حکومت موٹر وے ریپ کیس پر معافی مانگے: لاہور ہائی کورٹ
- تحریر بی بی سی اردو
- سوموار 14 / ستمبر / 2020
- 6990
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے موٹروے ریپ کیس کے بارے میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ایسے واقعات پر حکومتوں کو معافی مانگنی چاہیے اور متاثرہ افراد کو ہرجانہ دینا چاہیے۔
مقامی وکیل ندیم سرور نے اس سلسلہ میں درخواست دائر کی ہے۔ درخواست گزار نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے حکام سے موٹروے واقعے پر ہونے والی تفتیش اور پنجاب میں سٹرکوں اور شاہراہوں پر لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پر تفصیلی رپورٹس بھی طلب کر لی ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک کی ایک بچی (متاثرہ خاتون) اس اعتماد کے ساتھ نکلی ہو گی کہ وہ موٹروے پر محفوظ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون اور ان کے بچے ساری زندگی جس کرب میں مبتلا رہیں گے اس کا اندازہ کسی کو نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اب کسی کو معافی نہیں ملے گی، سب کچھ قانون کے مطابق ہو گا۔ کوئی ماورائے قانون نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر میڈیا سے درخواست کی کہ وہ ان معاملات کو رپورٹ نہ کرے جو ملزم کو فائدہ دے سکتے ہیں۔ پیر کی صبح اس کیس میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو دوپہر ایک بجے عدالت طلب کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ یہ کیسی انکوائری ہے جس میں محکمے کا سربراہ مظلوم کو غلط کہنے پر تُل گیا ہے۔
سی سی پی او کی لاہور ہائی کورٹ آمد پر جب صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ انہوں نے آج صبح دوبارہ معافی کیوں مانگی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے پہلے دن ہی معافی مانگ لی تھی، مگر چونکہ وہ نہیں پہنچی تو میں نے آج دوبارہ مانگ لی۔‘ کیس کی سماعت کے دوران عمر شیخ روسٹرم پر آئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ موٹروے واقعے کے 20 منٹ بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی۔
اس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ جب متاثرہ خاتون کی جانب سے موٹروے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ ہائی وے پولیس سے رابطہ کریں اور جب ہائی وے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے متاثرہ خاتون کو مقامی پولیس سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ سی سی پی او نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بدقسمتی سے موٹروے پر سکیورٹی نہیں تھی اور جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں پولیس تعنیات نہیں تھی۔
سی سی پی او کا کہنا تھا گزشتہ کچھ سالوں میں مزید موٹر ویز کی تعمیر ہوئی ہے اور ان کی حفاظت کے لیے پولیس کے پاس وسائل اور نفر ی کی کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ موٹروے دو ماہ پہلے فنکشنل ہوئی ہے اور اس پر کوئی سکیورٹی نہیں ہے، رنگ روڈ تک ہمارا دائرہ اختیار ہے جس کے بعد موٹر ویز پولیس کی ذمہ داری ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سکیورٹی کی ذمہ داری حکومتوں کی ہے اور انہیں اس حوالے سے فیصلہ کرنا تھا۔ سی سی پی او نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اداروں میں کھچاؤ کی وجہ سے صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون تو واقعے کے بعد خوفزدہ تھیں مگر موٹر وے انتظامیہ نے کیوں 15 پر کال نہیں کی۔
انہوں نے پوچھا کہ ڈولفن اہلکار کتنی دیر بعد جائے وقوعہ پر پہنچے؟ جس پر سی سی پی او نے بتایا کہ ڈولفن اہلکار 25 منٹ کے بعد آئے تو وہاں تاریکی کی وجہ سے انہوں نے ہوائی فائر کیے اور جب خاتون نے مدد کے لیے آواز دی تو ڈولفن اہلکار ان تک پہنچے۔ سی سی پی او نے بتایا کہ خاتون سہمی ہوئی تھیں اور انہوں نے اپنے بچوں کو سینے سے لگایا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بروقت کارروائی کی اور خاتون کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جس کے کچھ ہی دیر بعد خاتون میڈیکل کروانے پر قائل ہو گئیں۔
سی سی پی او نے عدالت کے سامنے اس امید کا اظہار کیا کہ کیس ٹریس ہو گیا اور یہ دو، تین دن میں حل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون سے ملزمان کا حلیہ بھی پوچھا گیا جس کے فوری بعد پولیس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ مخصوص حلیے کے 53 افراد کو گرفتار کیا گیا، جیو فینسنگ بھی کی گئی۔ سی سی پی او نے آگاہ کیا کہ ایک ملزم عابد کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے اور یہ شخص اس سے قبل بھی ایک ماں بیٹی کے ساتھ زیادتی کر چکا ہے۔
ملزم وقار کے ساتھ عابد کے تعلقات تھے۔ وقار کی لوکیشن بھی جائے وقوعہ کی آ رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے ڈیرے پر آتی گاڑیاں دیکھ لیں تھیں اور ملزم نے ہاتھ پر پٹی بھی باندھی ہوئی تھی، ملزم وقار ہمارے سامنے پیش ہو گیا ہے اور اس نے پولیس کو بیان دیا ہے۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر سی سی پی او کا کہنا تھا کہ خدا کی قسم ہم پولیس والوں کو سزائیں دیں تاکہ ہم ٹھیک ہوں۔‘
یاد رہے کہ سی سی پی او لاہور نے گزشتہ ہفتے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: ’تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پیٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔‘
پیر کی صبح عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد سی سی پی او نے گورنر پنجاب محمد سرور سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی غلط مطلب نہیں تھا۔ ’اگر اس میں کوئی غلط فہمی ہوئی میری وجہ سے تو میں تہہ دل سے اپنی بہن سے، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، معذرت کرتا ہوں اور تمام ان طبقات سے جہاں یہ ایک رنج و غم اور غصے کی کیفیت ہے، ان سب سے میں معذرت چاہتا ہوں۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں نامزد دو ملزم اب پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد ملزم وقار کے سالے عباس نے شیخوپورہ میں گرفتاری دے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے بھی دعوی کیا ہے کہ اس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عباس سے تفتیش کے بعد اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا۔
اس سے قبل ملزم وقار اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے ہمراہ اتوار کی صبح لاہور کے ماڈل ٹاؤن تھانے میں پیش ہوا جہاں دیے گئے بیان میں اس نے کہا ہے کہ اس کا ریپ کے اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ وہ ماضی میں مرکزی ملزم کے ساتھ وارداتوں میں ملوث رہا ہے تاہم اس ریپ کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ موبائل نمبر جس کا ذکر پولیس حکام نے کیا اس کے زیر استعمال ہے۔