پاکستان کو ریکوڈک جرمانے پر مستقل حکم امتناع مل گیا

  • جمعہ 18 / ستمبر / 2020
  • 6050

ریکوڈک معاملے پر انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ) میں پاکستان  کو 6 ارب ڈالر کے جرمانے پر مستقل حکم امتناع دیا گیا ہے۔ اسے پاکستان کی قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی کہا جارہا ہے۔ 

اٹارنی جنرل آفس کے مطابق انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ) نے بلوچستان میں آسٹریلوی کمپنی بارک گولڈ اور چلی کی کمپنی اینٹو فگاسٹا کی مشترکہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کو بلوچستان میں ریکوڈک کے علاقے میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی مائننگ لیز منسوخ کرنے پر پاکستان پر جولائی 2019 میں 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔  پاکستان نے اکسڈ کے اس فیصلے کے خلاف نومبر 2019 میں اپیل داخل کی جس پر جرمانے کی ادائیگی کے خلاف عبوری حکم امتناع جاری ہوا تھا۔

6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر اکسڈ نے آسٹریلوی اور چِلی کی کمپنیوں کو 6 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی پر عمل درآمد روکنے کا مستقل حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔  اٹارنی جنرل آفس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف جرمانے کو کالعدم قرار دینے اور عبوری حکم امتناع کو مستقل کرنے کے لیے پاکستان کی اپیل پر 20 اپریل 2020 کو وڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی اور 16ستمبر کو اکسڈ نے مستقل حکم امتناع جاری کرنے کا فیصلہ دیا۔

اٹارنی جنرل آفس کے مطابق ریکوڈک معاملے پر حتمی سماعت اب مئی 2021میں ہوگی۔ واضح رہے اکسڈ کی طرف سے پاکستان کے خلاف 6 ارب ڈالر جرمانے کی رقم آئی ایم ایف کے پاکستان کے لیے بیل آؤٹ پیکج کے مساوی ہے۔

 اٹارنی جنرل آفس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں اکسڈ کا مستقل حکم امتناع پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ہے۔