پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے، موٹر وے سانحہ پر چیف جسٹس کا اظہار تشویش
- ہفتہ 12 / ستمبر / 2020
- 5900
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موٹروے پر ہونے والے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شرمندگی کی بات ہے کہ ہائی وے پر کوئی سکیورٹی سسٹم اور میکنزم نہیں تھا۔
چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم مسافروں کو ہائی وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس کا نظام غیر پیشہ وارانہ اور غیر ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں ہے جس نے ملک کا امن و امان تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں سیاسی مداخلت کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف نے پنجاب پولیس میں ہونے والے حالیہ واقعات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ پولیس کے نظام میں گراوٹ کی علامت ہے اور سیاسی مداخلت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت جاگے اور محکمہ پولیس کی ساکھ کو فوری بحال کرے. چیف جسٹس پاکستان نے زور دیا پولیس اپنے محکمانہ معاملات خود دیکھے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ پولیس سیاسی ہو چکی ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے خبردار کیا کہ حکومت یا سیاسی فرد محکمہ پولیس میں کسی بھی صورت کوئی مداخلت نہ کرے۔ سیاسی مداخلت سے کوئی بھی پولیس فورس پروفیشنل طریقے سے کام نہیں کر سکتی۔ امن و امان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پولیس کا شفاف نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ضرور دیا کہ پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ جب تک پولیس میں پیشہ ورانہ مہارت نہ ہو. اُس وقت تک عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا. اس کے لیے پولیس کو سیاست کی بیڑیوں سے آزاد کرنا ہو گا۔
اس دوران موٹر وے ریپ کیس کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا ہے کہ اس کیس میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے اور اس حوالے سے گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔ سنچر کی صبح سے ہی مقامی میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ پولیس نے ملزم کا ڈی این اے میچ کر لیا ہے تاہم سرکاری ذرائع سے بات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
میڈیا پر خبروں کے حوالے سے صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل انعام غنی کا کہنا ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس میں ابھی کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ میڈیا کو ارسال کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں غلط اور حقائق کے منافی ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ اس کیس کی تفتیش کو خود مانیٹر کر رہا ہوں اور کسی کامیابی پر میڈیا کو خود آگاہ کریں گے۔ ایسی غیر تصدیق شدہ خبریں نہ صرف کیس پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ عوام کے لیے بھی گمراہ کن ہیں۔ سوشل میڈیا پر ملزمان اور خاتون کی جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ بھی غلط اور جعلی ہیں۔
اس دوران صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ریپ کرنے والے گرفتار ہوں گے۔