امریکا کی اسرائیل سے محبت کا راز کیا ہے (2)
- تحریر افضال ریحان
- منگل 22 / ستمبر / 2020
- 10630
اس سے ہمارے بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید خدا کا یہ غضب اور یہ لعنت دائمی تھی اور اچھے خاصے پڑھے لکھے حضرات بھی یہود کے متعلق بڑی حد تک لاعلمی کا شکار ہیں۔
بلاشبہ ان کی بہت سی نسلوں نے مابعد بھی شرارتیں کیں اور انہیں ان کی سزا بھی ملی۔ لیکن نہ تو یہ سزائیں ابدی تھیں اور نہ ان کی وجہ سے انہیں ارض مقدس سے دائمی محرومی بخشی گئی اور نہ ہی خدا نے بنی اسرائیل کے حق میں اپنے وعدوں اور قسموں کو توڑا۔ انہوں نے اگر خدا کے آخری پیغمبرؐ کا یا سیدنا مسیح ؑ (The Second Last Prophet) کا انکار کیا تو ان کی ان نسلوں کو ان کی سزائیں مل کر رہیں جنہوں نے یہ جرائم کئے۔ درمیان میں اور اس کے بہت بعد تک بھی انہیں اپنے کئے کے پھل ملتے رہے۔ یہ درست ہے کہ سیدنا مسیح ؑ کے ساتھ انہوں نے جو سلوک کیا وہ بہت ہی گھناؤنا تھا۔ اس کی انہیں یہ دائمی سزا ضرور ملی ہے کہ سیدنا مسیح ؑ ؑکے ماننے والے ہمیشہ کے لئے ان پر حاوی رہیں گے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن ہی نے یہ صراحت بھی ان دونوں بڑے گروہوں (یہودیوں اور مسیحیوں) کے سامنے فرما دی ہے کہ سیدنا مسیح ؑ کو قتل کرنے کا جو بڑا جرم وہ کرنا چاہتے تھے وہ تو وقوع پذیر ہوا ہی نہیں، ”و ماقتلو و ما صلبو“ ”نہ تو مسیح ؑ قتل ہوئے اور نہ ہی صلیب پر مارے جاسکے“۔ ہماری نظر میں یہود کیلئے یہ قرآن مجید کا بہت بڑا تحفہ ہے کہ خونِ مسیح ؑسے ان کی بریت کردی۔ اگرچہ وہ خود ہنوز اس کا اقبال کرتے ہیں۔
ارض مقدس سے متعلق سیدنا ابراہیم ؑ، سیدنا اسحٰق ؑاور سیدنا یعقوب ؑ سے باندھے گئے قدیمی عہد کی تجدید دورِ موسوی میں بھی بالصراحت موجود ہے۔ ملاحظہ ہوں تو رات کی چند متعلقہ آیات:
خداوند نے سیدنا موسیٰ ؑ کے ذریعے بنی اسرائیل سے کہا: ”جس ملک کو ابراہام اور اضحاق ؑاور یعقوب ؑکو دینے کی قسم میں نے کھائی تھی اس میں تم کو پہنچا کر اسے تمہاری میراث کر دوں گا۔ اور موسیٰ ؑنے بنی اسرائیل کو یہ باتیں سنا دیں پر انہوں نے دل کی کڑھن اور غلامی کی سختی کے سبب موسیٰ ؑکی بات نہ سنی۔ پھر خداوند نے موسیٰ ؑسے فرمایا کہ جا کر مصر کے بادشاہ فرعون سے کہہ کہ بنی اسرائیل کو ان کے اپنے ملک جانے دے۔“ (کتاب خروج باب 6 آیت 8)
”اور (اے بنی اسرائیل)جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اس ملک میں پہنچائے جسے تجھ کو دینے کی قسم اس نے تیرے باپ دادا ابراہام اور اضحاق ؑاور یعقوب ؑسے کھائی تھی…… تو خداوند اپنے خدا کا خوف ماننا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے نام کی قسم کھانا تم اور معبودوں کی پیروی نہ کرنا“۔ (کتاب استثنا باب 6 آیت 10،11)
’’خداوند نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ تو اپنے آدمیوں کو بھیج کہ وہ ملک کنعان کو، جو میں نے بنی اسرائیل کو تفویض کر دیا ہے، دریافت کریں۔“ (کتاب گنتی باب13 آیت 2)
’’موسیٰ مواب کے میدانوں سے کوہ بنو کے اوپر چسگہ کی چوٹی پر جویریحو کے مقابل ہے چڑھ گیا اور خداوند نے جلعاد کا سارا ملک دان تک اور نفتالی کا سارا ملک اور افرایم اور منسی کا ملک اور یہودہ کا سارا ملک پچھلے سمندر تک اور جنوب کا ملک اور وادی یریحو جو خرموں کا شہر ہے، اس کی وادی کا میدان صفر تک اس کو دکھایا اور خداوند نے اس سے کہا یہی وہ ملک ہے جس کی بابت میں نے ابراہام اور اضحاق ؑاور یعقوب ؑسے قسم کھا کر کہا تھا کہ ”اسے میں تیری نسل کو دوں گا سو میں نے ایسا کیا کہ تو اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔“ (کتاب استثنا باب 34 آیت 1 تا 4)
”بنی اسرائیل پر خدائی غضب کے بعد (موسیٰ ؑنے خداوند سے دعا کی) سو تو اپنی رحمت کی فراوانی سے اس امت کا گناہ بخش جسے تو مصر سے لے کر یہاں تک لایا جس طرح ان لوگوں کو معاف کرتا رہا اب بھی معاف کر دے خداوند نے کہا میں نے تیری درخواست کے مطابق معاف کیا لیکن مجھے اپنی حیات کی قسم اور اپنے اس جلال کی قسم جس سے ساری دنیا معمور ہے چونکہ ان سب لوگوں نے جنہوں نے باوجود میرا جلال دیکھنے کے اور باوجود ان معجزات کے جو میں نے مصر میں اور اس بیابان میں دکھائے پھر بھی دس بار مجھے آزمایا اور میری بات نہیں مانی اس لئے وہ اس ملک کو جس کے دینے کی قسم میں نے ان کے باپ دادا سے کھائی تھی یہ دیکھنے بھی نہ پائیں گے جنہوں نے میری توہین کی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اسے دیکھنے نہیں پائے گا۔(ان سے کہو) تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہاری ساری تعداد میں سے یعنی بیس برس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ سے شکایت کرتے رہے، ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا، جانے نہ پائے گا…… ان چالیس دنوں کے حساب سے ایک دن پیچھے ایک برس یعنی کل چالیس برس تک تم اپنے گناہوں کا پھل پاتے رہو گے تب تم میرے مخالف ہو جانے کو سمجھو گے۔ میں خداوند یہ کہہ چکا ہوں کہ میں اس پورے خبیث گروہ سے جو میری مخالفت پر متفق رہا۔ قطعی ایسا ہی کروں گا ان کا خاتمہ اسی بیابان میں ہو گا اور وہ یہیں مریں گے۔“ (کتاب گنتی، باب 14 آیت 20 تا 35)
بنی اسرائیل نے کہا: ”خداوند تو ہمیں یہاں کیوں لے آیا ہے؟ کیا اس لئے کہ ہم ان دیوہیکل لوگوں کے ہاتھوں ہلاک ہو جائیں؟ ہم کنعان نہیں جائیں گے بلکہ واپس مصر چلے جائیں گے۔“
اسی طرح بائیبل کے یہ الفاظ قابل ملاحظہ ہیں: موسیٰ ؑنے بنی اسرائیل سے کہا:
”خداوند یوں فرمایا ہے کہ تم کنعان جانا نہیں چاہتے ٹھیک ہے تم داخل نہیں ہو گے۔ تم واپس جانا چاہتے ہو ٹھیک ہے واپس چلے جاؤ لیکن یقین رکھو تم بیابان میں بھٹکتے پھرو گے، اس وقت تک جب تک تمہارے بچے جوان ہو جائیں وہ کنعان کی سرزمین میں داخل ہوں گے لیکن تم سب بیابانوں میں مرو گے، سوائے ان جوانوں کے جنہوں نے میری بات کا یقین کیا۔“
موسیٰ ؑکے نمائندوں یوشع ؑاور کالب ؑ نے کہا: ”خداوند ضرور ہماری مدد کرے گا، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ یہ ملک ہمیں دے گا، وہ ضرور ایسے کرے گا تم لوگ اس پر بھروسہ رکھو“
قرآن مجید میں بھی بنی اسرائیل سے متعلق متذکرہ بالا تمام مضامین، معمولی لفظی اختلاف ہونے کے باوجود، پوری شان کے ساتھ موجود ہیں۔ اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سیدنا موسیٰ ؑاپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نکال کر ان کے اپنے ملک کنعان (ارض مقدس) لے جانا چاہتے تھے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
”اور موسیٰ ؑنے کہا اے فرعون میں رب العالمین کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں۔ میرا مقام یہ ہے کہ میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہوں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی صریح نشانیاں لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔“ (الاعراف آیت 105,104)
سیدنا موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو فرعون کے پاس بھیجتے ہوئے ہدایت کی جارہی ہے کہ
فَاَتِیٰہُ فَقُوْلَاَ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ ”پس جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کیلئے چھوڑدے۔ (طہٰ آیت 47)
”اور جب تیرے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ نہیں ڈرتے؟ موسیٰ ؑ نے عرض کی میرے رب مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلائیں گے۔ میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان اٹکتی ہے پس تو ہارون کی طرف بھی پیغام بھیج اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے اس لئے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں جاؤ میری نشانیاں لے کر ……اور اس سے کہو کہ ہم کو رب العالمین نے اس لیے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“ (الشعر آیت 10 تا 17)
بلاشبہ بنی اسرائیل میں وہ تمام اوصاف جمع ہو چکے تھے جو کسی بھی پسماندہ زوال پذیر قوم کا خاصہ ہوتے ہیں۔ قرآن ان تمام تر واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل قرآنی آیات قابل توجہ ہیں:
’’انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ ؑ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ان ڈرنے والوں میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر سے گھس جاؤ جب تم اندر جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔ لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کہا کہ اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ اس پر موسیٰ ؑنے کہا اے میرے رب میرے اختیار میں کوئی نہیں سوائے میری ذات کے یا میرے بھائی کے پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کردے۔ اللہ نے جواب دیا اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے“۔
(المائدہ آیت20 تا 26)
”ہم نے موسیٰ ؑکو تیس روز وشب کے لئے (کوہ طور پر) طلب کیا بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی۔ موسیٰ ؑنے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا، بگاڑپیدا کرنے و الوں کے طریقے پر مت چلنا۔ پھر جب وہ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو بولا پروردگار میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے اپنا آپ دکھا……اور جب موسیٰ ؑرنج اور غصے میں بھرا ہوا اپنی قوم میں آیا تو اس نے کہا کہ تم نے میرے بعد میری بہت بری نمائندگی کی کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ ہارون نے کہا اے میری ماں کے بیٹے، ان لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے شامل نہ کر۔ تب موسیٰ ؑنے کہا اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے۔ (جواب میں ارشاد ہوا) جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے، جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کرلیں تو یقینا اس توبہ وایمان کے بعد تیرا رب درگزر کرنے و الا اور رحم فرمانے والا ہے۔“ (الاعراف آیت 142 تا 153)
کلام خدا کے آخری الفاظ سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل پر خدا کی ناراضگی دائمی و ابدی نہیں تھی اور نہ رحمت و بخشش کا درواز ہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا تھا۔ جیسے کہ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے بیان کیا گیا ہے۔ ”پھر جب موسیٰ ؑکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھالیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی، ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور موسیٰ ؑنے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا، تاکہ وہ اس کے ساتھ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر حاضر ہوں۔ جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰ نے عرض کی اے میرے پروردگار! آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کرسکتے تھے۔ کیا آپ اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعے سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہے ہدایت بخش دیتے ہیں۔ ہمارے رب تو آپ ہیں پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے۔ آپ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا ہے جو اب میں ارشاد ہوا سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔“
(الاعراف آیت 153 تا 156)
اس کے علاوہ قرآن میں معرکہ موسیٰ ؑو فرعون کی پوری تفصیل موجود ہے جو قرآنی اوراق پر پھیلی ہوئی ہے۔ جیسے کہ خدا نے فرعون مصر کو اپنے لشکر کے ساتھ غرق کردیا اور سیدنا موسیٰ بنی اسرائیل کو ان کا وطن کنعان دلانے کیلئے صحرائے سینا میں پہنچ گئے۔ اس احوال کا بیان کچھ اس طرح ہے۔ ”ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے آخر کار جب ان میں پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا تو اے بنی اسرائیل ہم نے تمہارے مقابلے میں اپنے ایسے بندے اٹھا دیے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا تھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے کہیں بڑھا دی۔ دیکھو تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہارے اپنے لئے برائی ثابت ہوئی پھر جب دوسری تنبیہہ کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (ہیکل) میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں۔ عَسیٰ رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ قریب ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ لیکن اگر تم وہی کر گے تو ہم بھی وہی کریں گے“۔(بنی اسرائیل آیت 8-7)
”میں جسے چاہتا ہوں سزا دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوگی ہے۔“ (اعراف آیت 156) وَلَقَدْ بَوَّانَا بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ مُبَوَّا صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ”ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کئے۔“ (یونس آیت 93)
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے متعلق یہ الفاظ آج کی صورتحال پر بھی صادق آ رہے ہیں: وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یَسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا الَّتِی بٰرَکْنَا فِیْھَا وَثَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ۔ ”ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ (التی برکنا فیھا) جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ ئخیرپورا ہوا۔“ (الاعراف آیت 137)
”اور ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا۔“ (النساء آیت 54)
بائیبل میں حیاتِ موسوی کے آخری واقعات یوں درج ہیں: ”موسیٰ ؑپہاڑ کی بلندی پر جا کر خدا کے حضور جھکا اور دعا کرنے لگا۔ اے خداوند! تیرے خلاف ان لوگوں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا وہ ایک سخت سزا کے حق دار ہیں لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ تو ان کا گناہ معاف کر کے ان سے صلح کرلے! اے خداوند تو ان کی جگہ مجھے سزا دے لے۔“ سیدنا موسیٰ ؑکے اپنی وفات سے چند روز قبل بنی اسرائیل سے خطاب کا ایک مختصر اقتباس: ”اے اسرائیل! اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات کو دل و جان سے مان کر اس کے ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھے دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے گا تو خداوند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا۔ اگر خداوند اپنے خدا کی بات سنے گا تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی شہر میں بھی تو مبارک ہو گا اور کھیت میں بھی…… خداوند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں تیرے روبرو شکست دے گا۔ خداوند تیرے انبار خانوں میں اور سب کاموں میں جس کو تو ہاتھ ڈالے گا برکت کا حکم دے گا…… تجھ کو اپنی پاک قوم بنا کر رکھے گا اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پرخود قرض نہیں لے گا خداوند تجھ کو دم نہیں سر ٹھہرائے گا تو پست نہیں سرفراز رہے گا۔“ (کتاب استثناء باب 28 آیت 1 تا 13)
موسیٰ ؑنے خدا سے آخری دعا کی: ”اے خداوند! اگرچہ میں اب اس لائق تو نہیں رہا کہ وعدہ کی ہوئی سرزمین میں جاؤں تو بھی میں اس پر قدم رکھنے کا بے حد مشتاق ہوں۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری قوم کہاں سکونت اختیار کرے گی۔“ اس کے بعد موسیٰ آخری بار اپنے لوگوں کو اکٹھا کرکے ان سے مخاطب ہوا: ”اے بنی اسرائیل! میرے بعد خدا کے فرمانبردار رہنا کیونکہ خدا کی فرمانبرداری کرنے سے ہی تم وعدے کی سرزمین میں خوش رہو گے……“
اب موسیٰ ؑنے اپنے لوگوں کو خدا حافظ کہا اور اکیلا ہی اونچے پہاڑ پر چڑھنے لگا اور وہ اوپر ہی اوپر اس کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ ”پہاڑ کی چوٹی پر خداوند خود موسیٰ ؑ کو ملنے کے لئے آیا۔ وہاں سے موسیٰ نے اس خوبصورت ملک پر نظر کی جو بنی اسرائیل کو ملنے والا تھا۔ خدا نے اسے ہری بھری چراگاہیں اور اس میں بہنے والی ندیاں دکھائیں۔ اس نے اسے دور تک پہاڑ اور سمندر دکھائے اور پھر کہا کہ آمیرے بیٹے اب وقت آگیا ہے۔“
پھر ایک مدت گزرنے کے بعد ایسا ہوا کہ ”خداوند نے موسیٰ ؑکے خادم نون کے بیٹے یشوع (یوشع Joshua) سے کہا میرا بندہ موسیٰ ؑمر گیا سو اب تو اٹھ اور ان سب لوگوں کو ساتھ لے کر اس یردن کے پار اس ملک میں جا جسے میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں …… جیسے میں موسیٰ ؑکے ساتھ تھا ویسے ہی تیسرے ساتھ رہوں گا۔ میں نہ تجھ سے دستبردار ہوں گا اور نہ تجھے چھوڑوں گا۔ سو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تو اس قوم کو اس ملک کا وارث کرائے گا جسے میں نے ان کو دینے کی قسم ان کے باپ دادا سے کھائی تھی۔ (کتاب یشوع باب 1 آیت 6,5,2,1) (جاری)
(یہ طویل مضمون جولائی 2003 میں روزنامہ پاکستان میں شائع ہؤا تھا۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ کی سنگینی کے سبب اسے یہاں شائع کیا جارہا ہے)