موٹروے ریپ کیس میں نامزد مرکزی ملزم نے گرفتاری دے دی، الزامات سے انکار

  • اتوار 13 / ستمبر / 2020
  • 5410

سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون کے ریپ کیس میں پنجاب حکومت کی جانب سے نامزد مرکزی ملزم وقار الحسن نے گرفتاری دے دی ہے لیکن اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اس واقعے میں عابد علی اور وقار الحسن ملوث ہیں۔ آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، ہم ان کے پیچھے ہیں اور جلد ان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ماڈل ٹاؤن کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس حسنین حیدر نے وقارالحسن کی گرفتاری کے لیے شیخوپورہ میں چھاپہ مارا تھا جس کے دوران اس کے دوست نے  یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جلد ہی گرفتاری پیش کردے گا۔ بعدازاں وقار الحسن اور اس کے دوست نے پولیس سے رجوع کیا اور ماڈل ٹاؤن میں گرفتاری دے دی۔

حسنین حیدر نے بتایا کہ ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے ماڈل ٹاؤن میں گرفتاری دی اور ساتھ ہی موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔  ملزم نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

پولیس کاکہنا ہے کہ ملزم وقار الحسن کی اسپیئر پارٹس کی دکان ہے اور  وہ موٹر سائیکل کا مکینک بھی ہے۔  علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک ایجسنی سے رابطہ کرلیا گیا ہے جبکہ ملزم کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے اعلی افسران کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

حکومت اور آئی جی پنجاب کی جانب سے وقار الحسن کو موٹر وے ریپ کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا اور ایک روز بعد ہی وقار الحسن نے ازخود گرفتاری پیش کرنے کے ساتھ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو بھی مسترد کردیا جس کے بعد مذکورہ کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔

وقار الحسن کی جانب سے از خود گرفتاری دینے اور الزامات سے انکار کے تناظر میں گزشتہ روز آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔  خیال رہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ 'سائنسی تحقیقات میں وقت لگتا ہے، گزشتہ رات 12 بجے کے قریب کنفرم ہوا کہ عابد علی نامی ملزم واقعے میں ملوث ہے۔ ملزم کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کر گئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ عابد علی بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے، ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران عابد اور اس کی بیوی کھیتوں میں فرار ہوگئے۔ اس کی بچی ہمیں ملی ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا تھا کہ اس واقعے میں عابد کے ساتھ وقار الحسن شریک ملزم تھا، ملزمان کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔ ہم ان کے پیچھے ہیں اور جلد ان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا تھا کہ موٹروے زیادتی کیس میں مطلوب ملزمان میں سے ایک کا ڈی این اے ریکارڈ سے میچ کرگیا ہے اور مرکزی ملزمان کی نشاندہی ہوگئی ہے۔