ہماری جد و جہد عمران نہیں، انہیں لانے والوں کے خلاف ہے: نواز شریف
- اتوار 20 / ستمبر / 2020
- 4730
مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی جدوجہد پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم یوسف گیلانی نے کہا تھا ’ملک میں ریاست کے اندر ریاست ہے‘۔ لیکن اب معاملہ ریاست سے بالاتر ریاست تک پہنچ گیا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت کمزور ہو گئی ہے اور عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو ان کے خلاف سازش ہوتی ہے۔ قومی سلامتی کے خلاف نشان دہی کرنے پر غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اس اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ سمجھتے ہیں اور ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مصلحت چھوڑ کر فیصلے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بےباک فیصلے کریں۔ آج نہیں کریں گے تو کب کریں گے۔ پاکستان کو ہمیشہ جمہوری نظام سے محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں۔ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے۔ جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔ انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا، کس کو جتانا ہے۔ کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ پاکستان کو ایسے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر کوئی حکومت بن بھی گئی تو اسے پہلے بے اثر پھر فارغ کر دیا جاتا ہے۔ بچے بچے کی زبان پر ہوتا ہے کہ ایک بار بھی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اور جیلوں میں ہیں لیکن کیا کبھی کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟
انہوں نے مزید کہا کہ ڈکٹیٹر کو بڑے سے بڑے جرم پر کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا، کیا کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی، کارروائی ہوئی، سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا؟ ہمیں اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا۔ یہ ٹرینڈ آصف زرداری صاحب نے سیٹ کیا ہے اسی کو لے کر جانا ہو گا۔ 72 برس سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے کہ پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی رائے جمہوریت کی بنیاد ہے۔ دنیا بھر میں یہی اصول ہے۔ جب جمہوریت کی بنیاد پر ضرب لگتی ہے تو سارا نظام جعلی ہو کر رہ جاتا ہے۔ حکومت بن بھی جائے تو سازش سے اسے بے اثر اور پھر فارغ کر دیا جاتا ہے۔ ریاستی ڈھانچہ اس سے کمزور ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
نواز شریف نے اپنے خطاب میں آصف زرداری کا شکریہ بھی ادا کیا اور ان کی صحت کے لیے دعا کی۔ان کا کہنا تھا 'محترم آصف زرداری صاحب اللہ آپ کو بھی صحت عطا کرے۔ میری دعائیں آپ کے لیے اور بلاول کے لیے ہیں۔ ان سے پرسوں بات کر کے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے بہت پیار محبت سے بات کی۔ میں اس میں کانفرنس کے میزبانوں کا شکر گزار ہوں کہ مجھے اس کانفرنس میں اپنی بات کہنے کا موقع دیا‘۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ: ’وقت آگیا ہے کہ ان سوالوں کے جواب لیے جائیں۔ دو وزیر اعظم موجود ہیں وہ جانتے ہیں کہ سول حکومت کے گرد کس طرح کی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ ایسی کارروائیاں ہوتی ہیں جو وزیر اعظم یا صدر کو علم نہیں ہوتا۔ ان کارروائیوں کی بھاری قیمت ریاست کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ اکتوبر 2016 میں قومی سلامتی کے امور پر بحث کے دوران توجہ دلائی گئی کہ دوستوں سمیت دنیا کو ہم سے شکایت ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ دنیا ہم پر انگلی نہ اٹھائے۔ اسے ڈان لیکس کا نام دیا اور ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جے آئی ٹی بنی اور مجھے غدار اور ملک دشمن بنا دیا گیا۔
نواز شریف نے کہا کہ سی پیک کو ناکام بنانے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب چینی صدر کا دورہ منسوخ کرایا گیا۔ چین ہمارا دوست ہے۔ صدر شی جن پنگ کا کردار باعث تعریف ہے۔ لیکن یہ منصوبہ نااہلی کا شکار ہورہا ہے۔ سی پیک کے ساتھ پشاور بی آر ٹی جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ کبھی بسوں میں آگ تو کبھی بارش پول کھول دیتی ہے۔
نواز شریف نے اعتراف کیا کہ آمر کے بنائے ادارے نیب کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی۔ یہ اندھے حکومتی انتقام کا آلہ کار بن چکا ہے۔ اس ادارے کے چیئرمین جاوید اقبال کے خلاف شکایت پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا، نہ عمران خان کے کان پر کوئی جوں رینگتی ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بہت جلد انشا اللہ ان سب کا یوم حساب آئے گا۔ بین الاقوامی ادارے اور ہماری عدالتیں اس کے کردار کو بیان کر چکی ہیں۔ یہ ادارہ اپنا جواز کھو چکا ہے۔ اپوزیشن کے لوگ اس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور گھر کی خواتین کے ساتھ نیب کے دفتروں اور جیلوں میں خوار ہوتے ہیں۔ نیب نہیں تو انہیں ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس کے ہتھے چڑھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں انتخابات سے قبل ایک سازش کی گئی جس کے تحت بلوچستان کی صوبائی حکومت گِرا دی گئی۔
نواز شریف نے چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے اثاثوں پر سوال اٹھائے۔ 'نہ کوئی جے آئی ٹی بنی نہ کوئی احتساب نہ کوئی سزا۔ عمران خان نے بھی ان کے اثاثوں کا نہیں پوچھا اور ایمانداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا۔'
انہوں نے خطاب میں ملکی اداروں سے سوال کیا کہ ’کیا بنی گالہ کی فائل ایسے ہی بند رہے گی۔ ہم کب تک انتظار کریں گے۔ کیا ان لوگوں پر کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں ہوگا۔ عمران خان نے اربوں کے اثاثے رکھتے ہوئے بھی اتنا کم ٹیکس ادا کیا ہے۔ کیا نیب اس پر کوئی ایکشن نہیں لے گا؟ کیا کچھ لوگ آگے بھی سزائیں پاتے رہیں گے اور کچھ لوگ ایمانداری کے سرٹیفیکیٹ پاتے رہیں گے۔ کیا ہم ایسا پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ میں تو کہوں گا کبھی بھی نہیں‘۔
’ایجنسیوں کی جانب سے لوگوں کو اٹھانا، میڈیا کے نمائندوں کو بے بنیاد مقدمات میں نامزد کر دینا کیا، یہ جمہوری معاشرے کی نشانیاں ہیں؟ ہم میڈیا پر کوئی قدغن منظور نہیں کریں گے۔‘ جمہوریت کو کمزور کرنے لیے 'لڑاؤ اور حکومت کرو' کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سیاستدانوں کو بلایا، ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا۔ یہ طریقہ آج بھی استعمال ہوتا ہے۔ محکمہ زراعت کو تو آپ سمجھتے ہی ہیں۔ ہم تقسیم نہیں ہوتے تو یہ کانفرنس کامیاب ہوگی۔ وکلا، دانشوروں، میڈیا اور عدلیہ کے لیے بھی یہ طریقہ استعمال ہو رہا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ اور شوکت عزیز صدیقی دونوں جج ایماندار ہیں اور انتقام کا شکار ہو رہے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ’یہاں ایماندار نہیں بلکہ ایسے لوگ استعمال کیے جاتے ہیں جن کے ساتھ نظریہ ضرورت بنایا جائے۔ یہ تماشا آپ نے دیکھا ہے اور عوام کے منتخب وزیراعظم کو پھانسی، جلا وطن اور سزا دے کر ان کے خاندان کو ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کو جامع لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔ اس وقت اولین ترجیح اس نظام سے نجات حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے۔ ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے اور ان کے خلاف ہے جنہوں نے نااہل بندے کو لا کر بٹھایا ہے۔ یہ تبدیلی عمل میں نہ آئی تو یہ نااہل اور ظالمانہ نظام ملک کو کمزور کر دے گا۔ مضبوط معاشی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ ہماری قومی سلامتی کے لیے ضرورت ہے کہ معیشت کے ساتھ مسلح افواج کو بھی مضبوط بنائیں۔ آئندہ بھی ترجیح رہے گی کہ ضروری ہے کہ مسلح افواج قائد اعظم کی تقریر کے مطابق سیاست سے دور رہیں۔ کسی کے کہنے پر وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہو کر وزیر اعظم کو گرفتار نہ کرے۔ وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے اور مجھے دکھ ہوتا ہے۔ ملک کو تماشا بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اے پی سی جو بھی لائحہ عمل تشکیل دے گی مسلم لیگ (ن) اس میں بھرپور ساتھ دے گی اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ٹھوس اقدامات تجویز کیے جائیں۔ ہمارے کئی دوست جیلوں میں ہیں۔ ان کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔ میں آپ سب قائدین کا شکر گزار ہوں۔
نواز شریف کے خطاب سے قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اے پی سی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انشا اللہ ان (نواز شریف) کی صحت بہتر ہو جائے گی اور وہ ہم سب میں ہوں گے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ اے پی سی بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ اس اے پی سی کے خلاف جو ہتھکنڈے حکومت استعمال کر رہی ہے وہی اس کی کامیابی ہے۔
حکومت کی جانب سے نواز شریف اور آصف زرداری کی تقاریر نشر نہ کرنے کے اعلانات پر ردعمل دیتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کو دکھایا جا سکتا ہے، مگر میرے انٹرویو پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ ان ہمیں پیمرا کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں ہیں۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب سے سیاست میں ہیں کبھی ایسے نہیں دیکھا۔ یہ سب ان کی کمزوریوں کی نشانی ہے۔ آج کل میڈیا پر پابندی ناممکن ہے لیکن کسی آواز کو کوئی روک نہیں سکتا۔ مریم نواز کو اے پی سی میں خوش آمدید کہتے ہوئے آصف زرداری نے کہا ’مجھے خوشی ہے کہ مریم بی بی بھی یہاں ہیں۔ وہ میاں صاحب کی اور قوم کی بیٹی ہیں۔ میری اپنی بہن، بیوی جیل جا چکی ہیں۔ انہوں نے بھی تکلیف سے وقت گزارا میں انہیں سلام کرتا ہوں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم آپ کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘
آصف زرداری کہا کہ اس تقریب کے بعد پہلا بندہ میں ہی جیل میں ہوں گا۔ مولانا صاحب آپ ضرور ملنے آئیے گا۔ یہ لوگ اوپر سے آ کر ہم پر قابض ہو گئے ہیں۔ ہم انہیں حکومت سے نکال کر جمہوریت بحال کر کے رہیں گے۔ ہم نے ان سے پاکستان کو بچانا ہے۔