ٹرمپ کا ’جزیرہ نما‘ فلسطینی ریاست کا تصور

امریکی صدرٹرمپ اپنی آئندہ  صدراتی کرسی بچانے کیلئے سرگرم ہیں اور ہر محاذ پر اپنی جیت کے لئے کوشاں ہیں جن میں سب سے  بڑا محاذ فلسطین یعنی ’جزیرہ نما‘ فلسطینی ریاست کا تصور ہے۔یہ سلسلہ رواں سال جنوری شروع کیا گیا۔

جنوری 2020کے آخری  ہفتے میں قابض صیہونی ریاست کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کی شام اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تیار کردہ امن فارمولے ’صدی کی ڈیل‘ کے مطابق جس فلسطینی ریاست کی تجویز شامل کی گئی ہے اس کا دارالحکومت بیت المقدس کا نواحی علاقہ ’ابو دیس‘ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ اتوار کے روز اسرائیلی حکومت غرب اردن میں قائم یہودی کالونیوں پر اپنی خود مختاری کے لیے رائے شماری کروائے گی۔نیتن یاہو کی موجودگی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی کے لیے اپنے مزعومہ منصوبے کے اہم خدو خال کا اعلان کیا۔ اس موقعے پر انہوں نے فلسطینیوں کے لیے ایک ریاست کا بھی تصور پیش کیا جس کا نقشہ کچھ ایسا ہے جیسے سمندر کا ایک ٹکڑا ہو جس میں کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے ہوں اور ہر جزیرہ دوسرے سے الگ ہو۔

 اس طرح اس ریاست سے کئی کلو میٹر دور اس کا دارالحکومت ہوگا۔ عرف عام میں ایسی ریاست کو

Archipelago

کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں یا جزیروں پر مشتمل علاقہ۔منگل کو ٹرمپ نے اپنے منصوبے کے اعلان کے بعد جو نقشہ ٹویٹر پر شائع کیا ہے اس کے مطابق  1967 سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کے ارد گرد اور یا ان کے درمیان مستقبل کی فلسطینی ریاست’جزیرہ نما‘کے طور پر نمودار ہوگی۔ اسرائیلی میڈیا، بشمول یدیعوت آحرونوت اور معاریو اخبارات نے اس منصوبے کے کچھ پہلو شائع کیے ہیں جنہیں فلسطینیوں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔

منصوبے کی سب سے نمایاں پہلو۔ 1۔مشرقی بیت المقدس میں چار مربع کلو میٹر کا علاقہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔2۔فوری طور پر اسرائیلی خودمختاری کو وادی اردن سمیت مغربی کنارے کے 30 فیصد پر مسلط کیا جائے گا۔3۔غزہ کی پٹی میں حماس کے ہتھیاروں کو ختم کیا جائے گا۔ غزہ کو بغاوت کا زون قرار دیا۔4۔فلسطین  اسرائیل کویہودی ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا پابند بنایا گیا۔5۔تمام یہودی بستیاں جوں کی توں برقرار رہیں گی انہیں خالی نہیں کیا جائے گا۔6۔مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا متحدہ دارالحکومت ہوگا۔7۔القدس کی تاریخی دیوار سے باہر جو کچھ بھی ہے وہ فلسطینی سرزمین ہے۔8۔پناہ گزینوں کو اسرائیلی سرحدوں سے باہر رکھا جائے گا۔9۔فلسطینی پناہ گزینوں کو بعد میں فلسطینی ریاست میں واپس لایا جا سکتا ہے۔9۔مہاجرین کو معاوضہ دینے کے لئے فنڈ قائم کرنے کی تجویز۔10۔فلسطینیوں کودہشت گردی کے خلاف کام کرنے اور اشتعال انگیزی  سے روکا جائے گا۔11۔فلسطینی ریاست میں مغربی کنارے کو غزہ کی پٹی سے مربوط کرنے کے لیے سڑکیں اور سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔11۔چار سال تک فلسطینی ریاست  عبوری

انداز میں کام کرے گی۔ اس دوران فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان فلسطینی ریاست کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔12۔خلیجی ممالک کی مالی مدد سے 50 ارب ڈالر  فلسطینی ریاست کے  منصوبے پر صرف کیے جائیں گے۔13۔مشرقی یروشلم کے مقدس علاقوں میں  موجودہ صورت حال  برقرار  رہے گی۔14۔صحرائے نقب کا علاقہ فلسطینیوں کو دینے اور اسے فلسطینی ریاست میں شامل  کرنے کی تجویز۔

اسرائیل کو کیا فائدہ پہنچے گا؟۔1۔یہودی آباد کاروں پر فوجی انتظامیہ کو ہٹا دیا جائے گا۔2۔ فوری طور پر غرب اردن کے 30 فی صد علاقے پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کی جائے گی۔3۔تمام یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔4۔اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں ہر اقدام کو امریکا ویٹو کرائے گا۔5۔پورے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعادہ۔6۔فلسطینی مہاجرین کے حق واپسی کا سقوط۔7۔فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے شرائط۔8۔حماس غیر مسلح ہوگی۔9۔غزہ کا علاقہ ہرطرح کے اسلحہ سے پاک ہوگا۔10۔فلسطینی حق واپسی سے دست بردار ہوجائیں گے۔11۔سرائیل کویہودی ریاست تسلیم کیا جائے گا۔12۔اسرائیل کی نئی سرحدوں کو تسلیم کیا جائے گا۔13۔فلسطینی متحدہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔14۔فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کی مالی مدد بند کی جائے گی۔15۔فلسطینی تعلیمی اداروں نے اسرائیل کے خلاف نفرت  پرمبنی مواد پڑھانے پر پابندی عاید کی جائے گی۔

ٹرمپ  کا یہ منصوبہ 80 صحافت پر مشتمل ہے اور اسے ایک مفصل منصوبے میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ متفقہ امور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے پائے جائیں گے۔ اس صورت حال میں  فلسطین عوام کے حقوق کے لئے مسلمانوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔