعنی 24 جولائی 2014کو اٹلی حکومت کی مداخلت و معاونت سے مریم ابراہیم اپنی فیملی کے ساتھ ایک جہاز میں اٹلی پہنچائی گئیں۔ اس دوران جو احتجاجی و منافرتی نعرے بلند ہوئے وہ مسلم مسیحی تعلقات کیلئے کسی طرح بھی سودمند قرار نہیں دیئے جا سکتے تھے۔
عرض مدعا یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی دور حاضر میں اسلامائزیشن کی کاوشیں ہوئی ہیں، ان کا حاصل حصول کچھ ایسی ہی ناپسندیدہ فضا میں مذہبی منافرتوں کی صورت برآمد ہوا ہے۔ اس پر غصہ کرنے کی بجائے ہمارے راسخ العقیدہ طبقات کو بھی غور فرمانا چاہیے کہ کیا واقعی پروردگار عالم کو ایسی اسلامائزیشن مطلوب ہے۔ درویش نے دو دہائیاں قبل ایک آرٹیکل تحریر کیا تھا کہ تمام تر اسلامائزیشن کے بعد ہمیں بالآخر سیکولرازم کے دامن رحمت میں ہی پناہ لینی پڑے گی۔ ہم نے تو شاید ابھی مزید تین دہائیوں بعد اس حقیقت تک پہنچنا ہے لیکن ہمارے سوڈانی بھائی شاید اس باریک نقطے کو پا گئے ہیں۔
بلاشبہ شدت پسند طبقات نے اس شعوری تبدیلی کو خوش آمدید نہیں کہا بلکہ اپنے تئیں ’مرتد حکومت‘ کے خلاف ریلیاں نکال رہے ہیں لیکن ہماری دعا ہے کہ سوڈان میں نہ صرف شمالی و جنوبی منافرت کا خاتمہ ہو جائے بلکہ عبوری آئین کی اصلاحات کو جاری و ساری کرتے ہوئے وہ اپنے شیڈول کے مطابق 2022میں منصفانہ الیکشن کروائیں۔ اور اپنے عوام کو ان کے تمام تر انسانی حقوق لوٹاتے ہوئے کلیدی فیصلوں کا اختیار بھی انہی کو دیں۔ البتہ انتخابی مہم میں اسی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنائیں کہ مذہب کا کسی بھی صورت سیاسی استعمال ہو گا، نہ اس کے ذریعے عوامی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے انتخابی نعرے کے طور پر مفاد اٹھایا جا سکے گا۔ جو اس بنیادی اصول کی پاسداری نہیں کرے گا وہ انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار پائے گا۔