سید آلِ عمران: ایک ستارہ جو ڈوب گیا
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعرات 17 / ستمبر / 2020
- 15920
کرونا کی اس خونی وبا نے کئی مشہور و معروف اور ہر دلعزیز شخصیات کو ہم سے ہمیشہ کے جدا کر دیا ہے۔ایسی ہی ایک نابغہ روزگار شخصیت سید آل عمران کی بھی تھی جو جواں سالی میں رُخصت ہو کر اپنے بے شمار چاہنے والوں کو سوگوار کر گئے۔
وہ کیا گئے خطہ پوٹھوہار کا ایک روشن ستارہ ڈوب گیا۔ایسے لگتا ہے کہ گوجرخان اور پوٹھوہار کی ادبی اور سماجی رونقیں روٹھ گئی ہیں۔کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے چلے جانے سے خلا سا محسوس ہوتا ہے اور ان کی کمی ہر خاص و عام میں مدتوں محسوس ہوتی ہے۔ سید آل عمران ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کی رحلت پر ادبی، صحافتی، سیاسی اور سیاسی حلقوں نے جس دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے وہ ان کی ہر دلعزیزی کا ثبوت اور ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
سید آل عمران پی ٹی وی، کے ٹو اور دیگر کئی اہم ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے اینکر، شاعر، ادیب، محقق اور دانشور تھے۔ پندرہ کتابوں کے مصنف، سماجی اور ادبی تنظیموں کے خالق اور پوٹھوہاری زبان و ادب کے عمل بردار تھے۔ اگرچہ انہوں نے اُردو میں بھی پروگرام کیے اور کتابیں بھی لکھیں لیکن ان کا محور و مرکز اپنی ماں بولی پوٹھوہاری اور پوٹھوہار کی تہذیب و تمدن تھا۔پوٹھوہاری زبان کو انہوں حیاتِ نو عطا کی اور اس خطے کے ادبیوں، شاعروں اور فنکاروں کی بے پناہ حوصلہ افزائی کی۔سید آل عمران کو پوٹھوہاری زبان و ادب کا عالم اور اس زبان کی ڈکشنری کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ انہوں نے پوٹھوہاری میں کئی خوبصورت لفظوں کا اضافہ بھی کیا اور اسے مقبول ِ عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ نظم پوٹھوہاری شعرو ادب میں د لکش و رنگین اضافہ ہے:
اَکھیاں نے پار اِک گھار سا، خورے کدھر گیا
ہک سدھراں نا دربار سا،خورے کدھر گیا
پچھلی دو دہائیوں سے سید آل عمران کو پوٹھوہار کا سماجی و ادبی دل قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انہوں نے زبان، ادب، فن اور تہذیب و تمدن کی مختلف اصناف کی ترقی و ترویج کے لیے اتنا زیادہ اور اتنی جہتوں پر کام کیا ہے کہ انہیں ادارہ بلکہ کئی ادارے کہنا مناسب ہو گا۔ایک شخص کے چلے جانے سے یہ تمام ادارے بیک وقت سرد پڑ گئے ہیں۔ یہ کمی شاید ہی کبھی پوری ہو۔سید آل عمران کا دل محبت سے لبریز تھا۔ وہ محبت اور دوستی بانٹنے کے لیے ہمہ دم تیار رہتے تھے ۔ان کی دوستی اور محبت سے مستفید ہونے والے پوری دنیا میں پھیلے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں میں ان کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد ہوئے۔
سید آل عمران کے احترامِ انسانیت اور فن کی ایک دنیا معترف تھی۔ لوگ دل سے ان کی عزت کرتے تھے۔ میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں جہاں بھی ان کے ساتھ گیا ہر جگہ بڑی سے بڑی شخصیت نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ ہم سابق وزیرِ اعظم راجا پرویز اشرف کے گھر گئے تو وہاں درجنوں لوگ براجمان تھے جن میں کئی سینیٹر اور پارلیمنٹ کے ممبر بھی تھے۔ لیکن راجا صاحب نے سب کو چھوڑ کر ہمیں خصوصی وقت دیا۔ دیر تک گفتگو کی اور نہایت تپاک سے رخصت کرنے باہر تک آئے۔یہ سیدآل عمران کی شخصیت کا کرشمہ تھا۔وہ دردِ دل رکھنے والے اور غریبوں کے مددگار تھے۔ کرونا کا شکار ہونے سے چند دن قبل انہوں نے راولپنڈی میں میرے چھوٹے بھائی خالد مرزاسے رابطہ کیا اور الخدمت کے ذریعے کچھ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی درخواست کی۔اس سے ان کی انسان دوستی عیاں ہے۔
سید آل عمران گوجرخان کا سپوت تھا۔اس مردم خیز خطے کے سپوتوں نے پوٹھوہاری زبان وادب کو پروان چڑھانے میں ہمیشہ اہم کردار کیا ہے۔ان کے چلے جانے سے گوجرخان کی محفلوں کی رونق جاتی رہی۔ گوجرخان کا یہ سپوت اور خطہ پوٹھوہار کی یہ ترجمان آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے۔
سید آل عمران سے میری دوستی اور رشتہ ِمحبت ادب کی مشترکہ بنیاد پر استوار ہوا۔غالباً 2010 میں میری بعض ادبی اور صحافتی تحاریر ان کی نظرسے گزریں تو انہوں نے ازراہِ محبت خود مجھ سے رابطہ کیا۔ تعریف و توصیف سے میری حوصلہ افزائی کی۔ جبکہ میں پہلے سے ہی انہیں پوٹھوہاری زبان کے ٹی وی اینکر کی حیثیت سے جانتا اور مانتا تھا۔شہیدوں کی سرزمین گوجرخان کی مٹی کی مشترکہ خوشبو بھی ہماری دوستی کی معاون بنی۔اس کے بعد آسٹریلیا اور پاکستان کے طویل فاصلے بھی ہمارے درمیان حائل نہ ہوسکے بلکہ باہمی محبت و احترام کا یہ شجر پروان چڑھتا چلا گیا۔میں جب بھی پاکستان جاتاان سے کئی ملاقاتیں ہوتیں۔ انہوں نے کے ٹو اور لاہور ٹی وی کے لیے میرے کئی انٹرویو بھی لیے۔
2018 میں اکادمی ادبیات پاکستان میں میری رُودادِ حج ’سفرِ عشقِ‘ کی تقریب رونمائی کا اہتمام بھی ان کی تنظیم نے کیا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے متعدد انداز و اطوار سے اپنی محبت، ادب دوستی اور عنایات کا سلسلہ جاری رکھا۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے ایک پنج سورہ شائع کروایا تو تو ازراہِ محبت میرے مرحوم والد صاحب اور بھائی صاحب کا نام بھی طالبانِ دُعا میں درج کروایا۔اسی طرح اپنی کتاب تاریخِ پوٹھوہار میں میرے خاندان کا نہایت عزت و احترام سے ذکر کیا۔وہ مسلسل مجھے اور میرے خاندان کو اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازتے رہتے تھے۔ دُعاؤں کا یہ سلسلہ ان کی رحلت کے ساتھ ٹوٹ گیا ہے جس کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔پچھلے چند برسوں سے وہ گردوں کے مرض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ہم سب ان کے لیے فکر مند تھے۔ گزشتہ برس گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے امتحان میں تو وہ سرخرو ہو ئے مگر ابھی اس پیچیدہ علاج کے مضمرات سے نکلے نہیں تھے کہ عالم گیر وبا کرونا کے مرض میں مبتلا ہو گئے جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے اور پچیس جون 2020 کے دن راہی ملک عدم ہوئے۔اس وقت ان کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔
سید آل عمران کی رحلت کی خبر راولپنڈی اسلام آباد اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کے دلوں پر برق بن کر گری۔ اس وقت تک مجھے علم نہیں تھا کہ ان کے چاہنے اور ماننے والے ہر طبقہ فکر میں اتنی بڑی تعداد موجود ہیں۔لیکن ان کی موت نے ان کی محبتوں کے سلسلے ہر سو ظاہر کرنے شروع کر دیے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام اخبارات نے ان کی رحلت کی خبر نمایاں انداز میں شائع کی۔ ان کے لیے قومی اخبارات میں خصوصی کالم شائع ہوئے۔دنیا بھر سے ان کے دوست احباب نے سماجی رابطوں پر جس طرح رنج و غم کا اظہار کیا۔ اس سے ان کی ہر دلعزیزی واضح ہوتی ہے۔ ان کی ناگہانی موت کی خبر نے مجھے اتنا رنجیدہ کیا کہ کئی روز تک سنبھل نہیں سکا۔کئی دفعہ قلم اٹھا کر کچھ لکھنے کی کوشش کی لیکن دل کا غبار آنکھوں میں بھر آیا اور قلم رکھنا پڑا۔ اپنے اس عظیم دوست کی محبتوں کا قرض میرے اوپر واجب تھا۔ یوں تو ایسے قرض کبھی ادا نہیں ہوتے مگر محبتو ں کے اس ذکر سے دل کا غبار قدرے ہلکا ہوا ہے۔جلد یا بدیر مرنا تو ہر شخص نے ہے لیکن اپنی مختصر زندگی میں اتنی محبتیں، اتنی دُعائیں اور اتنی نیک نامیاں سمیٹ کر رُخصت ہونا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ سید آل عمران وہ خوش قسمت شخص ہیں جنہیں اتنے بے شمار لوگوں کی محبت، عقیدت اور دُعائیں نصیب ہوئیں۔ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں ہوں گی۔درحقیقت وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔