امریکی سپریم کورٹ کی جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ انتقال کر گئیں

  • ہفتہ 19 / ستمبر / 2020
  • 5560

امریکہ کی سپریم کورٹ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ 87 سال کی عمر میں جمعے کے روز چل بسیں۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔

گنزبرگ کا شمار ایک باہمت، پرعزم، آزاد خیال اور خواتین کے حقوق کی علم بردار کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گنزبرگ کا انتقال واشنگٹن میں اپنے گھر میں ہوا۔ انتقال کے وقت ان کے خاندان کے افراد ان کے پاس موجود تھے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری قوم ایک تاریخی قد و قامت کی حامل جج سے محروم ہو گئی ہے۔

گنزبرگ 1993 سے سپریم کورٹ میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا انتقال کینسر سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہوا۔ انہوں نے جولائی میں کہا تھا کہ جگر کے علاج کے لیے وہ کیموتھراپی کرا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انہیں صحت سے متعلق کئی مسائل کا سامنا تھا۔

گنزبرگ کے شوہر کا انتقال 2010 میں ہو گیا تھا۔ ان کے دو بچے جین اور جیمز اور کئی پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔ گنزبرگ 1933 میں نیویارک میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1959 میں کولمبیا لا اسکول سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نیویارک میں ملازمت شروع کی۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ مردوں کے معاشرے میں خواتین کے لیے ملازمت حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔

انہوں نے 1972 میں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام شروع کیا جس میں انہیں بہت پذیرائی ملی۔ گنزبرگ کے انتقال سے ایک اور سیاسی جنگ کو بھی ہوا مل سکتی ہے۔ سوال ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کو ان کی جگہ کسی کو نامزد کر کے ری پبلکن پارٹی کی اکثریت رکھنے والی سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یا اس نشست پر تعیناتی کا معاملہ انتخابات کے نتائج تک مؤخر کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں اس وقت قدامت پسند نظریات کے حامل ججوں کو چار کے مقابلے میں پانچ کی برتری حاصل ہے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔