حکومتی ترجمان نے اپوزیشن کانفرنس کو ’آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن‘ قرار دیا

  • اتوار 20 / ستمبر / 2020
  • 8680

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے آج اسلام آباد میں  اپوزیشن جماعتوں کی کثیر الجماعتی کانفرنس کو ’آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن‘ قرار دیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ آج پھر پیپلز پارٹی کے زیر قیادت 'آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن' اکٹھی ہورہی ہے۔  میں اپنی پریس کانفرنس میں اپوزیشن کا ماضی پیش کروں گا جس کی وجہ سے اپوزیشن کو 5 اے پی سیز کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے مالیت کے اثاثے بنانے والے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف دست و گریباں تھے اور ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں بولتے تھے۔

شہباز گِل نے دعویٰ کیا کہ کثیر الجماعتی کانفرنس کا مقصد صرف این آر او ہے اپوزیشن جماعتیں مل کراین ار او مانگ رہی ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ ’جب سارے چور اکٹھے ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ شہر میں کوئی ایماندار تھانیدار آگیا ہے‘۔  کانفرنس میں شریک ہونے والے افراد کی لسٹ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تھانے سے مطلوبہ افراد کی لسٹ نکلی جس میں سب سے اوپر سب بڑے چور کا نام ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں چند سیٹیں بھی نہیں ہیں، مسلم لیگ (ن) جو خود کو پنجاب کا فرعون سمجھ چکی تھی اور دوسری سیاسی پارٹیوں کا مزاق اڑاتی تھی آج پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بارگاہ میں موجود ہے۔  سابق صدر آصف علی زرداری کہتے تھے جب بھی مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو حکومت ملی ملک کنگال ہوگیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اپوزیشن کو منی لانڈرنگ کے قانون سازی پر اتنا مسئلہ کیوں ہے کیونکہ مسئلہ تو ان لوگوں کو ہوتا ہے جو اسمگلر ہو یا کرپٹ ہوں۔

شبہاز گِل نے 2011 میں نواز شریف کا پیپلز پارٹی کے خلاف جاری بیان پڑھ کر سنایا۔  پھر شہباز گِل نے سابق صدر آصف علی زرداری کے نواز شریف کے خلاف دیے گئے بیان پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے متعدد کیسز اور منی لانڈرنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ ہماری حکومتوں سے زیادہ پی ٹی آئی کی حکومت نے قرضہ لیا۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ 'گزشتہ ادوار میں سود پر حاصل کرنے والے قرضوں کی ادائیگی میں ہمیں قرضہ لینا پڑا یعنی یہ قرضہ سابقہ حکومت کے سود کو اتارنے کے لیے حاصل کیے گئے'۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چئیرپرسن بلاول بھٹو نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ: ’آج اپوزیشن جماعتیں حکومت سے جواب طلبی کے لیے اس کے خلاف یکجا ہو رہی ہیں۔‘  دو برس تک چلنے والا یہ سلیکٹڈ تجربہ پاکستان، اس کے شہریوں، جمہوریت، معیشت اور خارجہ پالیسی کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔