موٹروے ریپ کیس: سی سی پی او عمر شیخ نے متنازعہ بیان پر معذرت کرلی
- سوموار 14 / ستمبر / 2020
- 5250
لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے موٹروے گینگ ریپ کیس سے متعلق اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی ہے۔
صحافیوں کو دیے گئے ایک ویڈیو بیان میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ 'میں نے پہلے بھی معذرت کی تھی کیونکہ میرا کوئی بھی غلط مطلب یا تاثر نہیں تھا اور اگر اس میں میری وجہ سے کوئی غلط فہمی ہوئی تو میں تہہ دل سے اپنی بہن، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اس سے معذرت کرتا ہوں'۔ میں ان تمام طبقات سے جہاں پر رنج و غم اور غصے کی کیفیت ہے میں ان سب سے معذرت کرتا ہوں۔
تاہم اس موقع پر صحافی کی جانب سے اصل ملزمان کی تاحال گرفتاری میں پولیس کی ناکامی سے متعلق سوال کیا جس پر سی سی پی او نے کوئی جواب نہیں دیا۔ واضح رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہورسیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کیا جب وہ گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھیں۔
اس واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ تھا جس پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے متنازع بیان نے اس میں مزید شدت پیدا کردی تھی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
سی سی پی او لاہور نے اپنے متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔
انہوں نے کہا تھا کہ کہ ان کی گاڑی ہرگز خراب نہیں ہوئی اور ایک بجے جیسے ہی انہوں نے ٹول پلازہ عبور کیا ہے تو اس کے چار کلومیٹر بعد ان کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ لیکن وہ کن حالات میں اتنی رات کو جا رہی تھیں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا بلکہ ان کے اہل خانہ کو اس بارے میں زیادہ پتہ ہو گا۔
بعد ازاں عمر شیخ نے خاتون کے حوالے سے اپنے متنازع بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے عوام کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسا نہیں ہے لہٰذا احتیاط سے کام لینی چاہیے لیکن ہم نے اپنی ذمے داری سے پہلو تہی نہیں کی۔
اپنے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او نے کہا تھا کہ خاتون کو جی ٹی روڈ سے جانے کا مشورہ دینے کا مقصد انہیں مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ بتانا تھا کہ ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ آپ احتیاط سے کام لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کے شوہر اور اہلخانہ فرانس میں ہیں اور ان کے ذہن میں فرانس کا ماحول تھا جس کی وجہ سے وہ رات میں گھر سے باہر نکلیں۔ وہ سمجھ رہی تھیں کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ فرانس وغیرہ میں معاشرے صرف قانون سے محفوظ نہیں ہیں بلکہ وہاں اخلاقی قدروں، قانون کی بالادستی اور عملداری کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ اسی لیے خواتین وہاں رات میں سفر کرتی ہیں اور ان کو کچھ نہیں ہوتا۔ سی سی پی او کے ان بیانات نے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر پھیلا دی تھی۔ سیاستدانوں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں کی جانب سے سی سی پی او کو ہٹانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا تھا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب انعام غنی نے عمر شیخ کو ان کے ریمارکس پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔ عثمان بزدار نے سی سی پی او کے بیان کو 'غیر ضروری' قرار دیا تھا۔
عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جواب جمع کروانے کے بعد سی سی پی او کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔