مذاق کی کوئی حد نہیں !

  • تحریر
  • ہفتہ 26 / ستمبر / 2020
  • 4320

چند سال قبل  اگر کوئی یہ ذکر کرتا تو ہم  کنی کترا جانے ہی میں عافیت سمجھتے تھے مگر اب نہیں۔اللہ بھلا کرے ایف بی آر کا، اس نے  گزشتہ کئی سالوں سے  ارکان پارلیمنٹ، کاروباری و دیگر کیٹیگریز کے ٹیکس فائلرز کی  سالانہ ڈائریکٹری  جاری کرکے ہم ایسوں کو منہ چھپانے کی بجائے خم ٹھونک کر سامنا کرنے کی ہمت دی۔

 اِدھر  اُدھر کے ماہرین معیشت ہمیں شرمندہ کرتے کہ میاں پورے جنوبی ایشیا میں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب پاکستان میں سب سے کم ہے یعنی بمشکل دس فی صد کے لگ بھگ۔سالانہ ٹیکس ڈائریکٹری  سے البتہ  یہ سمجھ آئی  کہ بے چارے  ان ملکوں میں  ہم ایسے دبنگ لوگ نہیں رہتے ورنہ ان کے ہاں بھی یہ تناسب ہمارے برابر ہوتا۔ ارکان  قومی اسمبلی و سینیٹ کی  مالی سال 2018  کی ٹیکس ڈائریکٹر ی  کو اگر کوئی کمزور دل پڑھے تو شاید پہلے صفحے پر ہی دل کی دھڑکنیں بے  ترتیب کر بیٹھے،  لیکن اگر دل مضبوط اوردماغ کی تمام  بتیاں  ہائی وولٹیج کے   اثرات سے محفوط ہوں تو یہ  ٹیکس ڈائریکٹری  ٌ  پڑھنے  ٌ کی شے ہے۔  اس  ہفتے بالآخر مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ڈیڑھ سال کی تاخیر سے  اس کی رونمائی کی  جس کے مطابق  چار سو کے لگ بھگ ممبران میں سے 45   ممبران نے  توٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا تکلف ہی نہیں کیا۔ 

پانچ ممبران نے گوشوارے تو جمع کروائے مگر  ٹیکس گزاری صفر ظاہر کی۔ اس فہرست میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار، وفاقی وزرا فیصل واؤڈا اور زرتاج گل، سینیٹر فیصل جاوید اور پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان۔   سب سے کم ٹیکس ادائیگی کرنے والے پانچ ارکان  کی ادائیگی کی رینج سکہ رائج الوقت کے مطابق 109 روپے سے لے کر 388  کی خطیر رقم ہے۔   تمام ممبران کے ٹیکس گوشواروں کا حاصل جمع فقط اسّی کروڑ بنتا ہے، جس کا ساٹھ فیصد  صرف پانچ ممبران سے وصول ہوا۔  چار سو  کے لگ بھگ ارکان  میں سے صرف ستّر ارکان  نے دس لاکھ روپے سے زائد  انکم ٹیکس ادا کیا۔

کم از کم قابل ٹیکس آمدنی  کی حد   چھ  لاکھ روپے  سالانہ سے  شروع ہوتی ہے، یعنی   پچاس  ہزار ماہانہ قابلِ ٹیکس  آمدن سے زائد پر  انکم ٹیکس واجب  الادا  ہو جاتا ہے۔  حیرت ہے  کہ  بیشتر  ارکان اسمبلی  اپنی گاڑیوں، پٹرول، ڈرائیورز، گارڈز، گھر اور دفاتر کے بجلی کے بلز، ملازمین کی تنخواہیں اور  بازارِ سیاست کے دیگر روزمرہ اخراجات پچاس ہزار روپے  ماہانہ سے بھی کم آمدن میں پورے کر لیتے ہیں! اگر واقعی ایسا ہے تو کمال کرتے ہیں۔ اس شیشے کو سامنے رکھتے ہوئے خدا لگتی کہئے کہ جب یہی ارکان عوام کو ٹیکس ادائیگی کی برکات پر لیکچر دیں تو کون کم بخت  اس  آئینے میں ان کی شکل دیکھ کر   اعتبار کرے گا۔ تم وہ بات کیوں کہتے ہو  جو خود  نہیں کرتے ہو، کا اصول سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ہے۔    چینی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ مچھلی کے گلنے سڑنے کا عمل اس کے  سر کی جانب سے شروع ہوتا ہے۔  ہمارے ہاں ٹیکس گزاری کے کلچر  کا بھی  بد قسمتی سے یہی حال ہے۔

خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ ہمارے ارکان  پارلیمنٹ   کی طرح  دیگر  کیٹیگریز کے ٹیکس گوشواروں کا  بھی یہی حال ہے۔ چند سال قبل تک ملک بھر میں کل ٹیکس گوشواروں کی تعداد دس لاکھ سے کم تھی۔ پچھلے کئی سال سے نئے ٹیکس گزاروں کی تلاش بسیار کا کاغذی نتیجہ تو حوصلہ افزا نکلا  لیکن ٹیکس گزاری کی حد تک عملی نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔مالی سال 2018  میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے پاس نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں بیس فی صد کا ریکارڈ اضافہ ہوا لیکن اس اضافے کی عملی حیثیت  انکم ٹیکس ادائیگی کی حد تک  ٌ ہونا نہ ہونا ایک برابر ٌ  کی طرح رہی۔ 81% نئے فائلرز نے زیرو ٹیکس ادا کیا۔  مجموعی طور پر تمام کمپنیوں کے گوشواروں کو  دیکھیں تو 72%  نے  زیرو کے ہندسے کو ہی قابو کئے رکھا!

جو کمپنیاں اور افراد  یعنی  AOP ٹیکس ادا کر رہے ہیں ان کے  سالانہ ریکارڈ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ  انتہائی قلیل تعداد  ہی سے  انکم ٹیکس کا بیشتر حصہ  وصول ہو تا ہے، باقی سب شامل باجہ ہیں۔ مالی سال 2013 میں  صرف  1.3%  فائلرز نے انکم ٹیکس کی  کل وصولی کا 83%  ادا کیا۔ جبکہ سال 2018 میں اس سے بھی کم یعنی فقط ایک فی صد  فائلرز نے  انکم ٹیکس وصولی کا 81%  ادا کیا، باقی نناوے فی صد نے محض انیس فی صد  حصہ ڈالا۔  اگر ماضی  کا رجحان  جاری رہا تو مالی سال 2018  اور 2019  کی ٹیکس ڈائریکٹریوں کی شکل بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہو گی۔

دنیا بھر میں ٹیکسز کی وصولی میں انکم ٹیکس اور براہِ راست اخراجات   پر ٹیکس کاحصہ غالب ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس قوانین کی پیچیدگیاں، محکمانہ کرپشن اور کاروباری قوانین و ضوابط  کی صورت میں  مشکلات، تضادات اور مفادات  کا ایک گھنا جنگل ہے۔ جو کرپشن اور  اہل اقتدار  سے تعلقات   کے  رمزآشنا ہیں، قوانین کو غچہ دینے کا  ہنر جانتے ہیں۔  وہ اس جنگل  میں  سے آرام سے راستہ بنا لیتے ہیں جبکہ  باقی ا کثریت  اس پُرخار جنگل  میں خوار ہوتی رہتی ہے ۔ دوسری طرف غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں میں ایسا کوئی جنجھٹ نہیں، یہی وجہ ہے  کہ معیشت کے پھیلاؤ میں بلیک اکونومی اس سے کہیں بہتر شرح سے پھیلی۔

ہمارے ایک دیرینہ دوست مدت سے سنگاپور میں مقیم رہے۔ ایک بار انہوں نے سنگاپور میں قوانین کی سختی کا حوالہ دیتے  ہوئے انکشاف کیا کہ سنگاپور میں رہنا ایک ٹانگ مسلسل جیل میں رکھنے کے  مترادف ہے۔ اِدھر کوئی قانون شکنی ہوئی  اُدھر  بھاری جرمانہ یا پھر جیل کی ہوا۔  حیرت نہیں ہوتی کہ سنگاپور اور ایسے ہی دیگر ملکوں میں عام آدمی تو کجا کوئی بڑا سے بڑا طرم خان  رکن پارلیمنٹ  بھی یہ جرات   نہیں  کر سکتا کہ وہ  سِرے سے سالانہ ٹیکس گوشوارہ ہی جمع نہ کرائے  اور اگر کرائے تو  زیرو  یازِیرے برابر ٹیکس ادا کرکے بھی سینہ ٹھونک کر ایوان کی رونق بڑھائے۔ اللہ بھلا کرے ایف بی آر کا جس کی  ٹیکس ڈائریکٹری  سے ہم ایسوں کو  معلوم ہوا کہ  انکم  ٹیکس  ادائیگی  کے سلسلے  میں اشرافیہ کے ہاں  مذاق کی کوئی حد ہی نہیں۔