امریکا کی اسرائیل سے محبت کا راز کیا ہے (4)

 مضمون ہذا میں ہم نے دو باتیں واضح کرنے کی کوشش کی ہے اول یہ کہ امریکا کی اسرائیل میں خصوصی دلچسپی اور بڑھی ہوئی محبت و دوستی  مادی مفادات اوردنیاوی تعلقات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کی اہم وجہ وہ اخلاقی و روحانی تعلق ہے جو بائیبل نے اولاد یعقوب ؑکا اس خطہ ارضی سے قائم کر رکھا ہے۔

ہماری نظر میں بائیبل کی آسمانی تعلیمات پر یقین رکھنے والا کوئی بھی انسان جب ہمارے بیان کردہ حوالہ جات و آیات کو پڑھے گا وہ ارض مقدس کے اسرائیل سے تعلق کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ بائیبل میں بیان کی گئی تمام تر تفصیل کی تصدیق ہم نے قرآن مجید سے بھی پیش کی ہے اور اس لحاظ سے اپنی پوری امت مسلمہ کی خدمت میں یہ سوال رکھا ہے کہ کیا  آخری کلام الٰہی کی روشنی میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ ہم مسلمان جس طرح فلسطینی مسلمانوں کے لئے ان کے مخصوص خطوں پر مشتمل ایک  آزاد خودمختار (ساورن) فلسطینی ریاست کے خواہشمند ہیں اسی طرح ہمیں ارض کنعان میں یہود کی قومی ریاست ”اسرائیل“ کو بھی خوش دلی و خوش اسلوبی سے تسلیم کرلینا چاہیے؟ ہم مسلمانوں کے پاس اس وقت دنیا کے بہترین خطوں میں خدا کے فضل سے 56 مسلم ممالک موجود ہیں لیکن یہود کیلئے صرف ایک قومی وطن کی بات کرتے ہوئے ہم اتنے جذباتی و غصیلے کیوں ہو جاتے ہیں؟ اگر امریکا و برطانیہ نے ایک مظلوم قوم کو ان کا صدیوں سے  چھینا ہوا حق لوٹا دیا ہے تو کیا برا کیا ہے؟ ہم ذرا حوصلہ رکھیں اور باوقار طریقے سے اپنے فلسطینی بھائیوں کو بھی ان کا تاریخی و پیدائشی حق ضرور دلوائیں، دنیا اس سے قطعی انکاری نہیں ہے بشرطیکہ بدلے ہوئے حالات میں ہم سب جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنالیں۔

پاکستان کے ایک ممتاز صحافی نے ہمارے سامنے یہ سوال رکھا ہے کہ اگر ارض مقدس اسرائیل کا قومی وطن ہے اور آپ کی تحریر کے مطابق یہ چیز بائیبل میں صریحاً واضح طور پر بیان کی گئی ہے تو پھر امریکا ہی اس سلسلے میں اتنا پرعزم و پرجوش کیوں ہے۔ بائیبل پڑھنے و الے مسیحی صرف امریکا میں ہی تو نہیں ہیں بلکہ پورا یورپ موجود ہے۔ وہ اس سلسلے میں اتنے سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟ ہمارے اس جواب پر کہ ”یورپ بھی اسرائیل کے قیام و استحکام کا حمایتی و پشت پناہ ہے“ انہوں نے دوبارہ یہ سوال پیش فرمایا ہے کہ حمایت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ امریکی حمایت جتنی پرجوش ہے، یورپ کی حمایت میں وہ دم خم کیوں نہیں ہے؟ ہماری نظر میں یہ سوال خاصا اہم ہے بلکہ ہمارے اپنے ذہن میں بھی ماقبل یہ کشمکش رہ چکی ہے کہ آج کی جدید دنیا تو مذہبی لحاظ سے بہت لبرل بلکہ بالعموم پوری طرح سیکولر ہے جسے مذہبی روحانی یا آسمانی کتابوں اور ان میں بیان کردہ تعلیمات سے کوئی خاص دلچسپی ہی نہیں ہے۔ تو پھر وہ اسرائیل کے مسئلے کو ان بنیادوں پر کیونکر دیکھ سکتے ہیں مگر جب ہم نے باریک بینی سے اس کا جائزہ لیا ہے تو واضح طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ مغربی اقوام مذہبی لحاظ سے لبرل اورسیکولر ضرور ہیں لیکن کمیونسٹ ممالک و اقوام کی طرح مذہب بیزار ہرگز نہیں ہیں۔

ایک مخصوص حد تک نہ صرف بائیبل بلکہ تمام مذہبی و روحانی کتب کا احترام و تقدس اور ان میں بیان کردہ تعلیمات کا وقار و لحاظ مغربی اقوام میں ضرور پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر این میری شمل نے ایک دفعہ کہا تھا کہ مغربی لوگ بظاہر جتنے مذہب سے بیگانے نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہ مذہب سے اتنے دور نہیں ہیں۔ مشرقی لوگوں نے خواہ مخواہ انہیں روحانیت بیزار اور مادہ پرست سمجھ رکھا ہے۔ اب رہ گیا یہ سوال کہ امریکا اس سلسلے میں یورپ سے آگے کیوں ہے؟ ہماری نظر میں یہ بات حقیقت ثابتہ ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ امریکی حکومتیں بھی بالعموم یورپین حکومتوں کی نسبت زیادہ مذہبی رہی ہیں۔  امریکی صدر جارج بش کے متعلق تو اس حوالے سے خاصی تفصیلات مغربی میڈیا (اخبارات و رسائل مثلاً ویکلی نیوز ویک اور ٹائم وغیرہ) میں چھپ  چکی ہیں۔ فنانشل ٹائمز میں واشنگٹن بیورو کے انچارج جیمرہارڈنگ کی انکشاف انگیز تجزیاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اس وقت صرف 20 فیصد یورپی عوام سنڈے کی مذہبی عبادت میں شرکت کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ امریکا میں ایسا کرنے والوں کی تعداد تقریباً 50 فیصد ہے اور ایک سروے کے مطابق اب یہ تعداد 70 فیصد ہو چکی ہے۔ چنانچہ عقیدے کی یہ خلیج آہستگی اور خاموشی کے ساتھ یورپ اور امریکا کے تعلقات کو متاثر کر رہی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف دنیائیں دو مختلف راستوں کی طرف گامزن ہیں۔“ وائٹ ہاؤس میں مذہبیت کا اثر رسوخ صرف صدر بش سے شروع نہیں ہوا ہے بش سے پہلے رونالڈ ریگن اور بہت سے امریکی صدور کا نام اس سلسلے میں لیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ایک امریکی صدر تھے ہیری ٹریومن (Harry Truman) جن کو آج بھی اسرائیل میں بڑی قدرومنزلت حاصل ہے۔ 

 اسی طرح مجھے یاد ہے جب ہمارے ایک پاکستانی، صدر جمی کارٹر کے دور میں امریکا گئے تھے تو امریکی صدر نے استقبال کرتے ہوئے مذہب سے اپنے گہرے تعلق کا حوالہ بھی دیا تھا۔ اکثر و بیشتر امریکی صدور اپنے خطبات میں بائیبل کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ جیمز ہارڈنگ نے لکھا ہے کہ جمی کارٹر جب امریکا کے صدر تھے تو وہ اتوار کو بائیبل سٹڈی کلاسز میں بائیبل کا درس دیا کرتے تھے۔ قریباً 85 فیصد امریکی اپنی شناخت کسی نہ کسی مذہب کے حوالے سے کراتے ہیں۔ اس لیے خدا پر اپنے یقین کا اظہار ہر صد ر کرتا ہے۔ کلنٹن بھی اپنی تقاریر میں انجیل مقدس کے حوالے دیا کرتے تھے اب تو تھامس جیفرسن کی کلیسا اور مملکت کے درمیان تعمیر کردہ دیوار گر رہی ہے کیونکہ بعض مسیحیوں کے نزدیک صدر بش مسیحیت کے چوتھے احیا کی علامت ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے عملے پر بائیبل کے درس میں شرکت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ صدر بش اپنے دن کا آغاز دوزانو بیٹھ کر عبادت سے کرتے ہیں۔ نئی انتظامیہ کے ابتدائی احکامات میں کہا گیا تھا کہ اگر ضرورت پڑے تو عقائد کی بنیاد پر جنگ کی جاسکتی ہے۔“

”بائیبل سٹڈی گروپ“ کئی عشروں سے وائٹ ہاؤس کے ایک حصے کے طور پر موجود رہا ہے اور اس کے اجلاس بھی منعقد ہوتے رہے ہیں مگر صدر بش کی ایوان صدر میں منتقلی کے بعد بائیبل سٹڈی گروپ کے کئی نئے حلقے ظہور میں آئے ہیں۔ جہاں بائیبل کے عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کے درس کے ساتھ ان پر تبادلہ خیالات بھی ہوتا ہے۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز بائیبل کا ایک حصہ پڑھتے ہیں اور یہ کہ وہ سابق امریکی صدور کے پسندیدہ شارح انجیل بلی گراہم کی تحریروں کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انہوں نے کہا تھا کہ میری زندگی میں یسوع مسیح  ؑکو سب سے اہم سیاسی مفکر کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ انہوں نے میرے دل کی دنیا بدل ڈالی ہے۔“ انہوں نے بائیبل کے درس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”اس کے نتیجے میں وہ شراب اور منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے محفوظ رہے“۔ تاہم صدر بننے کے بعد وہ اپنے مسیحی عقائد پر فخر کا اظہار زیادہ تر نجی محفلوں میں کرتے ہیں جس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ دنیا خدا کی فرمانروائی ماننے والوں اور شیطان کی آلہ  کار بننے والی اقوام یا گروہوں کے درمیان ہونے والی جنگ کا میدان ہے۔ عراق کے خلاف جنگ کے پیچھے بھی ان کا یہی مذہبی عقیدہ کار فرما تھا۔

انتخابی نقطہ نظرسے بھی بش کو ان نظریات کی تشہیر کا فائدہ ہوا ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھی ہے جو مذہب سے ان کے لگاؤ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دراصل صدر بش امریکی معاشرے میں بڑے پیمانے پر نشوونما پانے والے مذہبی عنصر کا ایک حصہ ہیں جو سیاست پر بھی اثرانداز ہورہا ہے اس سے پہلے مسیحیت کے اس نوع کے واقعات 1740 کے عشرے، انیسویں صدی کے اوائل اور 1880 کے عشرے میں بھی ہو چکے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ اس بات پر کسی بھی گفتگو سے گریز کرتا ہے کہ صدر کے راسخ العقیدہ مسیحی ہونے کے باعث خارجہ پالیسی بنانے کا عمل کسی طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر کا عقیدہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور پالیسیاں قومی مفاد میں بنائی جاتی ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں بش انتظامیہ نے اس بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ آبادی میں اضافے کی شرح پر قابو پانے کے لئے منشیات اور جسمانی لذتوں سے پرہیز کو اقوام متحدہ کی پالیسی کے طور پر اپنایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق ان کی اسرائیلی نواز پالیسی کو بھی مسیحی عینک سے دیکھا جانا چاہیے۔

نائن الیون کے خودکش حملوں کے بعد صدر بش نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ”امریکا اپنے دشمنوں کے خلاف Crusades جنگیں لڑے گا“ جس پر اکثر مسلم ممالک نے اعتراض کیا تو اسے زبان کی غلطی قرار دیا گیا۔ ویسے ہماری رائے میں Crusades کا لفظ اپنے وسیع تر مفہوم میں بھی، بولا جاتا ہے جس سے نیکی یا اچھائی کیلئے کوئی بھی جدوجہد یا جنگ مراد لی جاسکتی ہے۔ مذہبی الذہن لوگ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مخصوص مذہب سے ہو بالعموم اپنی جدوجہد کو ایک تقدس اور پاکیزگی کے معنوں میں لیتے ہیں جس طرح انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں کلنٹن مونیکا سکینڈل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا میں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے پہلے اسے اچھی طرح دھلواؤں گا اور پاکیزہ بناؤں گا۔ ہماری نظر میں یہ ایک فطری و نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب کوئی خاص چیز دنیا کی کسی ایک قوم میں بڑھتی ہے تو اس کے خواہ مرئی یا غیرمرئی مثبت یا منفی اثرات دیگر ہم عصر اقوام پر بھی مرتب ہوتے ہیں آج کی دنیا تو ویسے ہی گلوبل ویلیج بن چکی ہے اس لئے ایسی اثر آفرینی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک ملک میں کوئی خاص سیاسی تبدیلی آتی ہے تو بالعموم اس کے اثرات ساتھ والے کئی ممالک میں ادھر ادھر جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران بھی ہم ایسے اکثر مناظر دیکھ چکے ہیں۔ مسلمان اقوام میں اگر مذہب کا احیا ہو گا چاہے وہ مثبت طور پر ہو یا منفی انداز سے، اس کے اثرات دیگر مذاہب کے پیروکاران پر بھی ضرور کسی نہ کسی شکل میں اثر انداز ہوں گے۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب ہماری چودھویں صدی اختتام پذیر ہوئی تو نئی ہجری صدی کا استقبال ایسے بے شمار پرجوش نعروں سے کیا گیا تھا کہ یہ نئی صدی ”غلبہ اسلام“ کی صدی ہو گی کیونکہ اس خاص دور میں مخصوص جنگجو اسلام پر اچھا خاصا کام ہوا تھا۔ سو اس کے داعیان نے ایسے پرجوش دعوے کئے۔ جب کوئی دعویٰ کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ کر دکھانے کی کاوش بھی لازماً ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے وہ مثبت کی بجائے منفی ہو جائے یا اس سے جلا پا کر دیگرمدمقابل اقوام میں جذبہ رقابت کے تحت احیائی تحریکیں اس سے زیادہ شدومد اختیار کرلیں۔ شاید ہماری نشاۃ ثانیہ کی دعویدار بعض پرجوش تحریکوں کے اثرات دیگر اقوام و مذاہب کی ایسی تحریکوں پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہم مسیحی بھائیوں ہی میں نہیں اپنی قریبی ہمسایہ کی ہندو سوسائٹی میں بھی کرسکتے ہیں۔ بہرحال اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو ایسی تحریکیں خواہ اسلامی ہوں، ہندو ہوں، یہودی ہوں یا مسیحی بحیثیت مجموعی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ جن کے کچھ منفی اثرات دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ باقی ماندہ آگے چل کر اس سے بھی بری صورت میں سامنے آئیں گے۔ لہٰذا ان معاشرتوں کے اعتدال پسند عناصر کو اٹھنا چاہیے اور آگے بڑھ کر اپنی اپنی ہم مذہب ایسی تحریکوں کا خود  تدارک و سدباب کرنا چاہیے کیونکہ ان شدت پسند تحریکوں کی بدولت ملٹی نیشنل ملٹی ریلیجس اور ملٹی کلچرل سوسائٹیز کو سخت خطرہ ہے۔ رواداری وسیع النظری، تحمل، برداشت، سنجیدگی و متانت جیسی خصوصیات سب داؤ پر لگی ہیں۔ اگلے مرحلے میں دنیا کے امن و سکون ہی کو نہیں تمام تر انسانی حقوق اور آزادیوں کو بھی خطرہ و خوف درپیش ہے۔ اس کے بڑھنے سے تہذیبوں کے تصادم کا امکان پیدا ہو جانا بھی قطعی طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

خدانخواستہ یہ چیز زیادہ آگے بڑھی تو اُبھرتے ہوئے جدید یونیورسل کلچر کیلئے محض ان معنوں میں ہی نقصان دہ نہیں ہوگی کہ اس کی رفتار رک جائے گی یا بہت سست پڑ جائے گی بلکہ ان سب باتوں کا نتیجہ انسانیت کے خلاف جائے گا لہٰذا تمام مذاہب اور تہذیبوں کے انسانوں سے پیار کرنے والے ”انسانیت نواز عناصر“ کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسی تنگناؤں کے عفریت کو دبانے کیلئے ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ جدید سیکولر قومی جمہوری آئینی ریاست کے تصور نے زور پکڑ کر مذہبی تقسیم کے نظریے کو بڑی حد تک غیرمؤثر کر دیا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ اسی سوچ کے زیراثر ارض مقدس کے متنازعہ جذباتی مسئلے میں بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ لیکن اب اس تقسیم کے دوبارہ انگڑائی لینے سے کئی نئی الجھنیں محسوس کی جارہی ہیں۔ بہرحال یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ یورپ ہی نہیں خودامریکی سوسائٹی بھی اس سلسلے میں تشویش محسوس کر رہی ہے۔ دنیا میں حقیقی سیکولرازم کی کامیابی کے پیچھے جدوجہد کی ایک پوری تاریخ ہے جس پر سیاہی پھیری جا سکتی  اور نہ پھیری جانی چاہیے۔ مذہب کا تقدس اور اصولی و اخلاقی ہدایات بجا لیکن انسانوں نے کڑوے اور تلخ تجربات کے بعد اس کی کچھ حدود طے کرلی ہیں۔ امریکی قوم نے تاریخ کے تجربات سے گزر کر اس عقیدے کو مشعل راہ بنایا ہے کہ امریکا کا مشن خدا کی خوشنودی ہے لیکن دینی اور حکومتی معاملات کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے۔ عقیدے اور اقتدار کو گڈ مڈ کرنے کی غلطی دوبارہ نہ کی جائے۔ مذہب سے اخلاقی رہنمائی بجا لیکن اس چیز کو آگے بڑھ کر دوسروں کیلئے اجنبیت، حقارت اور اذیت کا باعث بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

یورپ کے معاشرے میں سیکولر نظریات غلبہ پا چکے ہیں وہ لوگ مذہبی کٹرپن کی حدود سے باہر آ چکے ہیں۔ صدر بش جیسے مذہبی عقائد ایسے لوگوں کو الجھن میں مبتلا کر رہے ہیں جو مذہبی عقائد کی بجائے صرف انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ یورپی لوگوں کی ایک بڑی تعداد دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کی طرف سے مسیحی اقدار کو نئی زندگی دینے کی کوشش کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔ وہ لوگ سیاسی پلیٹ فارم کو مذہبی مقام کے طور پر استعمال کرنے و الوں کو بھی شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ خود امریکا میں کلیسا اور ریاست کو الگ رکھنے والے لوگ وائٹ ہاؤس کے اعلانیہ مسیحی عقائد کے اظہار کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں۔ صدر بش کو بھی اپنے ان عقائد کے ساتھ ساتھ اس چیز کے زیادہ بڑھنے کے مضمرات کا احساس ضرور ہے۔ اس وجہ سے وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں میں اسے زیادہ نمایاں نہیں ہونے دے رہے ہیں۔  Crusadesکا ذکر ہونے کے بعد انہوں نے اس سلسلے میں خاصی احتیاط سے کام لیا ہے۔ مسلمانوں اور مسیحیوں میں تصادم کا باعث بننے والی کسی بھی بات سے انہوں نے احتراز کیا ہے بلکہ انہوں نے مساجد اور مختلف اسلامک سنٹرز میں جا کر جوتے اتار کر جس طرح خطاب کیا ہے وہ سب پر واضح ہے۔ امریکی مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ”اسلام امن کا دین ہے اور ہائی جیکروں نے ایک عظیم عقیدے کو اغوا کرلیا ہے۔“ ہماری نظر میں ان کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ مسلم ممالک میں بھیجی گئی اپنی فورسز اور امریکی عہدیداران کو بھی انہوں نے واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ مسلم ممالک میں اسلامی عقائد، دینی شعار، تہذیبی اقدار اور مقدس مقامات کا احترام و تقدس پوری طرح ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔ مذہب اور سیکولرازم کا یہ بڑا دلچسپ امتزاج ہے۔ شاید یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ الہامی کلام پر عمل پیرا بھی رہا جائے اور سیکولر روایات کو بھی نہ چھوڑا جائے۔ الفاظ کا دھندہ اور اصطلاحات کا بزنس کرنے والوں کے نزدیک اگرچہ یہ امتزاج ناممکن ہے لیکن مقام حیرت ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور میں چل یہی کرشمہ رہا ہے۔

اس تناظر میں پرکھا جائے تو اسرائیلی ریاست کی ذمہ داری کئی درجے بڑھ جاتی ہے۔ وہ جس طرح اپنے وجود کا حق مانگتی ہے اس طرح اسے دوسروں کی باوقار زندگی کا حق بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ قومی ہیئت کا کوئی ایسا تصور جس کی بنیاد محض نسلی یا مذہبی بنیادوں پر ہو اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے ہماری یہ تمنا تھی اور ہے کہ ارض مقدس میں یہود کی مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ مل کر ایک قومی ریاست وجود میں آتی لیکن افسوس ہرسہ مذاہب کے شدت پسندوں نے اس خواب کی تعبیر نہ ہونے دی۔ اس میں قصور محض یہود کا نہیں ہے۔ اسرائیلی باشندے جس خوف کی فضا میں جی رہے ہیں، پوری دنیا بالخصوص عرب اور مسلم اقوام کو اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دہشت کی فضا میں رواداری نہیں پنپ سکتی۔ نفرت اگر بڑی نفرت کو جنم دیتی ہے تو تشدد کاردعمل بڑے تشدد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

 اسرائیل کے حوالے سے ذاتی طور پر اس درویش کی عجیب و غریب کیفیت ہے۔ ایک مذہبی مسلمان کی حیثیت سے جب میں الہامی و قرآنی تعلیمات کو سامنے رکھ کر دیکھتا ہوں تو مجھے بنی اسرائیل کے قومی وطن سے ایک نوع کی ہمدردی محسوس ہوتی ہے۔ میں اسرائیل کے وجود کو ایک استثنائی و غیر معمولی رنگ میں دیکھتا ہوں اور تمنا کرتا ہوں کہ تمام مسلم اقوام ارض مقدس میں اولادِ یعقوب ؑکے قومی وطن کے قیام کو اسی طرح تسلیم کرلیں جس طرح وہ ارض ہند کے مخصوص خطے میں پاکستان کے قیام کو تسلیم کرتی ہیں بلکہ میری آنکھوں کے سامنے خداکے تمام اولوالعزم پیغمبروں بالخصوص سیدنا موسیٰ  ؑ کی وہ آرزوئیں مجسم صورت میں آن کھڑی ہوئی ہیں کہ بنی اسرائیل کو ان کا قومی وطن بہرصورت ملنا چاہیے۔ قرآنی و الہامی نقطہ نظر سے میں یہود کے دعویٰ کو As a Special case  یونیک اور بے مثال دیکھتا ہوں لیکن ایک سیکولر مسلمان یا انسان کی حیثیت سے میں خود کو فلسطینی عوام کے قریب پاتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ نفرت اور تشدد کی راہ چھوڑ کر اسرائیل اور عالمی برادری کے تعاون سے اپنی ایک خودمختار و آزاد متوازی ریاست قائم کریں۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر تینوں فرقے مسلم، مسیحی اور یہود مل کر ارض مقدس میں اپنی ایک ایسی مثالی سیکولر ریاست بناتے جو اقوام دیگر کیلئے بھی ایک ماڈل بنتی لیکن شاید اس مرحلے تک پہنچنے کیلئے ہنوز تہذیب کو صدیوں کا سفر درکار ہے۔

(اس کے باوجود درویش کی تمنا و حسرت ہے کہ ارض مقدس میں دو ریاستی نظریے کی بجائے ایک ایسی سیکولر جمہوری ریاست قائم ہو جائے جس میں بنی اسرائیل کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی بجائے فلسطینی مسلمان اور مسیحی سب اس کے دست و بازو ہوں۔ یہ ایک ایسی ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس سیکولر ماڈریٹ ڈیموکریٹک سٹیٹ ہو، جس میں مذہب کا سیاسی استعمال ہو اور نہ مقدس مقامات پر کسی کیلئے کوئی بندش۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس حوالے سے اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کی مطابقت میں ایک مشترکہ آئینی دستاویز تشکیل دلوانے میں UN کے تحت قائدانہ رول ادا کر سکتی ہے۔ یوں اسرائیلی ریاست کی حدود بھی وسیع تر ہو سکتی ہیں اور مستقبل کی پاک ہند جیسی امکانی مخاصمت کے امکانات بھی معدوم ہو سکتے ہیں۔)

(یہ طویل مضمون جولائی 2003 میں روزنامہ پاکستان میں شائع ہؤا تھا۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ کی سنگینی کے سبب اسے یہاں شائع کیا گیا ہے۔ اس قسط کے ساتھ ہی یہ مضمون اختتام پذیر ہؤا)