بھارت لداخ میں اپنی سرحدوں کا بھرپور دفاع کرے گا: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ

  • جمعرات 17 / ستمبر / 2020
  • 6890

بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں چاہے کتنے بھی بڑے یا سخت اقدامات اٹھانے پڑیں انڈیا پیچھے نہیں ہٹے گا۔

راج ناتھ سنگھ نے ایوان بالا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا نہ تو اپنے سر کو جھکنے دے گا اور نہ ہی کسی کا سر جھکانا چاہتا ہے۔ انڈیا ہر قسم کا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور فوج بھی پوری طرح تیار ہے۔ ’ہمارے فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا یہ سچ ہے کہ لداخ میں ہمیں ایک چیلنج کا سامنا ہے لیکن ہم اپنے ملک کا سر نہیں جھکنے دیں گے۔ ہمارے جوان چینی فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں۔ ایوان کو بھی ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ انڈیا کا خیال ہے کہ باہمی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں اور سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا ہم یہ دونوں کام کر سکتے ہیں۔ لیکن ایل اے سی پر امن کی کسی بھی سنگین صورتحال کا دو طرفہ تعلقات پر یقینی طور پر اثر پڑے گا۔ دونوں فریق کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے۔

موجودہ صورتحال پر وزیر دفاع نے  بتایا کہ 1993 اور  1996 کے معاہدوں کے مطابق دونوں ممالک کم از کم ایل اے سی کے پاس اپنی افواج کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔ معاہدے میں یہ بھی ہے کہ جب تک سرحدی تنازع کو مکمل طور پر حل نہیں کیا جاتا تب تک ایل اے سی کا سختی سے احترام کیا جائے گا اور کسی بھی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔

اس کی بنیاد پر 1990 سے  2003 تک دونوں ممالک نے ایل اے سی کے بارے میں مشترکہ تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بعد چین اس اقدام کو مزید آگے بڑھانے پر راضی نہیں ہوا۔ اس کی وجہ سے چین اور انڈیا کے درمیان بہت سی جگہوں پر ایل اے سی کے خیال پر مسلسل اوورلیپ رہتا ہے۔  وزیر دفاع نے کہا کہ اپریل کے مہینے سے چین نے لداخ کی سرحد پر فوج اور  ہتھیاروں اور فوجی سازو سامان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

مئی کے آغاز میں چین نے وادی گلوان میں ہمارے فوجیوں کے معمول کی گشت میں خلل ڈالنا شروع کیا۔ جس سے فیس آف کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ گراؤنڈ کمانڈر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف معاہدوں اور پروٹوکول کے تحت بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایل اے سی پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین کے فوجی کمانڈروں نے 6 جون 2020 کو ایک میٹنگ کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی کارروائی کی بنیاد پر ڈس انگیجمینٹ ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایل اے سی کو مانا جائے گا اور اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جو صورتحال کو بدل دے۔

راج ناتھ کا تھا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے 15 جون کو گلوان میں پُرتشدد حالات پیدا کر دیے۔ ہمارے جوان ہلاک ہوئے اور چین کو بھی بہت نقصان پہنچا اور ہم اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب ہو گئے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جہاں بہادری کی ضرورت تھی وہاں بہادری کا مظاہرہ بھی کیا۔

بھارتی وزیر دفاع  نے کہا کہ کسی کو بھی سرحد کی سلامتی کے لئے  ہمارے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن انڈیا یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات میں بھی باہمی احترام اور حساسیت ہونی چاہیے۔ ہم موجودہ صورتحال کا بات چیت سےحل تلاش کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے چین کے ساتھ سفارتی اور فوجی رابطے برقرار رکھے ہیں۔