نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمان دوسروں کے لیے جگہ خالی کریں
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- اتوار 20 / ستمبر / 2020
- 6790
میاں صاحب دِل لگتی کہوں۔ اب آپ ، زرداری صاحب ، چھوٹے میاں صاحب اور مولانا فضل الرحمان کوچاہیئے کہ اللہ اللہ کریں۔ اور اپنی اپنی یادداشتیں قلم بند کریں۔ آپ کی لکھی ہوئی تاریخ آنے والی نسلوں کے لیئے مشعلِ راہ ہو گی۔
اس طرح کانفرنسوں میں کی گئی آپ کی باتوں پہ کوئی یقین نہیں کرے گا۔ کیونکہ کل آپ ایک دوسرے کو پھر گھسیٹنا شروع کر دیں گے۔ پاکستانی سیاست کو نئی طرز اور نئے خون کی ضرورت ہے۔ نئے چہروں، نئی سوچ اور نئی فِکر کی ضرورت ہے۔ آپ اپنے تجربے قلم بند کیجئے. اپنی سیاست کا ایماندارانہ تجزیہ کیجئے۔ اپنی غلطیوں کا اقرار کییئے۔ جو مُشکلات پیش آئیں، اُن کا کُھل کر اظہار کیجیئے۔ آئی جے آئی سے شروع کیجئے۔ اور ڈان لیکس تک پھیلی اپنی سیاست کا تجزیہ کیجئے۔
یقین جانیئے یہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ آپ عُمر کے اُس حصے میں ہیں، جہاں آپ کو اب کوئی لالچ نہیں ہونا چاہئے۔ آپ اس ملک میں وزیر بنے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیرِ اعلی' بنے۔ تین بار وزیرِ اعظم بنے۔ جو پاکستان میں کوئی دوسرا شخص نہیں بنا۔ پاکستان کے امیر ترین آدمی بنے۔ آپ وہ سب کچھ بنے جس کی ارزو ہر شخص کرتا ہے۔ لہذا اب آپ کو کچھ مزید بننے کی خواہش ترک کر دینی چاہیئے۔ آپ پاکستان کی گزشتہ چالیس سال کی زندہ اور چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔ اسے آئندہ نسلوں کو منتقل کیجیئے۔ آپ کے پاس بہت سے سوالوں کے جواب ہیں۔ ان سوالوں کے جوابات جاننا موجودہ اور آئندہ نسلوں کا حق ہے۔ یہ جوابات آپ پہ واجب ہیں۔
اسی طرح زرداری صاحب ہیں۔ جناب عالی آپ ایک کھلنڈرے نوجوان سے پاکستان کے اعلی' ترین عُہدے تک پہنچے۔ قسمت کی دیوی نے آپ کو ایک ایسے خاندان کا حصہ بنا دیا جو پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں مقبول ترین سیاسی خاندان ہے۔ آپ کو ایک ایسی خاتون کا شوہر بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو آج بھی کروڑوں پاکستانیوں میں مقبول ہے۔ ایک دور میں آپ بھی بادشاہ گر تھے۔ لوگ قطار اندر قطار آپ کی ابروئے چشم کی جنبش کے منتظر رہتے تھے۔ آپ اب کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ دولت، اختیار، شہرت سب کچھ تو قدرت نے آپ کو دیا۔ آپ بھی پاکستان کی 1988 سے بعد کی سیاست کے عینی شاہد ہیں۔ بہت سے سوالوں کے جواب آپ کے پاس ہیں۔ قبلہ گھر بیٹھئے اور ان تشنہ سوالوں کے جوابات اگلی نسلوں کی امانت سمجھ کے انہیں منتقل کریں۔
مولانا فضل الرحمان صاحب سے بھی میری یہی گزارش ہے کہ محترم آپ وہ شخص ہیں جو ہمیشہ اقتدار میں رہے۔ چاہے جس پارٹی کی حکومت تھی، آپ اقتدار میں تھے۔ آپ کا شاید خیال تھا کہ آپ کے اقتدار کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ لیکن یہ تو قدرت کا قانون ہی نہیں کہ ایسا نہ ہو۔ آپ نے لوگوں کے اقتدار کے سورج چڑھتے اور غروب ہوتے دیکھے۔ اقتدار کی غُلام گردشوں سے آپ سے زیادہ کون واقف ہے؟ آپ نے اپنی سیاست اور مذہبی اثرورسوخ کی بدولت بے پناہ عروج دیکھا ہے۔ اور آپ یقیناً اس حقیقت سے آشنا ہوں گے۔ کہ ’ ہر کمالِ را زوال است‘ ۔ اس وقت عروج کی باری کسی اور کی ہے۔ آپ جتنی جلدی اس حقیقت کو تسلیم کر لیں۔ آپ ہی کا بھلا ہوگا۔ آپ سیاست کی اس نماز میں امامت کروائیے۔
میاں صاحب اور زرداری صاحب تو لکھنے لکھانے کے ہُنر سے ناآشنا ہو سکتے ہیں. لیکن قبلہ آپ تو نہیں ہیں۔ خود بھی لکھئے اور اُنہیں بھی ترغیب دیجئے۔ یقین جانئے آپ لوگ اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ اس قوم کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ پُرانی کمپنی بند ہو جائے اور نئی کمپنی چلے۔ تو اس کے لئے نئے لوگوں اور نئے خون کو موقع دیجئے۔ اپنے تجربات انہیں منتقل کیجئے۔ اُن کی رہنمائی کیجئے۔ اُنہیں ایماندارانہ طریقے سے بتائیں کہ آپ سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں. اُنہیں وجوہات بتائیے کہ پاکستان نے چالیس سال میں ترقی معکوس کیوں کی۔ اب آپ کو کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے۔ جیلیں، مقدمے، غداریوں کے فتوے یہ سب آپ جھیل چُکے ہیں ۔ آپ کے کچھ ساتھی موت کے گھاٹ بھی اُتار دیے گئے۔ آئندہ نسلوں کو بتائیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ تاکہ آئندہ نسلیں اس سے کچھ سیکھیں اور چھانگے مانگے رچانے اور کالے کوٹ پہن کے عدالتوں میں چلے جانے سے گریز کریں۔ ورنہ یقین کریں۔ آپ کی اے پی سی نامی کمپنی نہیں چلے گی۔ پاکستان نامی اوریجنل کمپنی کے یئے مزید نقصان کی باعث بنے گی۔
جس کمپنی کے حصص اس وقت سب سے زیادہ قیمت پہ بِک رہے ہیں، وہی اگلے ستر سال بھی چلتی رہے گی۔ اور آنے والے بھی ایک دوسرے کو یوں ہی گھسیٹے رہیں گے۔ خُدا آپ کو درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.