مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے اہم ہے: صدر طیب اردوان

  • بدھ 23 / ستمبر / 2020
  • 8460

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر کو حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے استحکام اور امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن اسے آج تک حل نہیں کیا جا سکا۔  انہوں نے گزشتہ سال بھارت کی جانب سے 5اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنادیا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خصوصاً کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں اجلاس اس لحاظ سے انفرادیت کا حامل ہے کہ اس اجلاس میں عالمی رہنما کورونا وائرس کی وجہ سے آن لائن خطاب کررہے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ نسل پرستی، زینوفوبیا، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں اور تعصب اور جہالت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایسے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔ اس بیانیے کی وجہ بنیادی طور پر سیاستدان ہیں جو ووٹوں کی خاطر یہ مقبول بیانیہ اپناتے ہیں اور وہ مخصوص لوگ ہیں جنہوں نے آزادی اظہار کے نام پر نفرت آمیز بیانات کو صحیح قرار دیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 15مارچ کو نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خلاف کیے گئے حملے کو اقوام متحدہ اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کا دن قرار دے۔ ترک صدر نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف جغرافیائی لحاظ سے آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

چند ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے برخلاف القدس میں سفارتخانے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے مسئلہ فلسطین مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ لیکن ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جس میں فلسطینی عوام کی رضامندی شامل نہ ہو۔

صدر اردوان نے مشرقی بحیرہ روم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک علاقائی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کر رہے ہیں جس میں خطے کے ممالک کے حقوق کو مدنظر رکھا جائے اور قبرصی ترکوں کو بھی اس میں جگہ دی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسئلہ قبرص کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یونان کا غیر مناسب رویہ اور پالیسی ہے۔

شام کے بحران کے بارے میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ بحیثیت عالمی برادری ہم تمام دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ یکساں اصولی رویہ اختیار کیے بغیر شام کے مسئلے کا مستقل حل تلاش نہیں کر سکتے۔ ترکی آج دنیا میں سب سے زیادہ پناہ دینے والے مہاجرین کے ملک کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور ہم نے پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں بساتے ہوئے پوری انسانیت کے وقار کو بلند کیا۔

ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرنے پر بھارت نے چین اور ترکی سے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسے اپنے معاملے میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندہ ٹی ایس تری مرتی نے ان لیڈروں کے بیانات کو اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت قرار دیا۔ اور کہا کہ ترکی کو دیگر ملکوں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

5اگست 2019 کو بھارت نے مسئلہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا غیرقانونی طور پر خاتمہ کرتے ہوئے وہاں کرفیو نافذ کردیا تھا اور ہر طرح کے مواصلات پر پابندی عائد کردی تھی۔  اس کے بعد سے پاکستان چین کی مدد سے اس مسئلے کو تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اٹھا چکا ہے۔