اپوزیشن کا گلگت بلتستان کے انتخابات پر بات چیت میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
- اتوار 27 / ستمبر / 2020
- 4930
ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے دوران اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ 26 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے پہلے اقدام کے طور پر گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات پر بات چیت کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا باضابطہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر کیا۔ بلاول بھٹو نے مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے کمیٹی میں پارٹی کی نمائندگی کے لیے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف کو نامزد کیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کل جماعتی کانفرنس میں اپنے بھائی کی سخت تقریر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے 15 نومبر کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل انتخابات 18 اگست کو ہونے تھے لیکن کورونا وائرس کے باعث ملتوی کردیے گئے۔
بلاول بھٹو نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور وفاقی وزرا کا گلگت بلتستان میں انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔ پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ میری جماعت آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے صرف الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے گی۔
پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کی وجہ جاننے کے لیے شیری رحمٰن سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ گلگت بلتستان انتخابات پر بات چیت اسپیکر قومی اسمبلی کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ڈان کو بتایا کہ ان کی جماعت نے ایم پی سی اعلامیے کی روشنی میں اسپیکر کی ملاقات میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایم پی سی اعلامیے کے ذریعے اپوزیشن پارٹیز پہلے ہی یہ اعلان کرچکی ہیں کہ وہ مستقبل میں اس 'سلیکٹڈ اور فراڈ حکومت' کے ساتھ پارلیمان میں یا پارلیمان سے باہر تعاون نہیں کریں گی۔ خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو گلگت بلتستان کے معاملے پر ہونے والی ملاقات میں مدعو کیا تھا۔