چین امریکا نئی کولڈ وار(2)
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 12 / ستمبر / 2020
- 6990
مسئلہ شہریت بل کا ہو یا امیت شاہ کی پارلیمنٹ میں بے ہنگم الزام تراشیوں کا، اقوام کی سفارت کاری میں ادب و آداب یا دلجوئی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ بڑا بھائی تبھی بڑا کہلانے کا حقدار ہوتا ہے جب وہ جیب سے کچھ جھاڑتا بھی ہے یہ فن مودی جی کو تو چائے بیچنے کے باوجود نہیں آ سکا۔
لیکن غار کی تپش جھیلنے والے شی کو خوب آیا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے نوٹوں کی بوری کھول دیتا ہے۔ فی زمانہ ووٹ (حمایتی) اس کو ملتے ہیں جو نوٹ خرچنے کا فن جانتا ہو ۔ اگرچہ ان نوٹوں سے آٹے دال کا بھاﺅ تو ہمینٹوٹا پورٹ 99 سالہ لیز پر دینے والے لنکنز کی طرح دوسروں کو بھی مابعد ہی معلوم ہو گا مگر مجبوریاں انسان سے کیا کچھ نہیں کروا دیتی ہیں۔ اگر کسی کو شک ہے وہ ہمارے ایرانی بھائیوں سے معلوم کر لے۔ مغرب کی معاشی پابندیوں نے جن کی معیشت کا کچومر نکال دیا ہے اور پھر وہ جن کو خدا اور دین و ایمان کا دشمن خیال کرتے تھے، آج انہی کو گلے لگانے کے سوا کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں۔ لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ اس میں صدر شی جن پنگ کی شخصیت اور معاشی پالیسیوں کا بڑا رول ہے جو چن چن کر نہ صرف مجبوروں کی مجبوریاں دور کرنے کے لئے کوشاں ہیں بلکہ دشمن کے ہر دشمن کو اپنا دوست خیال کرتے ہیں۔
شمالی کوریا اور پاکستان جیسے اٹوٹ دوستوں کو تو صدر شی اگر گھڑے کی مچھلیاں نہیں تو جیب کے نگینے ضرور خیال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کی انہوں نے اخلاقی و مادی ذمہ داری لگائی ہے کہ نیوٹرل جو پڑے ہیں، پیار محبت اور سی پیک جیسے منصوبوں کی چاشنی و چمک دکھا کر انہیں اپنے ساتھ ملاﺅ بلکہ اپنے قریبی دوستوں کو بھی کہہ دو کہ آپ واضح کرو ہمارے ساتھ ہو یا غیر کے۔ ترجیح سوائے بھارت کے دیگر تمام سارک ممالک ہونے چاہیں لیکن رسائی و کاوش تمام ایشیائی ممالک تک۔ صدر شی خود بھی نہ صرف سارک بلکہ سنٹرل ایشیا اور اس سے بھی آگے تک نظر رکھے ہوئے ہیں وہ گوادر کے راستے مڈل ایسٹ اور افریقہ بلکہ یورپ تک دو طرفہ مار کرنے کا داعیہ رکھتے ہیں۔
چینی صدر شی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر چین نے امریکا کے بالمقابل عالمی سپر پاور بننا ہے تو سب سے پہلے نہ صرف یہ کہ اپنے خطے کے ممالک کو اپنا ہمنوا بنانا ہے بلکہ معاشی و عسکری طاقت بھی بننا ہے۔ پچھلے سات سالوں میں وہ اسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پورا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کے راستے کی پہلی دیوار انڈیا ہے اور آخری امریکا۔ انڈیاکے ساتھ وہ پیہم گاجر اور چھڑی والا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ انڈیا کو ان ہر دو ہتھکنڈوں سے رام یا قابو نہ کر سکے تو نہ صرف یہ کہ ان کے سی پیک جیسے منصوبہ جات ہمہ وقت بھارتی توپوں کی زد میں رہیں گے بلکہ چائنہ کے سپر پاور بننے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
آج اگر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ چائنہ ایئر بیسز کے علاوہ سڑکوں کے جال تعمیر کر رہا ہے تو کسر ہندوستان بھی نہیں چھوڑ رہا۔ اس کے باوجود صدر شی مطمئن ہیں کہ چائنہ کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا اصل مقابلہ انڈیا سے نہیں، امریکا سے ہے ۔
اگر آج مودی سرکار شاداں ہے کہ فرانس سے ہمیر میزائل اور 60 ہزار کروڑ کے 36رافیل جنگی طیاروں میں سے 5 انڈیا پہنچ گئے ہیں تو ان کی 14 لاکھ چوالیس ہزار فوج کے بالمقابل 21 لاکھ 83 ہزار نفوس پر مشتمل پیپلز لبریشن آرمی بھی پوری تیاری کے ساتھ موجود ہے۔ انڈیا کا سالانہ دفاعی بجٹ اگر 71 ارب ڈالر ہے تو چین کا 261 ارب ڈالر۔ انڈیا کے پاس پہلے سے 2123 طیارے ہیں تو چین کے پاس 3210، چین کے ٹینک 3050 اور انڈیا کے 4292، چینی ہیلی کاپٹر 911 انڈین 722، چینی آبدوزیں 74 جبکہ انڈین 16، چینی بکتر بندگاڑیاں 40000 اور انڈین 6686، چینی ایئر پورٹ 507 اور انڈین 346، چین کے پاس جوہری بم 320 ہیں تو انڈیا کے پاس 150۔ سو معاشی کے ساتھ عسکری تفاوت صاف ظاہر ہے۔
قطعی واضح ہے کہ ان حالات میں انڈیا تنہا چائنہ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یوں پاکستانی عسکری قیادت بھی یہ خیال کرنے لگی ہے کہ بدلے ہوئے زمینی حالات میں اگر کوئی طاقت اسے کشمیر دلوا سکتی ہے تو وہ محض اس کا آزمودہ دوست چین ہی ہے۔ اس لئے اس نے اپنے تمام انڈے بلا شرکت غیرے چینی مرغی کے نیچے یا ٹوکری کے اندر رکھ دیے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کے ایک طبقے کو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ صدر شی جب انڈین مرغی کی گردن دبوچیں گے تو ہمارا دیرینہ مسئلہ جو ستر برسوں میں کسی سے حل نہیں ہو سکا پکے ہوئے پھل کی طرح ہماری جھولی میں آن گرے گا۔ یہ تمامتر صورتحال محض تصویر کا ایک رخ ہے جو ہم نے پیش کیا ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس وقت اگر ریاستہائے متحدہ امریکہ اقوام عالم کی امامت کے رتبے پر فائز ہے تو وہ یونہی کسی فراڈ یا شارٹ کٹ کے ذریعے اس مقام عظمت پر براجماں نہیں ہے۔
سوویت یونین اور ریاست ہائے متحدہ جیسی ایک نئی کولڈ وار جس طرح شروع ہو چکی ہے۔ آنے والے ماہ و سال میں یہ شدت اختیار کرتے بلکہ گرم ہوتے دکھتی ہے۔ چائنہ جس طرح مختلف ہتھکنڈوں سے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے، امریکی قیادت اور سکیورٹی ذمہ داران بھی اسی مستعدی سے سرگرم عمل ہیں۔ امریکی انتخابات تو 3 نومبر کو بروقت ہی ہوں گے سو ان حالات میں کسی حد تک بظاہر توقف محسوس ہو گا مگر امریکی پالیسی کا تسلسل ٹوٹنے نہیں پائے گا۔ اگر تفصیل میں جائیں تو اس وقت چائنہ کے بالمقابل یورپ اور آسٹریلیا ہی امریکا کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ چین کے گرد موجود تمام امریکی اتحادی جاپان، جنوبی کوریا، ویتنام، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے خطے کے ممالک بھی چین کا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیں گے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ 79کے بعد سوویت جبر کے خلاف جو حیثیت پاکستان کی تھی، اب وہ حیثیت ہندوستان کو حاصل ہو گی۔ عرب ممالک یا او آئی سی کی بڑی اکثریت واضح اور کھلے بندوں اس امریکی اتحاد کا حصہ ہوں گے۔
دیکھنے والی بات یہ ہے کہ روسی قیادت امریکا مخالف رویہ کے باوجود انڈیا کے بالمقابل چین کے ساتھ جڑے گی یا غیر جانبداری کا راستہ اپنائے گی؟ ترک صدر اردوان مغرب اور عربوں کی کامل مخالفت کے باوجود کیا چین کے ساتھ جڑ پائیں گے؟ اگر وہ ایسی پالیسی اپنانا چاہیں گے تو کیا خود ترکی کے اندر عوامی سطح پر ان کی مخالفت نہیں بڑھے گی کیونکہ چائنہ سنکیانگ کے ترکی النسل اویغور مسلمانوں پر کئی دہائیوں سے جو مظالم ڈھا رہا ہے، ان کی تفصیلات جب مختلف ذرائع سے سامنے آئیں گی تو ترکی کیلئے چین کی حمایت میں کھڑے ہونا خاصا مشکل ہو جائے گا۔ نیز یہ کہ ترکی نیٹو کارکن بھی ہے، نتیجتاً اسے اس طاقتور تنظیم سے فارغ ہونا پڑےگا۔ امکان غالب یہی ہے کہ ایسی کسی بھی شدید صورتحال میں یہ ممالک غیر جانبداری کا رویہ ہی اپنائیں گے۔
یوں چائنہ کیلئے امریکی اثر و رسوخ کو توڑنا مشکل ہوتا چلا جائے گا جبکہ اندرونی طور پر چائنہ کو تبت اور سنکیانگ میں جس طرح بدھ اور مسلم میجارٹی کے چیلنجز درپیش ہوں گے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مزاحمت تائیوان اور ہانگ کانگ کی جمہوریتوں سے پیش آئے گی جو کسی بھی صورت چینی جبری سسٹم کا حصہ بننے کیلئے رضامند و آمادہ ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ اور مغرب آنے والے برسوں میں ان کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کرے گا بلکہ سیاسی، معاشی اور عسکری تعاون بھی انہیں پیش کیا جائے گا۔ ایسی کسی مبینہ جنگ کی صورت میں ہمارا ملک پاکستان کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا، اس کی تفصیل ہم علیحدہ کالم میں پیش کریں گے۔
لیکن فی الحال یہ بحث کہ کیا چائنہ ایک سپر پاور بن کر ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جگہ لے سکتا ہے؟ آج سے ایک صدی قبل اگر اس نوع کی صورتحال پیدا ہوتی تو اس نوع کا امکان سوچا جا سکتا تھا جبکہ موجودہ اکیسویں صدی کے بدلے ہوئے تقاضوں میں۔ایں خیال است و محال است و جنوں (جاری ہے)