جنسی زیادتی پر سوال اٹھانے والوں کے دفاع میں وزرا سامنے آ جاتے ہیں: بلاول
- جمعرات 17 / ستمبر / 2020
- 5580
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے موٹر وے پر ریپ کے حادثے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاتون کا تحفظ جن کی ذمے داری ہے وہ ریپ کرنے والوں کے بجائے متاثرہ خاتون پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ زندگی میں ہر کسی سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر حملے بھی ہوتے ہیں، میڈیا پر ہماری کردار کشی ہوتی ہے، ہمارے شہیدوں کی کردار کشی کی جاتی ہے لیکن ہم اپنے موقف اور منشور پر قائم ہیں۔ کبھی کبھار ہم کامیاب ہوتے ہیں، کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہار جیت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن محنت ہمارے سیاسی کارکنوں نے کی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جو چھوٹی موٹی جمہوریت رہی ہے، جو تھوڑی بہت میڈیا کو آزادی میسر ہے، جو میرے مزدور کا محض کاغذ پر ہی صحیح لیکن قانون تو موجود ہے اور وہ انہی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔آج پاکستان ایک ایسے وقت سے گزر رہا ہے کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم مدینہ کی ریاست میں ہیں لیکن اس مدینہ ریاست کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے سب سے مشہور موٹر وے پر ایک عورت کا اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کیا جاتا ہے۔
اس عورت کو تحفظ دینا جن کی ذمے داری ہے اور جن کی ذمے داری تمام عورتوں کو یہ باور کرانا ہے کہ آپ کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے، وہ ریپ کرنے والے پر نہیں بلکہ متاثرہ خاتون پر سوال اٹھاتے ہیں۔ جو لوگ ریپ کی متاثرہ خاتون پر سوال اٹھاتے ہیں، ان کے دفاع میں اس ملک کے وزیر اور وزیر اعظم سامنے آ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا یہ حال ہے کہ ملک بھر میں اس وقت سیلاب متاثرین ہیں۔ صوبہ سندھ میں 25لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے گھر اور 1.8ملین ایکڑ فصل تباہ ہو چکی ہے۔ بلوچستان میں بھی بارشوں اور سیلاب کے متاثرین موجود ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن، سوات اور خیبر پختونخوا میں سیلاب کے متاثرین موجود ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی متاثرین ہیں لیکن ہمارے مین اسٹریم میڈیا میں ان کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں ہے۔