سعودی عرب 4 اکتوبر سے مرحلہ وار عمرہ ادا کرنے کی اجازت دے گا

  • بدھ 23 / ستمبر / 2020
  • 6410

کورونا وائرس کے باعث 7 ماہ کی پابندی کے بعد سعودی عرب نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ 4 اکتوبر سے مرحلہ وار عمرے کی ادائیگی کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مملکت نے مارچ میں عمرہ معطل کردیا تھا اور مسلمانوں کی سالانہ عبادت حج کو بھی مختصر کردیا تھا جس میں لاکھوں عازمین شریک ہوتے ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پہلے مرحلے میں اصل گنجائش کا 30 فیصد یعنی سعودی عرب میں مقیم 6 ہزار شہریوں اور تارکین وطن کو 4 اکتوبر سے روزانہ عمرہ ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں یکم ربیع الاول، 18 اکتوبر سے سعودی شہریوں اور تارکین وطن کو 75 فیصد گنجائش کے ساتھ عمرے کی ادائیگی، زیارت اور عبادت کی اجازت دے دی جائے گی جس میں 15 ہزار عازمین عمرہ کی ادائیگی جبکہ 40 ہزار نمازی شریک ہوسکیں گے۔ روضہ رسولﷺ پر حاضری کی گنجائش کو بھی تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ 75 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔

تیسرے مرحلے میں یکم نومبر، 15 ربیع الاول سے سعودی عرب میں مقیم شہریوں اور تارکین وطن کے علاوہ مملکت کے باہر سے آنے والوں کو بھی عمرہ کی ادائیگی، زیارت اور عبادت کی اجازت ہوگی۔ عمرہ کرنے والوں کی تعداد 20 ہزار اور نمازیوں کی تعداد 60 ہزار روزانہ کی 100 فیصد گنجائش تک بڑھا دی جائے گی۔

تاہم دیگر ممالک سے عازمین کی آمد مرحلہ وار ہوگی اور وزارت صحت ان ممالک سے عازمین کو آمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی جہاں کورونا وائرس سے منسلک صحت کے خطرات نہ ہوں۔ چوتھے مرحلے میں کورونا وائرس کے تمام تر خطرات دور ہونے کی صورت میں مسجد الحرام میں عبادت، زیارت اور عمرہ کی ادائیگی کے معمول کے مطابق 100 فیصد گنجائش کے بحال کردی جائے گی۔

عازمین، نمازیوں اور زائرین کی آمد ایک ایپلکیشن 'تطبیق اعتمرنا' کے ذریعے ریگولیٹ کی جائے گی جو سعودی وزارت حج و عمرہ متعارف کروائے گی تا کہ وزارت صحت کے منظور شدہ ہدایات پر عملدرآمد کروایا جاسکے۔ وزارت داخلہ نے حرمین شریفین آنے والے تمام افراد کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے جن میں فیس ماسکس پہننا، محفوظ فاصلہ رکھا اور براہ راست ایک دوسرے کے رابطے میں نہ آنا شامل ہے۔