کنڈکٹ کو دیکھیں تو سب وزیروں کو استعفیٰ دینا چاہیے: اسلام آباد ہائی کورٹ
- جمعہ 18 / ستمبر / 2020
- 6400
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کنڈکٹ کو دیکھیں تو اس وقت سارے پاکستان کے وزرا کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ تیزگام کی شفاف تحقیقات اور معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سانحہ تیزگام کی شفاف تحقیقات اور معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
یاد رہے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی اور آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 74 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے تھے۔
آج جیورسٹ فاؤنڈیشن کی دائر کردہ اس درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو وزرات داخلہ اور ریلوے کی جانب سے سانحہ تیزگام سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں 15 افراد کو سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں 5 ہیڈکانسٹیبلز کو سانحے کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا گیا جبکہ 19ویں گریڈ کے ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی، ڈویژنل کمرشل آفیسر کراچی، ایس ایچ او حیدرآباد اور خانپور غفلت کے مرتکب قرار دیے گئے۔
اس کے علاوہ ریزرویشن سپروائزر پر بھی بے ضابطگی کی ذمہ داری عائد کی گئی۔ دیگر لوگ بھی براہ راست ذمہ دار یا واقعے میں غفلت کے مرتکب قرار دیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ تمام ذمہ داران کے خلاف ضابطے کی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
رپورٹ کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وزارت داخلہ اور ریلوے الگ الگ انکوائری کر رہے ہیں۔ ایک کیس کی دوسری ایف آئی آر کیسے ہوسکتی ہے؟ کیا ان حالات میں کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا جاسکتا ہے؟ سماعت میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اگر وزیر ریلوے کا کنڈکٹ دیکھیں تو ان کا استعفیٰ تو بنتا ہے۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ کنڈکٹ کو دیکھیں تو اس وقت سارے پاکستان کے وزرا کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اس پر عدالت میں موجود وکیل ریلوے نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جن کے ڈی این اے میچ ہوئے انہیں ہم نے ادائیگی کر دی ہے۔ زخمیوں کو 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کی ادائیگی کی گئی ہے۔ ریلوے نے ان سب کی ادائیگی کر دی جن کا معاوضہ بنتا تھا۔
وکیل ریلوے نے کہا کہ اب ہر جگہ اسکینرز لگے ہیں کسی کو غیر متعلقہ چیزیں لے جانے کی اجازت نہیں۔ اس پر مخالف وکیل حنیف راہی کا کہنا تھا کہ یہ بات کبھی نہ کبھی سامنے آئے گی کہ آیا کوئی دہشت گردی ہوئی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی مذہبی منافرت ہوئی کیونکہ وہاں بوگی مذہبی جماعت ہی کی تھی۔
عدالت میں سماعت کے دوران موٹروے گینگ ریپ کا بھی ذکر ہوا جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ موٹروے واقعے پر سارا ٹرائل میڈیا پر چل رہا ہے۔ جس کا کام ہے اسی کو سونپا جائے تو بہتر ہے۔ اس میں احتیاط برتنی چاہیے۔ چیزیں جس طرح ہائی لائٹ ہوتی ہیں اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ وسیع تر مفاد میں سانحے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے سانحہ تیز گام کی شفاف تحقیقات اور معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔