نیوزی لینڈ کا ایک سحر انگیز گاؤں
- تحریر طارق محمود مرزا
- ہفتہ 26 / ستمبر / 2020
- 6180
ہم گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے قصبے کوئنز ٹاؤن کے شمال مغرب میں تقریباََ پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک انتہائی دلکش گاؤں گلینورکی جانب جارہے تھے۔ گلینورکی نیوزی لینڈ کے حسین ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس سے زیادہ حسین وہ راستہ ہے جو اس گاؤں کی طرف جاتا ہے۔
گلینور جانے والے اس راستے کے بارے میں میں نے کہیں پڑھا تھا گلینورکی کے راستے سے حسین صرف جنت ہوسکتی ہے۔سڈنی میں میرے ایک پڑوسی بروس کا تعلق نیوزی لینڈ کے اس خطے سے ہے۔ بروس کاوالد اسی قصبے گلینورکی کا باسی تھا۔وہ برفیلی جھیلوں پر چلنے والے اسٹیمرزپر ملازم تھا۔ اس کا انتقال 1966 میں ہوا۔بروس اور اس کے بہن بھائی یہیں پیدا ہوئے تھے۔تاہم یہ فیملی بعدمیں ڈونیڈن منتقل ہوگئی۔ بروس کا بچپن گلی نور کی اور جوانی ڈونیڈن میں گزری ہے۔بروس اپنی جوانی میں ٹرک ڈرائیور تھا۔اس لیے وہ نیوزی لینڈ کے قریے قریے سے واقف ہے۔ اس نے نیوزی لینڈخصوصاََ ڈونیڈن اور گلینورکی کے قدرتی حسن کا کا اتناذکر کیا تھا کہ اس کی باتیں سن کر ہمیں بھی یہ جنت نظیر خطہ دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔
بروس ان نیلے پانیوں،برفیلے پہاڑوں اور سرسبز چراہ گاہوں کو چھوڑ کر آسٹریلیا گیاتو وہیں کا ہوکر رہ گیا۔ شروع میں روزگار نے اس کے پاؤں جکڑے رکھے۔جب بیمار ہوکر ریٹائرہوا تو پھر وسائل آڑے آگئے۔ کیونکہ دورانِ ملازمت اس نے جو کچھ کمایا تھاوہ عیاشیوں میں اُڑا دیا تھا۔ وہ پچھلے 27 برس سے اپنے ملک،اپنے شہر اوراپنے عزیز واقارب سے دور سڈنی میں تنہا زندگی بسر کررہا ہے۔ وہ ہمیشہ ڈوینڈن اور گلینورکی کاتذکرہ کرتا رہتا ہے۔ مگر اب وہاں جانہیں سکتا۔کیونکہ اب تو اس کی صحت اورعمر ایسی ہوگئی ہے کہ اس کے لئے کہیں آنا جانا مشکل ہوگیاہے:
کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بروس نے جس گلینورکی میں ستّر برس پہلے آنکھ کھولی تھی اس میں اور آج کے گلینورکی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ یہاں اب بھی آبادی محدود ہے اور گنے چنے گھر ہیں۔ یہ گھر اور گلیاں پرانے دور کی ہیں۔ یہاں جدید اور بڑے گھر نظر نہیں آتے اور نہ یہاں کوئی کمرشل سنٹر ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ گاؤں موجودہ دور کی تیز رفتار ترقی سے دور کہیں ماضی میں جی رہا ہے۔ یہاں کے گھر چھوٹے چھوٹے مگر ان سے ملحقہ فرنٹ یارڈ اور بیک یارڈ بہت بڑے ہیں۔گھروں کے درمیان خالی قطعات ہیں۔ان خالی قطعات اور گلیوں کے کناروں پر انواع و اقسام کے شجر ایستادہ ہیں۔گھروں اور گلیوں میں پھولوں کے بے شمار پودے ہیں۔ہر جانب سبزہ اور پھول کھلے ہیں۔گلیوں اور دکانوں میں بہت کم لوگ دکھائی دے رہے تھے۔اکا دکا گاڑی نظر آتی تھی۔
ایک بڑی کوچ سیاحوں کو لے کر آئی تھی۔ یہ سیاح ان چند دکانوں،سوینئر شاپ اوردریا کے کنارے واقع سبزے اور پھولوں کے قطعات میں بکھرے ہوئے تھے۔ ان سیاحوں کی موجودگی کے باوجود گلینورکی دورِ قدیم کا انتہائی خاموش اور گنے چنے نفوس پر مشتمل گاؤں نظر آتاتھا۔ گلینورکی بلکہ نیوزی لینڈدنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی بڑھنے کی بجائے گھٹتی جارہی ہے۔ شہر تو پھر بھی آباد ہیں لیکن گاؤں اور قصبے لوگوں سے خالی ہوتے جارہے ہیں۔کیونکہ جو شہروں میں جاتا ہے وہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے۔ گلینورکی جو 1860سے آباد ہے، اس کی اور اس کے مضافات میں بسنے والوں کی کل تعداد صرف 363نفوس پر مشتمل ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے آباد ہونے والے اس جنت نظیر خطے کی آبادی بس اتنی ہے۔ شرح نموسے یہی لگتاہے کہ اگلے ڈیڑھ سو سال تک بھی اتنی ہی رہے گی۔ حالانکہ یہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ یہاں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ رہ سکتے ہیں۔اسی تناسب سے یہاں زراعت،جنگلات،ماہی گیری اور دیگر صنعتیں بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود آبادی بڑھ نہیں رہی بلکہ گھٹ رہی ہے۔
اگر پاکستان،ہندوستان کے تناظر سے دیکھا جائے تو آبادی کی یہ کمی حیران کن ہے۔ ترقی پذیر ملکوں اور نیوزی لینڈ جیسے امیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے درمیان یہی تو سب سے بڑا فرق ہے۔ امیر ممالک کے وسائل لامحدود اورآبادی محدود ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں وسائل محدود اور آبادی لامحدود ہے۔ پاکستان میں پچھلے چالیس پچاس برس میں جتنی آبادی بڑھی ہے اگر یہ تناسب قائم رہا تو اگلے چالیس پچاس برسوں میں پورے ملک میں صرف عمارتیں اور سڑکیں ہی ہوں گی۔ غلہ اُگانے کے لئے زمین نہیں بچے گی۔ ایسی کوئی جگہ باقی نہیں ہوگی جہاں کھڑا ہوکر انسان آسمان کی وُسعتوں،تاروں کی ضیا، درختوں کی چھاؤں،سبزے کی لہک اور پھولوں کی مسکان دیکھ سکے۔ اینٹوں اور سیمنٹ کے اس جنگل میں وہ سانس کیسے لے گا اور کھائے گا کیا؟کیونکہ سانس لینے کے لئے آکسیجن اور کھانے کے لئے غلہ درکار ہے جو زمین کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔چلیں غلہ توآپ درآمد کر لیں گے مگر سانس لینے کے لئے آکسیجن کہاں سے آئے گی۔ اس کے بغیر ہماری آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا۔ اس تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
یہ عجیب ہے کہ پاکستان اور اس جیسے دیگر ملکوں میں لوگ چند فٹ زمین کے لئے ترستے ہیں۔ادھر ِاسی کرّہ ارض پر گلینورکی جیسی جگہیں بھی ہیں جہاں اتنی فالتو زمین موجود ہے کہ انہیں استعمال کرنے والا کوئی نہیں ہیں۔اللہ کی ا س زمین پر کیسے کیسے خطے اور کیسے کیسے لوگ بستے ہیں۔ پھر یہ خیال آتا ہے کہ اللہ نے تو کم و بیش سبھی علاقوں کو وسائل عطا کیے ہیں اور لوگوں کو عقلِ سلیم بھی دی ہے۔ کچھ افراد اور اقوام نے یہ عقلِ سلیم استعمال کرکے ان وسائل کو ترقی دی ہے۔اپنی آبادی کووسائل کے مطابق رکھا ہے۔اپنی چادر سے پاؤں باہر نہیں پھیلائے۔ جبکہ کچھ اقوام نے یہ سارے وسائل ضائع کیے ہیں۔ نہ آبادی پر کنٹرول کیا اورنہ مستقبل کے بارے میں سوچا۔ میں صرف ایک مثال دوں گا۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں شہروں اوردیہات میں ہرطرف درخت ہی درخت نظر آتے ہیں۔بے تحاشہ جنگلات کے باوجود گھروں سے درخت کاٹنا ممنوع ہے۔یہا ں درخت اگائے جاتے ہیں کاٹے نہیں جاتے۔جس کی وجہ سے یہاں کے شہر اور قصبات خوبصورت، صحت افزا،معتدل موسم اور صاف ہوا رکھتے ہیں۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے اندر پچھلے بیس پچیس برس میں جنگلات میں 75 فیصد کمی آئی ہے۔ ظاہر ہے کچھ عرصے میں پورا صوبہ جنگلات سے خالی ہوجائے گا۔ اس عرصے میں نہ صرف یہ جنگلات کاٹے گئے بلکہ اس سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تعمیرات کھڑی کر دی گئیں۔دوسرے صوبوں میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ شہروں،قصبوں بلکہ گاؤں سے بھی درختوں کا نام و نشان مٹایا جارہا ہے۔ سڑکوں کے کنارے،پارک،کھیل کے میدان،گھر، گلیاں، دفاتر اور سرکاری عمارتو ں کے اردگرد چٹیل میدان نظر آتا ہے۔ جی ٹی روڈ کو ہی لے لیں جس کے دونوں اطراف میں کم از کم دو سومیٹر جگہ خالی ہے۔ وہاں ٹھیلے اور گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں یا گرد اُٹھتی رہتی ہے۔اگر اس خالی جگہ پر درخت اُگا دیئے جائیں تو ماحول،موسم اور فضا میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ مگر یہ سب ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہیں۔آبادی میں بے تحاشہ اضافے،تعمیرات کی زیادتی اور درختوں کی کمی کا نتیجہ ہمارے سامنے آرہا ہے۔ ان دنوں جب میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں پاکستان میں شدید گرمی کی لہر آئی ہوئی ہے اور کراچی میں سیلابی کیفیت ہے جس نے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔اتنی شدید گرمی اور سیلاب جیسی آفات اس موسمی تبدیلی کا حصہ ہیں جو جنگلات کی کمی کی وجہ سے ظہور پذیر ہورہے ہیں۔یہ مسائل اور مصائب اچانک وارد نہیں ہوئے بلکہ ہمار ی برسوں کی کوتائیوں کا ثمر ہیں:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
(یہ مضمون میرے سفرنامے ’دُنیا رنگ رنگیلی‘ سے ماخوذ ہے)