صحت انصاف کارڈ کا نام تبدیل کرنے، پی ٹی آئی کا پرچم ہٹانے کا فیصلہ
- جمعہ 25 / ستمبر / 2020
- 10940
حکومت نے صحت انصاف کارڈ پر پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے کی جگہ قومی پرچم چھاپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کارڈ کا نام تبدیل کر کے 'قومی صحت کارڈ' کیا ہے جارہا ہے۔
حکومت نے یہ اقدام اس معاملہ پر عدالتی تحفظات سے بچنے کے لئے کیا ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کہ وزیراعظم عوامی پیسے سے خود نمائی کے خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں عمران خان سرکاری اشتہارات میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی تصاویر پر تنقید کرتے تھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی تھی جس کے باعث اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو قومی خزانے میں 50 لاکھ روپے جمع کروانے پڑے تھے۔
بعدازاں جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو ایک پارلیمانی کمیٹی نے صحت انصاف کارڈ پر پی ٹی آئی کے پرچم اور نام (انصاف) کے استعمال پر اعتراض کیا۔ بعدازاں حکومت کے جاری کردہ صحت کارڈ پر حکمراں جماعت کے نام اور پرچم کے استعمال پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
وزارت صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت نے صحت کارڈ کا نام اور ڈیزائن تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم اور انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ صحت کارڈ کا نیا نام 'قومی صحت کارڈ' ہوگا جبکہ اس کا ڈیزائن پاکستان اور اس کے عوام کی عکاسی کرے گا۔ نیا کارڈ تمام موجودہ کارڈز کے ایکسپائر ہونے کے بعد ان کی جگہ لے لے گا۔
قومی صحت کارڈ منصوبہ نہ صرف سب سے بڑا سماجی تحفظ صحت کا منصوبہ ہے بلکہ مالی رکاوٹوں کے بغیر معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی کے لحاظ سے گیم چینجر بھی ہے۔ پروگرام میں اندراج رکھنے والے افراد قومی صحت کارڈ کے ذریعے پاکستان بھر میں پینل پر موجود ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام 84 لاکھ خاندانوں کو سہولیات فراہم کررہا ہے اور ملک بھر میں ایک کروڑ 25 لاکھ خاندانوں تک پہنچنے کا ہدف ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق نگرانی کا ایک سخت طریقہ کار ہے جو اس سے مستفید ہونے والوں کے فیڈ بیک کے ذریعے منظم رکھا جاتا ہے۔ پینل پر موجود ہسپتالوں کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کے حوالے سے اطمینان کی شرح 97 فیصد ہے۔