ججز مکمل آزاد اور دباؤ سے بالاتر نہ ہوں تو انصاف ممکن نہیں: چیف جسٹس
- سوموار 14 / ستمبر / 2020
- 3800
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ انصاف اس وقت تک فراہم نہیں کیا جاسکتا اور عوام کے بنیادی حقوق اس وقت تک محفوظ نہیں بنائے جاسکتے جب تک ججز مکمل طور پر آزاد نہ ہوں۔ اور ان پر کوئی بیرونی دباؤ نہ ہو۔
نئے عدالتی سال کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جج ہونا صرف اعزاز نہیں بلکہ انصاف دینے کی بھاری ذمہ داری ہے۔ ہر جج انصاف کرنے کا پابند ہے۔ آئین کا دیباچہ عدلیہ کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام ججز، اٹارنی جنرل، چئیرمین پاکستان بار کونسل، صدر سپریم کورٹ بار کونسل سمیت سینئر وکلا نے شرکت کی۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ انصاف نہ صرف کسی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے بلکہ قرآن و سنت کے مطابق اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے جس کا تصور قرآن و سنت میں دیا گیا ہے۔ انصاف صرف قانون کے مطابق عوام کے حقوق کا تعین نہیں بلکہ قانون کے سامنے مساوات یقینی بنانا ہے۔ قانون کے تحت رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ ہمارا آئین قانون میں مساوات اور قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف اس وقت تک فراہم نہیں کیا جاسکتا اور عوام کے بنیادی حقوق اس وقت تک محفوظ نہیں بنائے جاسکتے جب تک ججز مکمل آزاد اور کسی بیرونی دباؤ سے محفوظ نہ ہوں۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آئین عدلیہ کی آزادی کو مکمل طور محفوظ بنانے کا حکم دیتا ہے۔ آئین و قانون کے تحت کسی کو عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کیسز ختم ہونے میں تاخیر کا ایک سبب عدالتوں میں وکلا کا اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر نہ پہنچنا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے کیسز کی سماعت ای کورٹ کے ذریعے کی گئی۔ ابتدا میں ویڈیو لنک کی سہولت صرف کراچی رجسٹری میں تھی جسے تمام برانچ رجسٹری تک توسیع دے دی گئی ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں عدلیہ ہر سطح پر آئین کی بالادستی کو برقرا رکھنے، ہر حالت میں انصاف کو فروغ دینے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ نظام انصاف میں خامیوں کے باعث وائٹ کالر جرائم کا ارتکاب کرنے والے بچ نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے کہا کہ عدالتوں کو عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ سپریم کورٹ نے اب تک جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں بار اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی نظر ثانی درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی، جس پر وکلا برداری کو بہت تشویش ہے۔
عابد ساقی نے مطالبہ کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی سزا کے حوالے سے اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔