سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کو سزائےموت
- منگل 22 / ستمبر / 2020
- 7590
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کارکن عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنائی ہے۔ البتہ ایم کیو ایم رہنما اس وقت صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعدازاں ان پر غفلت کے الزامات عائد کی گئے تھے لیکن پھر اس المناک واقعے پر کئی سوالات اٹھے۔ جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔
ملکی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی سانحے کے اس کیس کا فیصلہ آج 8 سال بعد سنایا گیا۔ عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں 4 ملزمان رؤف صدیقی، عبدالستار خان، علی حسن قادری، اقبال ادیب خانم عدم شواہد کی بنیاد پر بری کردیا۔ جبکہ 2 مرکزی ملزمان عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اے ٹی سی نے جرم میں سہولت فراہم کرنے پر 4 چوکیداروں کو بھی سزا سنائی ہے۔
اس سے قبل 17 ستمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان تھا تاہم سرکاری وکیل نے متاثرین سے متعلق اضافی دستاویزات پیش کی تھیں جس کے بعد معاملے کو 22 ستمبر کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔ 8 سال تک چلنے والے اس مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا، زبیر عرف چریا، حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیدار شامل تھے۔
ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری مالک کی جانب سے 25 کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی۔ حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔ اس کیس میں پروسیکیوشن نے فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 گواہ بھی پیش کئے۔