امریکا کی اسرائیل سے محبت کا راز (1)
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 21 / ستمبر / 2020
- 19090
ہمیں برسوں اس بات پر حیرت رہی کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا جیسا عظیم الشان ملک جس کے عوام خدا، آخرت، بائیبل اور سیدنا مسیح ؑ (Jesus Christ) پر ایمان ہی نہیں رکھتے بلکہ "God Bless You and America" جس کا قومی نعرہ ہے جو پوری دنیا میں آئین، قانون، مساوات، جمہوریت، حقوق اور انسانی آزادیوں کا علمبردار و دعویدار ملک ہے۔
آخر اسرائیل کے معاملے میں کیوں اندھا، بہرہ اور گونگا ہو جاتا ہے۔ دنیا کے دور دراز خطوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دہائی دینے والے ملک کو مشرق وسطیٰ میں مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل کی طرف سے توڑے جانے والے مظالم کے پہاڑ آخر کیوں دکھائی نہیں دیتے ہیں؟ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اسرائیلی ریاست کو خطہ فلسطین میں زبردستی قائم کرنے کا جواز ہی کیا تھا؟ تنہا برطانیہ بغیر امریکی معاونت و تعاون کے شاید یہ سب کچھ کرسکتا تھا لیکن جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔
تیل جیسے قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال اتنے امیر عرب ممالک میں اسرائیلی ریاست قائم رہ ہی نہیں سکتی تھی اگر امریکا اس کا پشت پناہ، نگہبان و پاسبان نہ بنتا۔ ہماری موجودہ دنیا کے سب سے بڑے حقیقت پسند رہنما شہید مصری صدر جناب انور السادات نے درست کہا تھا کہ ”ہم اسرائیل سے تو لڑ سکتے ہیں لیکن امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“ اسرائیل کا محافظ بن کر امریکا پوری دنیا کی لعنت ملامت اپنی جھولی میں بھر رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کوئلوں کی دلالی سے اپنا منہ کالا کیوں کروا رہا ہے؟ اور اس پر ذرہ برابر شرما رہا ہے نہ پچھتا رہا ہے؟
اس پر ہمیں اپنے مسلمان ”دانشوروں“ کی طرف سے بتلایا، پڑھایا اور سمجھایا جاتا ہے کہ ”خطے میں امریکا کے مفادات ہیں وہ اسرائیل کے ذریعے عربوں کو دبا کر رکھنا چاہتا ہے“ ۔ مگر جب ہم حقائق کی کسوٹی پر اس ”دانش“ کا جائزہ لیتے ہیں تو فوری بعد ہم پر اس بودی دلیل کا کھوکھلا پن واضح ہو جاتا ہے۔ بلکہ صاف نظر آجاتا ہے کہ اگر مشرق وسطی میں اسرائیل موجود نہ ہوتا تو امریکا عربوں سے اپنے مفادات کہیں زیادہ بہتر پوزیشن میں حاصل کر رہا ہوتا۔ اس پورے خطے میں امریکا کی مخالفت و نفرت نہ ہونے کے برابر ہوتی جس میں آج وہ محض اسرائیل کی خاطر دھنسا ہوا ہے۔ عرب تو ویسے ہی امریکیوں کے ممنون و احسان مند ہوتے جس کے تعاون سے انہیں آزادیاں ملیں اور یہ سیال سونا بھی، انہی امریکی کمپنیوں کی سخت محنت اور سرمایہ کاری کا ثمر ہے جنہوں نے ریتلے صحراؤں اور سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چیر کر بھوکے ننگے عرب کو صحیح معنوں میں ”عرب شیوخ“ بلکہ ارب پتی بنا ڈالا۔
تو پھر امریکا یہ گناہ بے لذت کیوں کئے جا رہا ہے؟ ہمیں مزید راز یہ بتلایا جاتا کہ دراصل یہودی بڑی منظم قوم ہے پورے امریکا پر ان کی مضبوط لابیوں کا اتنا کنٹرول ہے کہ امریکی سیاستدان ان کے سامنے بے کس و بے بس ہیں۔ وہ اسرائیل کی مخالفت کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے انہیں الیکشن جیتنا ہوتا ہے جس کے لئے ڈالروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور میڈیا کے تعاون کی بھی۔ جب ہم نے اس دلیل کا جائزہ لیا تو ہمیں اس کا کچھ وزن محسوس ہوا لیکن اتنا نہیں جتنا قرار دیا جاتا ہے۔ یہودی جتنے بھی مضبوط ہیں، پھر بھی ان کی تعداد پورے امریکا میں مسلمانوں سے زیادہ نہیں ہے اور امریکی سماج نائن الیون سے قبل قطعی طور پر ہمارے جیسے مذہبی تعصبات سے پاک رہا ہے اور پھر مذہبی نقطہ نظر سے بھی اگر جائزہ لیا جائے امریکی عوام سیدنا مسیح ؑ کی محبت سے سرشار ہیں اور پیروی مسیح ؑ کی دعویدار ہیں اس مسیح ؑ کی پیروی کے جسے یہود نے جھوٹا بیان کیا اور اپنے تئیں ان کے صلیب پر چڑھائے جانے سے بھی دریغ نہ کیا تو پھر مسیح ؑ کی محبت اور مسیح ؑ کے دشمنوں کی محبت ایک دل میں کیسے اکٹھی رہ رہی ہیں؟
مانا کہ یہود منظم ہیں، ذہین ہیں، مال و دولت کی فراوانی اور میڈیا کی قوت سے وہ امریکی سوسائٹی میں اپنا وسیع اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن امریکی سوسائٹی میں مسیح ؑ کی محبت کا اتنا بڑا سمندر موجزن ہے جس میں کبھی تو تلاطم آسکتا ہے۔ (یہاں ایک جملہ معترضہ پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کیا اس میں خود ہم مسلمانوں کی بھی نااہلی نہیں جھلکتی کہ ہم سیدنا مسیح ؑ کی عظمت و تقدس والی کتاب ہاتھوں میں اٹھائے پھرتے ہیں لیکن مجال ہے جو مسیحیت کو یہود سے زیادہ اپنی جانب راغب کر سکیں جبکہ منکرین مسیح ؑ محبان مسیح ؑ کے ساتھ ایسے ہی شیر و شکر ہیں جیسے وحدت کے پرچارک سکھ ہم ایسے توحید پرست ہمسایوں کی سنگ دلی و تنگ دلی سے ہندو بھائیوں کے صنم خانوں میں جا بسیں، تو یہ کمال ہمارا نہیں ہمارے ہندو بھائیوں کا ہے۔ کیا ہمارے رب العالمین کا دامن رحمت اتنا تنگ ہے کہ اس میں دیگر ہم خیال اقوام سماہی نہیں سکتیں۔)
بلاشبہ امریکی سوسائٹی میں یہود کا بڑا اثر و رسوخ ہے۔ دونوں کے مفادات ہی نہیں تہذیب و تمدن اور رہن سہن سب ملتے جلتے ہیں، جس سے اسرائیلی ریاست پیہم مستفید ہو رہی ہے اور فلسطینی مسلمان مار کھا رہے ہیں۔ کیا بات محض اتنی سی ہے؟ ہمارا مطالعہ ہمیں یہ بتلا رہا ہے کہ ایسا کوئی بھی نظریہ، کوئی بھی سوچ جس کی پشت پر اخلاقی جواز نہ ہو، وقتی طور پر ممکن ہے کئی برسوں تک لوگوں کو بے وقوف بنا لے لیکن دائماً قائم نہیں رہ سکتا۔ آج امریکا کو دنیا میں جو عظمت حاصل ہے اور اسرائیلی ریاست وقت کے ساتھ بجائے کمزور ہونے کے مزید مضبوط ہو رہی ہے تو یہ اخلاقی بنیادوں سے تہی دامن ہو کر محض مادی طاقت سے ممکن نہیں ہے۔ جس گروہ نے بھی دنیا میں تادیر یا دائمی Survive کیا ہے اگر ہم باریکی سے ٹوہ لگا کر دیکھیں تو اس کے دامن میں کوئی نہ کوئی سچائی یا اخلاقی بنیاد ضرور شامل رہی ہے۔ صرف تلاش کرنے والی نظر ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ظلم اور بے انصافی پر استوار ہونے والی قیادتوں اور ریاستوں کو (سودیت یونین کی طرح) ہمیشہ ایسا ابدی زوال آیا ہے کہ بعد ازاں ان کے دکھ پر رونے والا بھی دنیا میں کوئی نہیں رہا ہے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ اتنی عظیم اور باصلاحیت امریکی قوم کو چند ملین یہودی آخر کس طرح ہمیشہ کے لئے بے وقوف بنا کر رکھے ہوئے ہیں؟ اگر کسی گروہ نے بے پناہ مادی وسائل کی بدولت ایسے کر رکھا ہو تو اس استیلاء کے خلاف اندر ہی اندر ضرور ایک لاوا پک رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ پوری امریکی قوم دل و جان سے اسرائیل کا دم بھرتی ہے اور فلسطینیوں کی خودکش حملوں جیسی کارروائیوں کو ناپسندیدگی و حقارت سے دیکھتی ہے۔
امریکی قوم کی جو چیز درویش کو سب سے اچھی لگی ہے وہ جبر کے خلاف ان کی نفسیات ہے۔ جبر چاہے کسی رنگ، شکل، یا خوبصورت چہرے کے ساتھ آئے، امریکی ذہن اس سے نفرت کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومتیں بالعموم دنیا بھر میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کا کھلا یا خفیہ ساتھ دیتی رہی ہیں تاوقتیکہ خود ان تحریکوں میں جبر کا عنصر داخل نہیں ہوجاتا۔ اصولی طور پر امریکی اس نقطہ نظر کے حق میں رہے ہیں اور اب بھی ہیں کہ فلسطینیوں کی اپنی ایک متوازی اور الگ ریاست کا قیام مڈل ایسٹ پرابلم حل کرنے کا اہم سنگ میل ہے لیکن جب بھی یہ سوچ زیادہ واضح ہوئی ہے۔ جبر، تشدد اور خودکش حملوں جیسی ”جدوجہد“ نے اس سوچ کو پیچھے دھکیل دیا۔ کلنٹن دور میں معاہدہ ہوتے ہوتے محض اس وجہ سے رہ گیا کہ فلسطین کے انتہا پسند عناصر کو اپنی مفاداتی چودھراہٹ ختم ہوتی ہوئی نظر آئی۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ”مسئلہ فلسطین کا حل کیا ہے؟“
اس وقت ہمارے پیش نظر سوال یہ ہے کہ امریکا اسرائیل کا پشت پناہ اور نگہبان و محافظ کیوں ہے؟ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہمارے یہاں تو اکثر ایسے فقرے بولے جاتے ہیں کہ اتحادی طاقتوں نے 1917 میں اعلان بالفورس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہوئے”اسرائیل کا خنجر“ عالم اسلام کے سینے میں گاڑ دیا۔ امریکا اور برطانیہ نے مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہوئے ہمارے جسدِ قومی میں زہر گھول دیا، کوئی اسرائیل کو کینسر اور سرطان قرار دیتا ہے تو کوئی مغرب اور ”امریکا کا ناجائز بچہ“۔ ہمارے اچھے خاصے سنجیدہ و فہمیدہ طبقے بھی اسرائیل کے متعلق بات کرتے ہوئے سخت غصے میں آجاتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں کہ ”یہود کا ناپاک وجود اس مقدس سرزمین میں نہیں ہونا چاہئے“۔علامہ اقبالؒ تک نے بھی یہ کہہ دیا کہ اگر یہود کا اس مقدس سرزمین پر حق ہے تو اس تاریخی اصول کی روشنی میں اہل عرب کا سپین پرحق کیوں نہیں؟ان کے الفاظ ہیں:
ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا؟
اب اگر آج اقبالؒ ہمارے درمیان موجود ہوتے تو کم از کم یہ درویش ان کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ضرور عرض کرتا کہ قبلہ ہمیں سپین جانے سے کس نے روکا ہے؟ یہ تو محنت، لگن، وابستگی Attachment اورجدوجہد Struggle کی بات ہے جس منظم تندہی سے انہوں نے”دیوار گریہ“ پر آ آ کر آہ و زاری کی ہے وہ ہم بھی کریں۔ جس طرح انہوں نے مقامی لوگوں سے ایک ایک لاکھ کا پلاٹ دس دس لاکھ میں خریدا ہے۔ ہم بھی اندلس میں جاکر خریدیں پھر وہاں منارٹی کی بجائے میجارٹی بنیں۔ خدا ہمارا بھی کوئی مددگار و نصیر پیدا کر دے گا مگر یہ جان جوکھوں کا کام انہی کو سزا وار ہے، جن کے حوصلے ہیں زیاد…… بہرحال اسرائیل پر حضرت علامہ ؒکی تنقید میں اور ہمارے حضرات عامہ کی تنقید میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ حال ہی میں ایک بڑی معروف دینی شخصیت سے خاکسار کی بحث ہوئی حضرت فرمانے لگے کہ”امریکا نے یہود کا وطن بنا کر بڑا ظلم کیا ہے“۔ عرض کی کہ ”آج کے دور میں وطن کے بغیر قوم کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہمیں فلسطینیوں کا یہی دکھ ہے کہ ان کے پاس اپنا ملک ہونا چاہئے لیکن جس طرح ہم مسلمان فلسطینیوں کے متعلق یہ سوچتے ہیں اگر اسی طرح یہود کے متعلق سوچا جائے تو ہمیں کیوں برا لگتا ہے؟“ فرمانے لگے ”ٹھیک ہے اگر امریکا نے یہود کو وطن دلوانا ہی تھا تو کسی اور خطہ ارضی میں دلوا دیتا، انہیں کینیڈا میں جابساتا؟ اس پر ڈاکٹر اسرار صاحب کی خدمت میں ہمارا جواب یہ تھا کہ ”خدانخواستہ کل کو اگر کوئی بدبخت حجاز مقدس پر قابض ہو کر ہمیں یہ کہے کہ اس خطے سے اپنا تعلق توڑ لو، اپنے حرمین شریفین کہیں اور لے جاؤ تو کیا ہم یہ برداشت کر لیں گے؟ ہمیں ایسے الفاظ سے کتنی تکلیف پہنچے گی؟ بس یہی تکلیف آپ سوچ لیں یہود کو پہنچتی ہے جب آپ ان کے ملک کو ان کے لئے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔“
بہرحال قرآن کو پڑھتے ہوئے مجھے ماقبل کے تمام نبیوں پیغمبروں ؑ ان کی کتابوں اور امتوں سے جو لگاؤ ہوا ہے اس تجسس نے مجھے ابھارا ہے کہ میں ان کے دکھوں، آرزؤں اور سوچوں کو جانوں۔ میں نے جب اس سلسلے میں ٹوہ لگائی ہے تو مجھے حیرت ہوئی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل (اولاد یعقوب ؑ) کے اس ارض مقدسہ سے تعلق کو سمجھا ہی نہیں جس سے پوری بائیبل بھری پڑی ہے اور قرآن مجید جس کی سب سے بڑھ کر تائید و توثیق کرتا ہے۔ بائیبل کا عہد نامہ قدیم (تورات و زبور) ہو یا عہد نامہ جدید (اناجیل اربعہ) ان میں تحریف کے ہم جتنے بھی اعتراضات لگا لیں لیکن ہر شارح قرآن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ موجودہ حالت میں بھی اس کے سوتے وہیں سے آتے دکھائی دیتے ہیں جہاں سے قرآن آیا ہے۔ بلاشبہ اب قرآن زمانے میں خدا کا آخری کلام ہے جس کی اتباع ہم پر لازم ہے مگر ماقبل کلام کی تائید اگر قرآن مجید سے ہوتی ہو یا قرآنی سورۃ کی وضاحت قدیم کلام سے ہوتی ہو تو امہ کے تمام مفسرین و علما نے اس سے استشہاد کرتے ہوئے وہاں سے حوالے اور ثبوت اپنی تفاسیر میں بہم پہنچائے ہیں کیونکہ تینوں آسمانی مذاہب باہم ایک دوسرے سے قطعی لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ تینوں تعلیمات کی روح میں عجب بنیادی اشتراک ہے۔
اس ارض مقدس کو جسے ابوالابنیاد سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ؑنے حکم خدا وندی سے اپنا وطن و مسکن بنایا تھا اس کا قدیمی نام اسرائیل ہے نہ فلسطین بلکہ قدیم ترین کتب میں اس خطہ ارضی کو ”کنعان“ کہہ کر پکارا گیا ہے جو اولاد یعقوب ؑ(بنی اسرائیل) کا قومی وطن قرار پایا۔ تورات کے متعلق ہمارا جو رویہ ہے مسیحیوں کا اس کے برعکس قربت والا ہے۔ وہ جس طرح انجیل کا احترام کرتے ہیں اسی طرح تورات کا بھی، ان دونوں عہد ناموں کو بائیبل میں یکجا رکھتے اور پڑھتے ہیں۔ اپنے تمامتر سیکولرزم کے باوجود جب دنیا بھر کے مسیحی بشمول امریکن مسیحیوں کے بائیبل کو پڑھتے ہیں تو وہ بنی اسرائیل (یہود) کے متعلق نرم گوشہ پیدا کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بالکل ایک فطری و روحانی عمل ہے۔
آخر وہ خود بھی تو بنی اسرائیل کا حصہ ہیں۔ سیدنا مسیح ؑکی والدہ مقدسہ مریم ؑ داؤد پیغمبر کی اولاد سے ہیں۔ رہ گئے ہم مسلمان، ہمارا ان کا باہمی تعلق بھی دیگر اقوام عالم کے بالمقابل کم از کم کتابی طور پر زیادہ قربت کا ہے۔ ہمارے پیغمبر ؐ کا تعلق اولاد ابراہیم ؑ کی دوسری شاخ بنواسماعیل سے ہے۔ اس لئے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ہمارے کزن ہیں تو یہ بات خلاف حقیقت نہیں ہے، ہم سب کے جدامجد تو سیدناابراہیم ؑ ہی ہیں۔ سیدنا ابراہیم ؑ کو خداوند تعالیٰ نے جس طرح عربستان (مکہ) میں اسماعیل ؑ کو بسانے کا حکم دیتے ہوئے یہاں بنو اسماعیل ؑ کے لئے مختلف فوائد و ثمرات کی بشارت دی تھی اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کنعان سیدنا ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے اسحاق ؑ اور پوتے یعقوب ؑ (اسرائیل) کو عطا کرنے کی قسم کھائی تھی اور بائیبل کے مطابق یہ قسم دائمی تھی مابعدیہ سلسلہ اسحاق ؑ، یعقوبؑ اور یوسف ؑ تک ہی نہیں رہا بلکہ دور موسوی ؑ بھی اس سے بھرا پڑا ہے۔ اگر بنی اسرائیل نے نافرمانی کی تو اس کی سزا نافرمان نسل تک محدود رکھی گئی دائماً خدا نے اپنی قسم کو کبھی نہ توڑا۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے قابل ملا حظہ ہیں بائیبل کے عہد نامہ قدیم کی وہ آیات جن میں خدا نے سیدنا ابراہیم ؑسے یہ عہد باندھا کہ وہ یہ ارض مقدس ان کو اور ان کے بیٹے اسحاق ؑ اور پوتے یعقوب ؑ اور ان کی اولاد کو دائماً بخشے گا: ”تب خدا وند نے ابراہام کو دکھائی دے کر کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا اور اس نے وہاں خداوند کے لئے جو اسے دکھائی دیا تھا ایک قربان گاہ بنائی۔“(عہد نامہ عتیق کتاب پیدائش باب 12 آیت 7،8)
’’اور لوط ؑ کے جدا ہو جانے کے بعد خداوند نے ابراہام سے کہا کہ اپنی آنکھ اٹھا اور جس جگہ تو ہے وہاں سے شمال اور جنوب، مشرق اور مغرب کی طرف نظر دوڑا کیونکہ یہ تمام ملک جو تو دیکھ رہا ہے میں تجھ کو اور تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے دوں گا۔’’ (کتاب پیدائش باب 13 آیت 14،15)
”میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ان کی سب پشتوں کے لئے اپنا عہد جو ابدی عہد ہوگا باندھوں گا تاکہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا رہوں میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک، جس میں تو پردیسی ہے، ایسا دوں گا کہ وہ دائمی ان کی ملکیت ہو جائے پھر خدا نے ابراہام سے کہا کہ تو میرے عہد کو ماننا اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت اسے مانے“۔ (کتاب پیدائش باب 17،آیت 7،8،9)
’’تب خدا نے فرمایا کہ بے شک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تو اس کا نام اضحاق رکھنا، میں اس سے اور اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا۔“ (کتاب پیدائش باب 17 آیت 19)
خداوند نے اضحاق ؑ سے کہا: ”تو اس ملک میں قیام رکھ اور میں تیرے ساتھ رہوں گا اور تجھے برکت بخشوں گا کیونکہ میں تجھے اور تیری نسل کو یہ تمام ملک دوں گا اور میں اس قسم کو جو میں نے تیرے باپ ابراہام سے کھائی، پورا کروں گا۔“ (کتاب پیدائش باب 26 آیت 3)
”یعقوب ؑ خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے اور اس کا سرا آسمان تک پہنچا ہوا ہے اور خدا کے فرشتے اس پر سے چڑھتے اترتے ہیں اور خدا وند اس کے اوپر کھڑا کہہ رہا ہے کہ ”میں خداوند تیرے باپ ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خدا ہوں، میں یہ زمین جس پر تو لیٹا ہے تجھے اور تیری نسل کو دوں گا’’ (کتاب پیدائش باب 28 آیت 12،13)
”دیکھ میں تیرے ساتھ ہوں ہر جگہ جہاں کہیں تو جائے تیری حفاظت کروں گا اور تجھ کو اس ملک میں پھر لاؤں گا اور جو میں نے تجھ سے کہا جب تک پورا نہ کر لوں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔“ (کتاب پیدائش باب 28 آیت 15)
ماقبل سیدنا ابراہیم ؑ دجلہ و فرات کی زرخیز سرزمین (عراق) میں نمرود سے ٹکرانے اور آگ میں ڈالے جانے کے بعد ”اُر“ سے ہجرت کرتے ہوئے کنعان جا بسے اور اس ارض مقدس کے مقام ”ھبرون“ کی وادی کو اپنا مسکن بنا لیا جسے آج کل ”الخلیل“ کہتے ہیں۔ یہیں خدا نے آپؑ کو بی بی ہاجرہ ؑکے بطن سے اسماعیل ؑ جیسا نور نظر بخشا جسے حکم خداوندی سے ”وادی بکہ“ جا بسایا جہاں ان کی اولاد بنو اسماعیل کہلائی جس میں پیغمبر آخر الزمانؐ کی ولادت جیسی عظمت بنواسماعیل کو نصیب ہوگئی۔ جبکہ آخر عمر میں بی بی سارہ ؑ کے بطن سے حضرت اسحاق ؑکی بشارت جناب خلیل ؑاللہ کو نصیب ہوئی اور پھر پوتے یعقوب ؑ کی بشارت اور ولادت ہوئی جو یہود کے جدامجد ”اسرائیل“ (یعنی خدا کا بندہ) کہلائے۔ انہیں خدا وند نے بارہ بیٹے عطا فرمائے تھے جو بارہ قبیلوں کا باعث بنے اس اولاد یعقوب ؑ ہی کو تمام آسمانی کتب و صحائف بشمول قرآن میں ”بنی اسرائیل“ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔
سیدنا ابراہیم ؑ کے پڑپوتے سیدنا یوسف ؑ کو جنہیں ان کے سوتیلے بھائیوں نے حسد کی بنا پر کنوئیں میں پھینک دیا تھا انہیں خداوند تعالیٰ نے اندھے کنویں سے نکال کر مصر کے خزائن کا نگہبان بنا دیا۔ قرآن کی سورہ یوسف ؑ میں پوری تفصیل موجود ہے کہ کس طرح قحط پڑا اور بنی اسرائیل مصر پہنچے یوں بنی اسرائیل کو عروج ملا۔ پندرھویں صدی قبل مسیح کے اواخر تک یہ لوگ مصر کے اقتدار پر قابض رہے مگر پھر مقامی لوگوں نے چرواہے بادشاہوں کے ساتھ جو عزیزان مصر کہلائے تھے ان کا تخت بھی الٹ دیا اور ایک نہایت متعصب قبطی النسل خاندان (فراعین) برسراقتدار آگیا جنہوں نے بنی اسرائیل پر وہ مظالم ڈھائے جن کا تذکرہ ہمیں بائیبل اور قرآن مجید کے احوال موسیٰ ؑ میں یکساں طور پر ملتا ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے مردوں کی تعداد چھ لاکھ تھی اور انہوں نے مصر میں کل چار سو تیس برس گزارے تھے لیکن یہاں حکمرانی کے دور میں بھی بنی اسرائیل اپنے اصل آبائی وطن کنعان کو نہیں بھولے تھے جسے سیدنا ابراہیم ؑ اپنا مسکن بنا چکے تھے۔ سیدنا یوسف ؑ کی مصر میں حکمرانی کے دوران جب آپؑ کے والد حضرت یعقوب ؑ کی وفات ہوئی تو آپ ؑ ان کے جسد پاک کو تدفین کے لئے خود بنفس نفیس کنعان لائے اور 110 سال کی عمر میں اپنی وفات سے قبل بنی اسرائیل کو باقاعدہ وصیت فرمائی کہ ”اے بنی اسرائیل! جب تم اس ملک سے نکلو تو میری ہڈیاں اپنے ساتھ واپس میرے ملک کنعان لے جانا۔“ یہ وصیت اس وقت پوری ہوئی جب سیدنا موسیٰ ؑ نے فرعون مصر کے زمانے میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو کوچ کا حکم دیا اور تابوت سکینہ کو ساتھ لے لیا۔ اس کوچ کا احوال بیان کرتے ہوئے قرآن ہمیں بتاتا ہے:
”آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے محروم کر دے مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھے غرق کر دیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ (اسکنوا الارض) اب تم اس زمین میں بس جاؤ پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے۔“ (سورہ بنی اسرایل آیت 104)
اس آیت مبارکہ میں غور طلب دو باتیں ہیں ایک یہ کہ اے بنی اسرائیل ”تم اس زمین یعنی کنعان میں بس جاؤ“۔ دوسری یہ کہ ”پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا۔“ یعنی یہ بسنا ابدی ہے، قیامت تک کیلئے ہے۔
ایک اور قرآنی آیت ملاحظہ ہو۔ سیدنا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا:
”اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے وہ اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری کامیابی صرف ان کے لئے ہے جو اس سے ڈرنے والے ہیں۔ اس کی قوم کے لوگوں نے کہا (موسیٰ ؑ) تیرے آنے سے پہلے ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں۔ اس نے جواب دیا قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین کی خلافت عطا کردے۔“
(الاعراف آیت129,128)
”موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو اس نے تم پر کی اس نے تم میں نبی پیدا کئے، تم کو فرماں روا بنایا اور تم کو وہ کچھ عطا کیا جو دنیا میں کسی دوسری قوم کو عطا نہیں کیا۔ (یقوم ادخلو الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم ولاترتد علی ادبارکم) اے میری قوم اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے۔“ (المائدہ آیت 20،21)
”اور جب بنی اسرائیل کو ان کی مقدس ارض موعودہ دکھا کر انہیں کہا گیا کہ یہ وہ ملک ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا سو اس میں داخل ہو جاؤ……“
اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑکا مسکن رہ چکی تھی۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جا کر اسے فتح کر لو۔ (تفہیم جلد اول صفحہ 459)
قرآن کی سورہ مائدہ میں خدا نے ارض مقدس کا نام لے کر سیدنا موسیٰ ؑ کی زبان سے اپنی قوم کو یہ کہلوایا ”اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو خدا نے تمہارے لئے لکھ دی ہے“۔ اصل قرآنی الفاظ ہیں ”التی کتب اللہ لکم“ جس کے معنی ہیں کہ خدا نے یہ سرزمین تمہارے لئے لازم کر دی ہے۔ قرآن مجید میں کَتَبَ کے الفاظ کئی مقامات پر آئے ہیں مثال کے طور پر جہاں روزوں کی فرضیت کا ذکر ہے وہاں بھی یہی الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ خدا نے تم پر روزے ایسے ہی لازم کئے (کَتَبَ اللّ ہُ) جیسے تم سے پہلی اقوام پر لازم (کَمَا کَتَبَ) کئے گئے تھے۔ سو یہاں بھی ایسے ہی مبارک الفاظ موجود ہیں اسے میری قوم (بنی اسرائیل) اس ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ جو خدا نے تمہارے لئے لازم کر دی ہے تمہارے نام لکھ دی ہے یا رجسٹری کر دی ہے۔
صدیوں کی طویل غلامی انسانوں اور اقوام کے اعلیٰ اوصاف اور عادات و اطوار کو کتنا کند اور پست کر دیتی ہے اس کا ایک نمونہ ہم بنی اسرائیل کے اس طرز عمل میں ملاحظہ کر سکتے ہیں جو انہوں نے مصر میں بھرپور حکمرانی کے بعد طویل غلامی کی صورت میں گزارا۔ یہ لوگ بات بات پر کبھی نخرے دکھانے لگتے تو کبھی لڑنے مرنے کو آتے۔ موسیٰ ؑ جیسی اولوالعزم شخصیت اور ذی وقار ہستی کے بھی سرچڑھتے موسیٰ ؑ کی پرورش اور تربیت چونکہ شہزادوں کی طرح شاہی خاندان میں ہوئی تھی اس لئے انہیں یہ غلامانہ آداب و اطوار دیکھ کر سخت دکھ پہنچتا۔ ساتھ ہی انہیں یہ دکھ بھی ہوتا کہ میری قوم بڑی مظلوم ہے اور ان کے ساتھ بڑے ستم روا رکھے گئے ہیں۔ قیام مصر میں اپنی شہزادگی کے دوران ایک دن حضرت موسیٰ ؑ محل سے سیر کرنے نکلے اور اس بستی میں جا پہنچے جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گھر تھے ان گھروں میں رہنے والے غریب لوگ بنی اسرائیل تھے۔ وہ سارا دن سخت کام کرتے فرعون(بادشاہ) کے لئے اینٹیں بناتے جو یہ سخت کام نہ کر سکتا، اسے کوڑے مارے جاتے جنہیں دیکھ کر موسیٰ ؑ دکھی اور پریشان ہو کر سوچنے لگے کہ خدا میری قوم کی مدد کیوں نہیں کرتا۔ وہ انہیں ان کے وطن کنعان کیوں نہیں لے جا رہا۔ اس دوران اچانک کسی آدمی کے چیخنے کی آواز موسیٰ ؑ تک پہنچی یہ ایک اسرائیلی کی آواز تھی جس پر حکمران قبطی افسر کوڑے برسا رہا تھا۔
نوجوان اور پرعزم موسیٰ ؑ سے یہ ظلم نہیں دیکھا گیا۔ اتنے جوش سے اس فرعونی پر جھپٹے کہ موسیٰ ؑ کے ایک ہی مکے کی وہ تاب نہ لاسکا۔ جناب موسیٰ ؑ نے جلدی جلدی اس کی لاش تو ریت میں دفن کر دی لیکن سخت پریشان اور غمگین ہوگئے۔ اگلے دن جب انہوں نے دو اسرائیلیوں کو آپس میں دست و گریبان دیکھا تو وہ رک کر نرمی سے انہیں سمجھانے لگے کہ ”تم لوگ تو پہلے ہی یہاں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہو تمہیں آپس میں یوں نہیں لڑنا چاہئے بلکہ بھائی بن کر رہو“۔ تو وہ بولے تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملے میں دخل دینے والے۔ کیا تم ہمیں بھی اسی طرح مارنا چاہتے ہو جس طرح کل قبطی کو مارا تھا، یہ سنتے ہی جناب موسیٰ ؑ کا رنگ اڑ گیا اور وہ قبل اس کے کہ کوئی انہیں گرفتار کرے بھاگ کھڑے ہوئے اور مدین جا ٹھہرے۔ بہرحال یہ قرآن مجید اور بائیبل کی طویل کہانی ہے کہ کس طرح سیدنا موسیٰ ؑ مدین میں خدا کے پیغمبر حضرت شعیب ؑ کے پاس رہے۔ بکریاں چرائیں، شادی ہوئی، نبوت ملی اور آواز حق سنانے فرعون کے دربار بھیجے گئے جہاں انہوں نے کہا:
قد جئتکم بینۃ من ربکم فارسل معی بنی اسرائیل
”میں تمہارے رب کی طرف سے صریح نشانیاں لے کر آیا ہوں لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“ (الاعراف آیت 105)
آگے پوری تفصیل ہے کہ اس سلسلے میں سیدنا موسیٰ ؑ کو کیا کیا مشکلات پیش آئیں ان واقعات کو بیان کرنے میں قرآن مجید اور بائیبل میں تقریباً پوری مماثلت ہے۔ اور پھر بیابان میں صحرائے سینا سے گزرتے ہوئے ان تمام نعمتوں کے تذکرے ملتے ہیں جو خصوصی طور پر بنی اسرائیل کو میسر آئیں، من و سلویٰ ا سے لے کر دھوپ میں بادلوں کے سائے اور چٹانوں سے پانی نکلنے تک کے واقعات ہیں۔ ان تمام احسانات اور خدا کی نشانیوں کو براہ راست ملاحظہ کرتے ہوئے بھی غلامانہ پست ذہنیت ختم نہ ہو سکی۔ اور بنی اسرائیل نے قدم قدم پر جہاں ناشکری کی وہاں دو بڑے جرائم بھی کر ڈالے۔ ان میں سے ایک حکم موسیٰ ؑ کی نافرمانی ہے کہ جب انہیں کہا گیا کہ اپنی موعودہ سرزمین کے لئے دشمن کا مقابلہ کرو۔ تو بنی اسرائیل جن کے وجود میں سستی اور کاہلی داخل ہو چکی تھی، کہنے لگے کہ موسیٰ ؑ تم اور تمہارا خدا جاؤ اور اس ارض مقدس کے لوگوں سے لڑو کیونکہ وہ بڑے جابر اور طاقتور لوگ ہیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ جب یہ ملک خالی ہو جائے گا تو ہم آجائیں گے۔“ دوسرے سیدناموسیٰ ؑ کی غیر موجودگی میں بچھڑے کی پوجا کرتے ہوئے شرک جیسے جرم کا ارتکاب ہے۔ جس کی بنا پر خدا کا غضب ان پر نازل ہوا اور ان کی اس پوری جواں نسل کو سوائے کالب اور یوشع ؑکے، ارض مقدس میں داخل ہونے سے محروم کر دیا گیا اور انہیں یہ سزا ملی کہ وہ چالیس سالوں تک انہی صحراؤں اور بیابانوں میں بھٹکتے رہے۔ (جاری)
(یہ طویل مضمون جولائی 2003 میں روزنامہ پاکستان میں شائع ہؤا تھا۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ کی سنگینی کے سبب اسے یہاں شائع کیا جارہا ہے)