فوج کے خلاف بات کرنے پر سزا دی جائے گی، نیا قانونی مسودہ پیش کردیا گیا

  • جمعرات 17 / ستمبر / 2020
  • 8640

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے جس میں فوج اور ملکی اداروں کے خلاف بات کرنا جرم قرار دیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے ترمیمی بل  پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا ہے۔

بل میں تجویز دی گئی ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے اسے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اس ترمیم کا مقصد مسلح افواج کے خلاف ’نفرت انگیز اور گستاخ رویے کا سدباب کرنا ہے۔‘

بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ’مسلح افواج کے ادارے کی ساکھ کو گزند پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔‘  اس وقت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔ سیکشن 500 کے متن کے مطابق ’جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں فوج کے خلاف سوشل میڈیا ہر خیال ظاہر کرنے کے الزامات میں بعض صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سینیئر صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی  کے سابق چیئرمین ابصار عالم بھی شامل ہیں جن کے خلاف پنجاب پولیس نے پاکستان فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی۔

اس سے پہلے کراچی میں صحافی اور سماجی  ویب سائٹوں پر متحرک بلال فاروقی کے خلاف پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ حال ہی میں راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد علی طور کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مجوزہ قانون سے عین ممکن ہے کہ حکومت خاص طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے باقاعدہ طور پر ’ریڈ لائنز‘ واضح کرنا چاہتی ہے۔  بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور ڈان کے سابق ایڈیٹر محمد ضیا الدین کا کہنا ہے کہ آئین پہلے ہی عدلیہ اور فوج کے خلاف بیان یا تضحیک سے منع کرتا ہے تو ایسے میں اس طرح کا قانون متعارف کروانا بے معنی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی عامر ضیا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈا کو روکنا اظہارِ رائے پر قدغن نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا کوئی قانون آیا بھی تو اس سے اصل تنقید کا راستہ نہیں رکے گا۔ پروپیگنڈا کرنے اور کسی کے کردار کو بامعانی انداز میں زیرِ بحث لانے میں فرق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جملے بازی کی جاتی ہے۔ فوج کے کردار کے بارے میں جب بھی ایکیڈمک بات چیت ہو گی تو اسے روکا نہیں جاسکے گا۔