افغان بحران: چیلنجزو امکانات
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 20 / ستمبر / 2020
- 6140
دوحہ میں افغا ن حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دور بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں فریقین کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ بداعتمادی پائی جاتی تھی اور کوئی بھی فریق دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔
ان مذاکرات کو افغان بحران کے حل میں سیاسی بریک تھرو کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اگرچہ یہ بحران کے حل کی ابتدا ہے اور اس سے فوری طور پر بحران نہ تو حل ہونے والا ہے او رنہ ہی کسی جادوئی سیاست کا امکان ہے۔افغان بحران ایک بڑا ہی پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کے حل میں ایک دوسرے کے سیاسی وجود کی قبولیت اور کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا اہمیت رکھتا ہے۔
دوحہ مذاکرات کی سیاسی میز سجانے میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کا کردار اہم ہے۔ افغان طالبان کا اس طرح سیاسی میز پر افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنا کوئی معمولی عمل نہیں۔ اس میز کو سجانے او رافغان طالبان کو راضی کرنے میں پاکستان کی سیاسی و بالخصوص فوجی قیادت کی کوششیں شامل ہیں جو کئی برسوں سے جاری تھیں۔پاکستان نے کئی بار امریکہ او رافغان حکومت کو یہ باور کروایا تھا کہ افغان طالبان ان کی ڈکٹیشن پر نہیں چل سکتے اور وہ اپنا ایجنڈا رکھتے ہیں۔اس لیے اس فکری مغالطہ سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہماراافغان طالبان کے سیاسی وانتظامی فیصلوں پر مکمل کنٹرول ہے۔ اہم بات یہ تھی کہ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں نے یہ بات تسلیم کرلی تھی کہ اگر افغان طالبان کا امریکہ او رافغان حکومت سے مفاہمت کا راستہ نکل سکتا ہے تو اس کی سیاسی کنجی پاکستان کے پاس ہے او روہی درمیانی راستہ نکال سکتا ہے۔
پاکستان نے افغان عمل کے لیے چار نکاتی لائحہ عمل دیا ہے۔ اول دونوں فریقین ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کریں، کھلے و کشادہ دل سے بات چیت کو آگے بڑھائیں، فیصلہ کن فیصلہ سازی کی طرف بڑھیں اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی ترتیب دیں۔دوئم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس مذاکرتی عمل کے فیصلے افغانستان کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔سوئم افغانستان کی تعمیر نو کے لیے معاشی راوبط قائم کرنا ہونں گے اور مہاجرین کی واپسی کا منصوبہ بنانا ہوگا۔چہارم ہمیں ان تمام شرپسندوں پر نظر رکھنی ہوگی جو افغان امن عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔پاکستان بین الااقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ امن عمل کی حمایت جاری رکھے او راس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغانستان کے لوگ دوبارہ پر تشدد دور کا سامنا نہ کریں۔ اسی طرح نہ ہی افغانستان کی سرزمین ایسے عناصر استعمال کرسکیں جو اس کی سرحدوں کے باہر دوسروں کو نقصان پہنچاسکیں۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو کے دوحہ میں اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ امریکہ خود مختار، متحد، جمہوری او رپرامن افغانستان کی حمایت کرتا ہے۔ افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام کا فیصلہ بھی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔پرامن جمہوری اقتدار کی منتقلی ہماری بنیادی ترجیح ہے۔ ہم افغان طالبان سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ مستقبل میں القاعدہ سمیت کسی بھی بین الااقوامی دہشت گرد گروہ یا تنظیم کی حمایت یا میزبانی نہیں کرے گا۔اسی طرح نہ ہی ان دہشت گرد تنظیموں کو تربیت دینے، بھرتی یا فنڈزاکھٹا کرنے کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرنے کا اجازت دے گا۔اس کانفرنس میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی کہا کہ افغانستان کی خود مختاری اور جغرافیائی سطح پر سرحدوں کی حفاظت سمیت جمہوریت، انسانی حقوق، عورتوں، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری ہونی چاہیے۔
پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف بھی رہا ہے کہ بھارت کا مجموعی کردار افغان بحران کے حل میں ماضی میں مسائل پیدا کرتا رہا ہے او ران مسائل کا براہ راست اثر پاکستان کی داخلی سلامتی پر بھی پڑتا تھا۔خاص طور پر افغان او ربھارتی ا نٹیلی جنس ایجنسیوں کا باہمی گٹھ جوڑ پاکستان کے مفاد کے خلاف تھا او راس عمل نے پاکستان کو مشکلات سے بھی دوچار کیا۔
پاکستان کے لیے افغان حل بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے بحران کا حل نہ افغان عوام یا ملک تک محدود ہے بلکہ اس کا براہ راست فائدہ پاکستان سمیت پورے خطہ کی سلامتی کے تناظر میں سامنے آئے گا۔اسی طرح اہم بات یہ ہے کہ دنیا نے بھی اس پورے عمل میں پاکستان کے سیاسی او رفوجی کردار کو تسلیم کیا کہ اس کی حمایت کے بغیر یہ سب کچھ جو ہورہا ہے، ممکن نہیں تھا۔کیونکہ ماضی میں بڑی عالمی طاقتوں نے اول پاکستان کو باہر نکال کر مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی اور دوئم جب بھی کوئی کوشش پاکستان نے کی تو اسے کئی حوالوں سے خراب کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان اور جنرل باجوہ کافی عرصے سے افغان بحران کے حل کو فوجی عینک کی بجائے سیاسی عینک سے دیکھنے پر زور دے رہے تھے۔۔
افغان حکومت او رافغان قیادت کو بھی اپنے ذاتی مسائل سے اوپر اٹھ کر افغانستان کے اپنے مفاد یا عوام کے مفاد کے تناظر میں اپنی حکمت عملی کو ترتیب دینا چاہیے۔خا ص طور پر جنگ بندی کے حوالے سے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔کیونکہ اگر یہ مذاکرات کسی مفاہمت یا افغان امن کی طرف نہیں بڑھتے تو اس کا نتیجہ بڑی بدامنی کی صورت میں سامنے آئے گا جو سب فریقین کے مفاد کے خلاف ہوگا۔کیونکہ اگر افغان سیکورٹی فورسز پر طالبان حملے جاری رہتے ہیں تو عالمی برادری کی حمایت سے طالبان محروم بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ افغان مفاہمت کا مطلب کسی کی جیت یا کسی کی ہار نہیں۔سب فریقین کو ایک دوسرے کے لیے لچک اور قبولیت پیدا کرنا ہوگی۔افغان حکومت بھی بہت کمزور ہے او رایسے میں وہ افغان طالبان سے ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ان کی اپنی سیاسی ساکھ بھی متاثر نہ ہو۔یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان کا سیاسی تصفیہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سب ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک یا قبولیت پیدا کریں گے۔