امریکا کی اسرائیل سے محبت کا راز کیا ہے (3)

ارض مقدس کے متعلق زبور کا بیان: وہی خدا ہمارا خدا ہے۔ اس کے احکام تمام زمین پر ہیں جس نے اپنے عہد کو ہمیشہ یاد رکھا۔ اس کلام کو جو اس نے ہزار پشتوں کے لئے فرمایا۔ اسی عہد کو جو اس نے ابراہام سے باندھا اور اس قسم کو جو اس نے اضحاق  ؑ سے کھائی، اس کو اس نے یعقوب ؑکے لئے آئین یعنی اسرائیل کے لئے ابدی عہد ٹھہرایا اور کہا کہ میں کنعان کا ملک تجھے دوں گا کہ تمہارا موروثی حصہ ہو۔“    (کتاب زبور باب 105 آیت 7 تا 11)

 دانیال نبی ؑکی دعا جو وہ زمانہ اسیری بابل میں ہر روز بلاناغہ مانگا کرتے تھے۔  خداوند تو ہمیں آزاد کر اور ہمیں اپنے ملک لوٹ جانے دے۔

زبور میں ایک جگہ تحریر ہے کہ: ایک دن ایک قاصد ملک کنعان کی ایک بری خبر لے کر داؤد بنی کے پاس آیا کہ بنی اسرائیل کے ملک پر ایک بار پھر فلسطی چڑھ آئے ہیں۔“ بائیبل کے مطابق فلسطیوں کے ملک میں داؤد پیغمبر ؑنے ہجرت بھی کی اور ان کے ساتھ ان کی بہت سی جنگیں بھی ہوئیں۔ یہ فلسطی کون ہیں جن سے سیدنا داؤد نے جنگیں لڑیں؟ یہ یونانی النسل لوگ فلسطیہ کے خطے میں کب آباد ہوئے۔ انہوں نے اسلام کب قبول کیا؟ اور ارض مقدس سے ان کا کیا تعلق ہے؟ ان سوالات پر ہم علیحدہ مضمون میں بحث کریں گے، مگر اس وقت ہماری بحث ”اسرائیل“ سے متعلق ہے۔ ارض مقدس (کنعان) جن کا آبائی و قومی وطن قرار پائی تھی۔ یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے قومیت و شہریت کے بدلے ہوئے ایک مختلف دور میں کسی نسلی قومیت کے حق کی بات کرنا کہاں تک قرین انصاف ہے اور مزید یہ کہ بنی اسرائیل سے مراد سیدنا یعقوب ؑکی سلبی و نسلی اولاد ہے یا ان کے فکری فرزند بھی اس میں شامل ہیں؟

 یہود کے نزدیک قدیم تصورات کے مطابق بنی اسرائیل سے مراد صرف وہی لوگ ہیں جو سیدنا یعقوب ؑ (اسرائیل) کے بارہ بیٹوں سے بارہ قبیلوں کی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک بڑی قوم قرار پائے۔ لیکن کئی اہل علم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب سیدنا یعقوب ؑاپنے تمام کنبے کے ساتھ اپنے بیٹے سیدنا یوسف ؑ کے پاس مصر تشریف لے گئے تو ان کی کل تعداد 68 تھی لیکن جب سیدنا موسیٰ  ؑاپنی اسی قوم کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے آئے اور وہاں ان کی مردم شماری ہوئی تو ان کے مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے بھی متجاوز تھی۔ ظاہر ہے اتنی خواتین بھی ہوں گی جبکہ انہوں نے مصر میں کل چار سو تیس برس گزارے تھے۔ کیا کوئی نسلی قوم اتنے عرصے میں اتنی ترقی کرسکتی ہے؟ یہ سوال بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ یہود کی بحیثیت قوم جو پیہم اتنی خوفناک بربادیاں ہوتی رہی ہیں، اس کی وجہ ان کا نسلی تفاخر، قومی سرکشی اور اپنے خدا کے اخلاقی احکام کی خلاف ورزی و نافرمانی ہی تھی (جیسے مابعد آنے والے بہت سے انبیاء و رسل کا انکار اور زیادیاں وغیرہ) یا اس کی کوئی دیگر وجوہ بھی تھیں جیسے کہ ارض مقدس کی جغرافیائی سٹریٹیجکل حیثیت کیونکہ یہ بابرکت سرزمین ابدی و فطری طور پر تین بڑے براعظموں کا سنگھم رہی ہے جب اقوام عالم کے تمام ذرائع آمدورفت یہیں سے گزرتے تھے۔

بہرحال ہمارا مطالعہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے الہامی کلام میں یہود کو ارض مقدس سے دائماً کبھی بھی اور کہیں بھی محروم نہیں کیا۔ قرآن اور بائیبل دونوں اس پر گواہ ہیں۔ اس لئے مذہبی نقطہ نظر سے ان کے حق میں ارض موعودہ کا عہد آج بھی قائم ہے۔ جو حضرات دور موسوی ؑ میں ان کی نافرمانیوں کو دیکھ کر ان پر ذلت، مسکینی، درماندگی اور غضب الٰہی کا دائمی حکم چسپاں کرتے ہیں وہ کم از کم یہ تو ملا خطہ فرمالیں کہ اگر ایسے ہوتا تو یوشع بن نون ؑ کی قیادت میں بنی اسرائیل کو فتح نصیب نہ ہوتی اور وہ ارض مقدس کے قابض و مالک نہ بن پاتے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات اہم ہے کہ سیدنا موسیٰ  ؑ کے کئی صدیوں اور کئی نسلوں بعد بنی اسرائیل کو جو عروج نصیب ہوا وہ کبھی نہ ہو پاتا۔ ہماری مراد سیدنا داؤد ؑ اور ان کے بعد بالخصوص سیدنا سلیمان ؑ کی عظمت کے ادوار ہیں جو سیدناموسیٰ  ؑ سے چار ساڑھے چار صدیوں بعد بنی اسرائیل کی قیادت پر فائز ہوئے ہیں۔ سیدنا داؤد ؑکو سموئیل بنی ؑکی معر فت سے طالوت کے بعد خطہ ھبرون (موجودہ الخلیل) کا حکمران بنایا گیامگر انہوں نے باہم متصادم بنی اسرائیل کو یکجا کرتے ہوئے ایک وسیع تر سلطنت ”اسرائیل“ کی بنیاد رکھی جس کا پایہ تحت بیت المقدس (یروشلم) تھا۔ یعنی پہلی اسرائیلی ریاست کے بانی صاحب زبور داؤد نبی ؑہیں۔ ان کے بعد ان کے باصلاحیت بیٹے سیدنا سلیمان ؑ کے دور میں ”اسرائیل“ کو جو اقتدار اور عروج نصیب ہوا اس کی مثال ڈھونڈنی مشکل ہے۔ جن حضرات کی بشمول قرآن آسمانی کتب پر نظر ہے، اس سے بے خبر نہیں ہیں۔  یہاں اگر ان کی عظیم الشان سلطنت، اقتدار اور قوت کے واقعات صرف قرآن ہی سے نقل کر دیے جائیں تو مضمون کی طوالت بہت بڑھ جائے گی۔ عامۃ المسلمین میں بہت سے پڑھے لکھوں کو (نام نہیں لوں گا) بحث کرتے ہوئے یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ داؤد و ؑ سلیمان ؑ پہلے آئے تھے یا موسیٰ ؑ و ہارون ؑ۔ اس بے خبری کی وجہ سے بنی اسرائیل کے متعلق عجیب و غریب اور بہت سی بے سروپا باتیں مشہور کر رکھی ہیں۔ عامۃ المسلمین میں پھیلائے گئے اس مغالطے کو دور کرنے کیلئے ہم یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس درمیانی عرصے کی تفصیل اجمالاً پیش کرنا چاہتے ہیں۔

سیدنا موسیٰ  ؑ کی وفات کے بعد ان کے شاگرد اور جانشین حضرت یوشع  ؑبن نون (جو سیدنا یوسف ؑ کے بیٹے افراہیم کی اولاد سے تھے)کی قیادت و رہنمائی میں بنی اسرائیل فتح حاصل کرتے ہوئے ارضِ کنعان پر قابض ہو گئے۔ حضرت یوشع  ؑآخری عمر تک بنی اسرائیل کی نگرانی اور اصلاح میں مصروف رہے۔ انہوں نے باہمی جھگڑوں کے تصفیے کی خاطر قاضیوں کا تقرر فرمایا تاکہ بنی اسرائیل آئندہ بھی اس طرح کا نظام قائم رکھیں۔ یہ نظام حضرت موسیٰ  ؑکی وفات سے قریباً ساڑھے تین سو سال بعد تک قائم رہا۔ قبائل پر حکمرانی سردار کرتے تھے لیکن ان کے مقدمات کے فیصلے قاضی انجام دیتے۔ اس عرصے میں بنی اسرائیل کا نہ کوئی متحدہ بادشاہ تھا نہ کوئی ایک حکمران، اس لئے ہمسایہ اقوام میں سے کبھی فلسطینی، کبھی مدائنی، کبھی آرامی اور کبھی عمالقہ ان پر چڑھ آتے۔ سیدنا موسیٰ  ؑکے بعد بنی اسرائیل میں انبیاء کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا۔ جن میں یوشع  ؑکے بعد حزقیل ؑ، ایلیاہ (الیاس)، الیسع  ؑ، دانیال ؑ، ذکریاؑاور یحییٰ  ؑجیسے نبیوں کے اسمائے مبارک خاص طور پر معروف ہیں۔

اسرائیلی ریاست کو مستحکم نہ کرنے کی وجہ سے، فلسطینیوں نے جن کا پورا علاقہ غیر مغلوب رہ گیا تھا، بنی اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرلیا اور پے در پے حملے کرکے ان کو ارض کنعان کے کئی خطوں سے بے دخل کردیا۔ حتیٰ کہ ان سے خداوند کے عہد کا صندوق (تابوت سکینہ جس میں سیدنا یوسف ؑکی ہڈیاں اور کچھ دیگر نوادرات محفوظ تھے) تک چھین کر لے گئے۔ آخر کار بنی اسرائیل کو ایک فرمانروا کے تحت اپنی ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی دور میں ان کے ایک قاضی شموئیل ؑکو اللہ کی طرف سے منصب نبوت عطا ہو گیا جبکہ دوسری طرف عمالقہ کے بادشاہ جالوت نے بنی اسرائیل کو مغلوب کرکے ان کے کئی سرداروں اور معززین کو گرفتار کرلیا۔ اس لیے بنی اسرائیل نے سموئیل نبی ؑسے درخواست کی کہ ان کا بھی ایک سلطان ہونا چاہیے۔ قرآن میں سورہ بقرہ میں اس واقعہ کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ انہوں نے خدا سے دعا مانگ کر 1020 ق م میں بنیامین کی نسل سے ساؤل (طالوت) کو ان کا بادشاہ مقر کردیا۔

 پھر طالوت ؑاور جالوت میں جنگ ہوئی، اسی طرح بعد میں تابوت سکینہ بھی بنی اسرائیل کو مل گیا۔ (سیدنا داؤد ؑانہی طالوت ؑ کے داماد تھے) اس متحدہ سلطنت اسرائیل کے تین فرمانروا ہوئے۔ طالوت ؑکے بعد سیدنا داؤد ؑ(1004 تا 965 ق م) اور ان کے بعد سیدنا سلیمان ؑ(965 تا 926 ق م) اسرائیل کی حکمرانی پر فائز رہے۔ سیدنا داؤد ؑکے زمانے میں یہ سلطنت بڑی مستحکم ہو گئی اور سلیمان پیغمبر ؑ کے زمانے میں اس سلطنت نے عروج کی بلندیوں کو چھوا اور وہ تمام کام مکمل ہوا جسے بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ  ؑکے زمانے میں نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ اس پورے خطہ ارضی میں صرف شمالی ساحل پر فنیقیوں کی اور جنوبی ساحل پر فلسطیوں کی ریاستیں باقی رہ گئیں جنہیں مسخر کرنے کی بجائے محض باجگزار بنانے پر اکتفا کیا گیا۔

سلیمان پیغمبر ؑ کے بعد بنی اسرائیل اپنی اس عظمت کو برقرار نہ رکھ سکے اور ان پر دنیاپرستی کا شدید غلبہ ہوگیا۔ مفاد پرستی کی لڑائیاں شروع ہو گئیں اور دولت اسرائیل جلد ہی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ سامریہ کی اسرائیلی ریاست اور یروشلم کی یہودیہ ریاست اور پھر ہمسایہ و دیگر اقوام کے پے در پے حملے ان پر شروع ہو گئے۔ جن میں 598 ق م میں بابل کے بادشاہ بخت نصر کا حملہ زیادہ بڑا تھا مگر تب اس نے زیادہ نقصان نہ پہنچایا۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد یرمیاہ نبی ؑکی تنبیہہ کے باوجود یہود نے بخت نصر کے خلاف بغاوت کردی جس پر اس نے 587 ق م میں اسرائیل پر شدید ترین حملہ کیا اور یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ یہ یہود کی پہلی بڑی قومی تباہی تھی جس میں ہیکل سلیمانی کو بھی نابود کردیا گیا تورات بھی غائب کر دی گئی اور تابوت سکینہ ایسا گم ہوا کہ پلٹ کر یہود اس کیلئے دائمی گریہ و زاری کرتے ہی رہ گئے مگر کبھی اسے پا نہ سکے۔ بہت سے یہود قتل ہوئے، باقی تتر بتر ہو گئے۔ اور بڑی تعداد میں یہودیوں کو غلام بنا کر بابل لے جایا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں دانیال نبی ؑ بھی شامل تھے۔ بخت نصر نے 561 ق م میں وفات پائی اس کا بائیبل میں کوئی سو دفعہ نام آیا ہے۔

جس طرح آج اسرائیل کو امریکی سرپرستی حاصل ہوئی ہے، اسی طرح تب فارس (ایران) کی مدد حاصل ہو گئی۔ عہد نامہ عتیق کی رو سے بخت نصر کی جارحیت کے 70 برس بعد 539 ق م میں کسریٰ فارس سائرس اعظم نے بابل پر حملہ کردیا اور فتح حاصل کی۔ اس کے دوسرے ہی سال اس نے فرمان جاری کر دیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن جانے اور دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔ اس کے بعد یہود کے قافلوں پر قافلے اسرائیل جانے شروع ہو گئے۔ سائرس نے انہیں دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی اجازت بھی دے دی۔ 516 ق م میں بیت المقدس نئے سرے سے آباد ہوا اور ہیکل سلیمانی بھی دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ 458 ق م میں حضرت عزیر ؑ(عزرانبی) ایک جلا وطن گروہ کے ساتھ اسرائیل پہنچے تو شاہ ایران اردشیر نے ایک فرمان جاری کیا جو بائیبل کی کتاب عزرا باب 8 آیات 26,25 کے مطابق یوں تھا: تو اپنے خدا کی اس دانش کے مطابق جو تجھ کو عطا ہوئی حاکموں اور قاضیوں کو مقرر کرتا کہ دریا پار کے سب لوگوں میں جو تیرے خدا کی شریعت کو جانتے ہیں، انصاف کریں اور تم اس کو جو نہ جانتا ہو سکھاؤ۔

اس فرمان سے فائدہ اٹھا کر سیدنا عزیر  ؑ نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام سرانجام دیا۔ پھر سکندر اعظم کی قیادت میں یونانیوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا جس سے ایرانی سلطنت کو بھی زوال آ گیا اور یروشلم پر بھی 332 ق م میں سکندر اعظم کا قبضہ ہوگیا۔ سکندر کے بعد 175 ق م میں انطاکیہ کے انٹیوکس IV نے یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنی چاہی، اس نے ہیکل میں زبردستی بت رکھوائے اور یہود کو مجبور کیا کہ انہیں سجدہ کرو، قربان گاہ پر قربانی بند کروادی، جو گھر میں تورات کا نسخہ رکھے اس کیلئے سزائے موت مقرر کروادی۔

پھر 67 ق م میں مکابی کی بغاوت ہوئی تو یہود کو آزادی مل گئی۔ 63 ق م میں رومی جنرل پومپائی نے یروشلم کا محاصرہ کرکے ہیکل کو پھر تباہ کردیا لیکن 37 ق م میں ہیروڈ رومی شہنشاہ کے باجگزار کی حیثیت سے یہود کا بادشاہ بنا تو ہیکل نے ایک دفعہ پھر سیدنا سلیمان  ؑکے عہد کی عظمت حاصل کرلی۔ یہ 4 ق م تک رہا۔ ہیروڈ اعظم کا تعمیر کردہ یروشلم ہی سیدنا مسیح  ؑکے عہد کا یروشلم تھا جب معبد میں منڈیاں لگتی تھیں جن پر سیدنا مسیح  ؑنے سخت احتجاج کیا۔ آپ ؑ کی انقلابی تعلیمات سے گھبرا کر یہودی علما آپ ؑ کے مخالف ہو گئے۔ بائیبل کے عہد نامہ جدید میں وہ تفصیلی واقعات موجود ہیں کہ اس دور میں کیا کیا مظالم ہوئے اور سیدنا مسیح  ؑ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا۔ اس دور میں جو بڑے درد ناک واقعات ہوئے اِن میں سب سے بڑا واقعہ سیدنا مسیح  ؑ کو مصلوب کئے جانے کا تھا۔ (اگرچہ مسلمانوں کے نزدیک اس اذیت کے باوجود ان کی جان بچالی گئی)

بہرحال زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہوگئی۔ 64 اور 66 کے درمیان یہودیوں نے بغاوتیں کیں۔ آخر کار 70 میں رومی سلطنت نے طیطس کی سخت فوجی کارروائی سے یہودیوں کو کچل دیا۔ اس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ 33 ہزار یہودی مارے گئے۔ 67 ہزار گرفتار کر کے غلام بنا لیے گئے۔ ہزارہا مصری کانوں میں بھیج دیے گئے۔ ہیکل سلیمانی کو آگ لگا کر یہودیوں سمیت جلا ڈالا گیا۔ اب کے ہیکل ایسا تباہ ہوا کہ پلٹ کر کبھی تعمیر نہ کیا جاسکا۔ یہود کی تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین کیلئے چن لی گئیں۔ ارض مقدس سے یہود کا اقتدار ایسا مٹا کہ دو ہزار برس تک انہیں دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا۔ 136 میں رومی قیصر ہیڈ ریان نے اس شہر کو دوبارہ آباد کیا مگر اب اس کا نام ایلیا رکھا گیا اور اس میں یہود کا داخلہ بھی ممنوع قرار پایا اور اس جرم پر ان کیلئے سزائے موت مقرر کردی گئی۔330 میں معروف مسیحی حکمران کانسٹنٹائن (Constantine)نے یروشلم کو کاملاً مسیحی شہر میں تبدیل کردیا، مگر 614 میں ایرانیوں نے اس میں موجود بیشتر کلیساؤں کو تباہ کردیا۔یہ پیغمبر اسلام ؐ کے دور کا واقعہ ہے، اس وقت آپؐ کی ہمدردیاں جارح ایرانی کسریٰ کے بالمقابل اہل کتاب کے رہنما قیصرِ روم کے ساتھ تھیں اور قرآن میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ اہل روم غالب رہیں گے۔  636 میں امیرالمومنین سیدنا عمر فاروق  ؓ نے بغیر جنگ کئے یروشلم فتح کرلیا۔ اس وقت یہاں یہود کا کوئی معبد سلامت نہ تھا۔ کچھ کھنڈرات تھے یا مسیحیوں کے کچھ چرچ مگر وہاں بھی دعوت ملنے کے باوجود عمر فاروق  ؓ نے اس خدشے سے نمازادا نہ کی کہ مبادا کہیں مابعد مسلمان اسے ڈھا کر مسجد نہ بنالیں۔

17 ویں صدی عیسوی میں یروشلم کے پہاڑصیہون سے منسوب یہود کی جدید انقلابی تحریک شروع ہوتی ہے جس کا پہلا ہیڈ کوارٹر وی آنا میں تھا۔ یہ تحریک وسطی یورپ سے اٹھی لیکن اس کی زیادہ تر امداد امریکی اور یورپی یہودیوں نے کی۔ 1854 میں ایک یہودی نے لندن میں اس مقصد کے تحت ایک کمپنی قائم کی۔ 1876 میں اس سوسائٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد فلسطین میں یہود کی نو آبادیاں قائم کرنا تھا۔ 1896 میں یہودی صحافی ڈاکٹر ہرزل نے ”ریاست یہود“ کا پروگرام پیش کیا جس کی روشنی میں 17اگست 1897 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں صیہونی کانفرنس منعقد ہوئی۔ نتیجتاً یہودیوں میں ہجرت کی تحریک شروع ہوگئی۔ سب سے پہلے روس سے یہودی ارض مقدس پہنچے۔ انگریزوں نے ان لوگوں کی بڑی مدد کی اور ترک سلطان سے ڈاکٹر ہرزل کی گفت و شنید کروائی مگر سلطان نے یہ درخواست ماننے سے انکار کردیا کہ یہودیوں کو ارض مقدس میں آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ اس نے کہا کہ جس سرزمین کو میرے بزرگوں نے خون دے کر حاصل کیا ہے میں اس کا سودا نہیں کرسکتا۔1902   میں ڈاکٹر ہرزل کی موت کے بعد یہود نے فری میسن تحریک شروع کی۔ 1914 میں یہود کو ملکیت زمین کا حق مل گیا۔ برطانیہ نے بھی یہودیوں کا ساتھ دیا۔ یوں نومبر 1917 کوبالفور ڈیکلیریشن جاری ہوگیا۔ جنگ عظیم کے دوران جرمن سفاک ہٹلر نے یہود پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے اس ہولوکاسٹ کی داستان بڑی دردانگیز ہے۔ ہم اس کی تفصیلات میں نہیں جاتے اور یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماقبل بھی یہود صدیوں تک محروم تمنا رہے۔ لیکن انہوں نے ان تمام تر غلطیوں، سزاؤں اور جلا وطنیوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ سچی لگن سے جدوجہد کی اور اب نصف صدی سے وہ اپنا کھویا ہوا وقار نئے سرے سے بحال کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

(یہ طویل مضمون جولائی 2003 میں روزنامہ پاکستان میں شائع ہؤا تھا۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ کی سنگینی کے سبب اسے یہاں شائع کیا جارہا ہے)