معروف ذاکر، عالم دین علامہ ضمیر اختر نقوی انتقال کرگئے

  • اتوار 13 / ستمبر / 2020
  • 10130

معروف ذاکر، عالم دین، ادیب و خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی 76 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔

علامہ ضمیر اختر نقوی کو طبیعت خراب ہونے پر 12 اور 13 ستمبر کی درمیانی شب کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے اہل خانہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کے باعث ہوا۔

اہل تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علامہ ضمیر اختر نقوی سوشل میڈیا پر بھی بہت مشہور تھے۔ وہ اپنی تقریروں، قصے و واقعات بیان کرنے کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتے تھے۔ علامہ ضمیر اختر نقوی کو 'لڈن جعفری' کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور ان کے بیانات کو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جاتا تھا۔

اہل خانہ کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کی نماز جنازہ اتوار کو بعد نماز مغرب کراچی میں انچولی کی امام بارگاہ میں ادا کی جائے گی۔  علامہ نقوی کے انتقال پر گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے علامہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

علامہ ضمیر اختر نقوی 1944 میں لکھنو میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ ہی سال بعد علامہ ضمیر اختر نقوی اہل خانہ سمیت ہجرت کرکے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی آگئے تھے اور وہیں سکونت اختیار کرلی تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں ہی حاصل کی تھی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی نے جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہیں سائنس، فلسفے، ادب، ثقافت، صحافت، سماجی مسائل، اسلامی تعلیمات اور دینی تعلیمات پر عبور حاصل تھا۔  وہ میر انیس اکیڈمی کے صدر بھی تھے اس کے علاوہ میگزین الکلام کے ایڈیٹر ان چیف تھے۔

علامہ ڈاکٹر سید ضمیر اختر نقوی نے عشرہ مجالس کے علاوہ تاریخ، اردو غزل اور کربلا، واقعاتِ کربلا غزل کے آئینے میں، فرہنگِ ذکر کربلا، غزل میں مماثلت بلا واسطہ اشعارِ غزل، شوق تشنگی اور سوانح حیات پر مبنی 28 کتب  تحریر کیں۔

علامہ ضمیر اختر نقوی کی وفات پر متعدد علمائے دین نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو بڑا نقصان قرار دیا ہے۔