ڈاکٹر راحت اندوری: بصد انداز

11 اگست 2020 کو دنیائے اردو کے محبوب شاعر ڈاکٹر راحت اندوری نے قریب قریب ستر سال کی عمر میں، اندور کے اربندو ہسپتال میں اس جہان فانی کو الوداع کہا۔ آج ہی سہ پہر محترم حسن کاظمی کے فیس بک سے پتہ چلا ہے کہ ڈاکٹر راحت اندوری میں کورونا کی علامت پائے گئے ہیں، جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کروایا گیا  تھا۔

 شام کے چار بج کر کچھ منٹ ہوئے ہوں گے، دہلی کے ایک مداح دوست جو کہ اپنے کسی کام کی غرض سے اندور میں تھے،ان کی کال آئی، اس نے بتایا کہ اربندو ہسپتال  کے سامنے کچھ  میڈیا والوں کی بھیڑ لگی ہے، ایک دو پولس والے بھی نظر آ رہے ہیں، راحت صاحب یہاں بھرتی ہیں، مجھے لگتا ہے راحت صاحب کا انتقال ہو گیا ہے لیکن ابھی کوئی کچھ بتا نہیں رہا ہے۔آپ اپنے لوگوں سے بات کریں۔ میں نے محترم ڈاکٹر کلیم قیصر (گورکھ پور)، محترم ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی (بھوپال)ا ورمحترم ندیم نیرّ (کانپور) کو ایک کے بعد دیگرے فون کیا، ان صاحبان کے پاس ابھی ایسی کوئی خبر نہیں پہنچی تھی۔  اتنے میں ڈاکٹر انجم کا فون آیااور انہوں نے بتابا کہ راحت صاحب والی خبر ٹی وی پر نشر ہونے لگی ہے۔

اس خبر کے بعد مجھے اپنے آپ کو عام حالت میں لانے میں کا فی وقت لگا، دل بجھ سا گیاتھا۔ ڈاکٹر راحت اندوری سے کئی ملاقاتیں سینیما کی طرح ذہن کے پردے پر چلتی رہیں۔ مرحوم (موصوف) کے کئی سو ویڈیو کلپ یو ٹیب پر موجود ہیں جنہیں اکثر رات کو سونے سے پہلے دیکھنے اور سننے کا مشغلہ بھی رہا ہے،تاہم بل مشافہ پہلی ملاقات مئی  2013 میں اس وقت ہوئی جب برادرم عبدللہ عباسی نے ادبی نتظیم فروغ اردو ادب، کویت کے زیر اہتمام پانچ ستارہ ہوٹل کراؤن پلازہ (فروانیہ، کویت) میں ایک عالمی مشاعرے کا اہتمام کیا تھا، جس کی صدارت سفیر پاکستان عزت مآب ابرارحسین اور نظامت کی ذمہ داری خاکسار افروز عالم کو نبھانی تھی۔ دنیا بھر سے منتخب آٹھ شاعروں کی فہرست میں محترم ڈاکٹر راحت اندوری بھی شامل تھے، (اس سے قریب آٹھ مہینے قبل ہی اسی تنظیم نے کویت میں ہی ایک شام ڈاکٹر راحت اندوری کے نام منعقد کر کے  ان کو' فروغ اردو ادب ایوارڈ'سے نوازا تھا)۔ ڈاکٹر راحت سے اس موقعے پر بہت اچھی ملاقات رہی، ہم عصر ادبی رویے  اور مشاعرے کی داخلی سیاست پر بہت ساری باتیں ہوئیں، ازراہ احترام میں نے انہیں اپنی کار سے ائیر پورٹ چلنے کی گزارش کی (اصل میں یہ کام ہوٹل والوں کا ہے)۔ وہ راضی ہوگئے۔ اس کے بعد ان سے پھر نومبر2016  میں حیدآباد اور دسمبر2017 کولکتا میں بہت ہی دلچسپ ملاقات رہی۔ حیدرآباد اور کولکاتا میں منتظمین نے ہم لوگوں کو ایک ہی ہوٹل کے مختلف کمروں میں رہائش کا انتظام کروایا تھا۔

 دستاویزات کے مطابق راحت قریشی کی پیدائیش ایک جنوری1050 کومدھ پردیس کے شہر اندور میں ہوئی تھی۔ نام راحت قریشی رکھا گیا، ان کے والد کا نام رفعت اللہ قریشی اور والدہ کا نام مقبول انساء بیگم تھا، وہ اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔ ابتدائی تعلیم پاس کے ہی نوتن اسکول میں ہوئی جہاں سے آپ نے ہائر سکینڈری تک کی تعلیم حاصل کی، اسلامیہ کریمیہ کالج(اندور) سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کیا۔ پھر اودھ یونیورسیٹی (یوپی) سے1985 میں اردو  میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد بھوپال کا رخ کیا اور برکت اللہ یونیورسیٹی  بھوپال سے پروفیسر آفاق احمد کی نگرانی میں 'مشاعروں کے معاملات'  پر1988 میں  ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کر کے ڈاکٹر کہلائے۔ اس طرح تعلیمی معاملات پورا کرنے کے بعد دیوی اہلیہ یونیورسیٹی کے اسلامیہ کریمیہ کالیج، (اندور) میں لمبے عرصے تک درس و تدریس سے بھی وابستہ ر ہے۔

 'دھوپ دھوپ (1976)، 'میرے بعد1988 'پانچواں درویش'، ' رت'،  'ناراض  '، 'موجود' اور 'چاند پاگل ہے '، 'دو  قدم اور راہی ' جیسی اردو ادب اور ہندی ساہتیہ میں آٹھ شعری مجموعوں کا اضافہ کرنے والے شاعراور بیشمار فلمی نغموں کے خالق ڈاکٹر راحت اندوری مشاعرے کی دنیا کے محبوب ترین شاعر تو تھے ہی، فلم کے لئے بھی کامیاب نغمے لکھے،درس و تدریس سے بھی وابسطہ رہے، مصوری بھی کی۔ آپ کی فن اور شخصیت کو مرکوز کر کے حسیب سوز  نے 'لمحے لمحے' کا ضخیم شمارہ' اور' چہارسو (راو لپنڈی) 'نے بھی2019 میں خصوصی نمبر شائع کئے تھے۔ جبکہ فن و شخصیت کی دو کتابیں ' قلندر'  از  ہدایت اللہ خاں اور' راحت صاحب 'از ڈاکٹر دیپک روحانیبھی خاصی پڑھنے کی چیز ہے۔  

ڈاکٹر راحت اندوری دراصل شعر بنانے کی مشین کا نام ہے۔ پوری دنیا میں شاعری سے دلچسپی رکھنے والوں میں وہ پہلی پسند رہے ہیں۔ ان کے شعر کہنے اور شعر پڑھنے کا انداز عام شعرا سے بے حد مختلف تھا، وہ مشاعروں کے شاید آخری شاعر ہوں گے جن کے آنے اور جانے سے مشاعرے کی رونق پر اثر پڑتا تھا، وہ مشاعروں میں آ جائیں تو سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا، وہ چلے جائیں تو مجمع چلا جاتا۔ ایسی مقبولیت اور شہرت کسی پڑھے لکھے شاعر کے حصے میں پہلے  نہیں آئی  تھی ا ور شاید ہی کسی کے حصے میں آئے۔ ان کے کلام کو پڑھنے اور سننے والے دنیا کے ہر شہر میں ملیں گے، ہمارے عہد میں ایسا طرح دار شاعر ابھی تک کوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی ہے بھی تو وہ عوامی مقبولیت حاصل نہیں جو راحت صاحب کے حصے میں تھی۔ ان کی مقبولیت کا راز ان کے شعر پڑھنے کے انداز میں پنہاں تھا، مشاعرے کے منچ پر شامل ہونے والے سبھی شعرا اس بات کو سمجھتے تھے لیکن اپنا نہیں سکتے۔  اللہ نے یہ صلاحیت صرف راحت کے حصے میں رکھی تھی۔ راحت صاحب کے ساتھ ہی یہ انداز بھی معدوم ہوا۔ ان کے بے شمار اشعار زبان زد عام ہیں، جس میں ہر قسم کے اشعار ہیں۔ حالانکہ میں ذاتی طور پر راحت صاحب کے کچھ شعری اسلوب اور کئی شعری 'کارناموں 'سے اتفاق نہیں کرتا، مجھے لگتا ہے کہ ان کے کئی اشعار جلدی بازی کا شکار ہیں اور غیر ذمہ دارانہ  طور پر تخلیق کئے گئے ہیں،  پھر بھی میں یہ جانتا ہوں کہ بازار کی مانگ کے مطابق راحت صاحب نے مشاعرے کے اسٹیج اور فلم کے پردے پر جو دل میں آیا وہ کیالیکن وہ خوب جانتے تھے کہ ادب کیا ہے، کیوں ہے اور کیسا ہونا چاہئے۔ایک مشاعرے کے اسٹیج پر شاعری پڑھتے پڑھنے کے درمیان فرمانے لگے:

'آج اتفاق سے میری سال گرہ ہے چوپن(چوون) برس کا ہو گیا ہوں،  چوون پچپن برس کے ہونے پر مجھے پتہ چلا کہ تیس پینتس برس سے میں شاعری کے نام پر ایک تہائی دنیا کو دھوکا دے رہا ہوں یہ شاعری ہے ہی نہیں جو میں سنا رہا ہوں، شاعری توعشق ہوتی ہے، شاعری صرف عشق ہے، شاعری  توگڑیا کے ہاتھ کا ترشول نہیں ہے، شاعری روی شنکر کے ہاتھوں کاستار ہے، مقبول فدا حسین کے ہاتھوں کا برش یے۔  شاعری اما بھارتی کی تقریر نہیں ہے، شاعری مہادیوی برما کی تحریر ہے،لتا منگیشکر کی آواز کی تاثیر ہے،شاعری مودی کا گجرات نہیں ہے شاعری پریم چند کادیہات ہے۔                                                                                                                                                                                                 (مشاعرہ،  ممبرہ،تھانہ2005)

 آئیے یہاں راحت صاحت کے کچھ اشعار پڑھتے ہیں:

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں                                           

کلاہ، طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں

امیر  شہر !   تری طرح قیمتی   پوشاک                                             

مری گلی میں بھکاری پہن کے آتے ہیں

یہی عقیق تھے شاہوں کے  تاج کی زینت                                            

جو انگلیوں میں مداری پہن کے آتے ہیں

ہماری  جسم کے  داغوں  پہ  تبصرہ کرنے         

قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں

یہ  مسندوں  کی  سیاست  سیاہ چشمہ ہے                            

جسے امام بخاری پہن کے آتے ہیں

عبادتوں  کا  تحفظ  بھی ان کے ذمے ہے            

جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں                           

 

سرحدوں  پہ بہت  تناؤ ہے کیا                    

کچھ پتہ تو کرو  چناؤ ہے کیا

خوف پسرا ہے دونوں سمتوں میں              

تیسری سمت کا  دباؤ ہے کیا

ایک مشاعرے میں ڈاکٹر راحت اندوری نے فرمایا:  ' مجھے کوئی غرہ یا غرور یا فحر نہیں ہے کہ میں اردو کا بہت بڑا شاعر ہوں، بس ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میں نے کوئی  بیس پچیس برس تک ایک یونیورسیٹی میں غزل پڑھائی ہے،  اس لئے مجھے اس بات کی جانکاری ہے کہ غزل سننے کے لئے، غزل سنانے کے لئے، غزل سمجھنے کے لئے، غزل سمجھانے کے لئے آدمی کو تھوڑ ا جنونی تھوڑا دیوانہ اور تھوڑا بہت بدچلن بھی ہونا پڑتا ہے۔ '  پھر اشعار پڑھے:                                                                                                                        

راز جو کچھ ہو اشاروں میں بتا بھی دینا                              

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا

 کس نے دستک دی یہ دل پر کون ہے                 

آپ  تو  اندر  ہیں  باہر  کون ہے 

تم کو تمہارا فرض مبارک ہم کو مبارک اپنا سلوک             

ہم پھولوں کی شاخ تراشیں تم چاقو پر دھار کرو

قلندر مزاج ، رواداری کاخیال رکھنے والے شہرہ آفاق شاعر راحت اندوری کو کبھی کسی سرکاری مرعات، منصب، عہدے  یاکسی سرکاری ایوارڈ کے لئے کسی صاحب اختیار کو مکھن لگاتے نہیں پایا گیا۔وہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب شاعر ہیں۔ یہ انہیں کا حق ہے کہ کہیں:

ایک حکومت ہے جو  انعام  بھی دے سکتی  ہے      

 ایک  قلندر  ہے  جو  انکار  بھی  کر سکتا ہے

 شعری  باریکوں کے علاوہ آپ اگر ان پر کوئی گرفت کرنا چاہتے ہوں ہو تو آپ صرف  یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک پیشہ ور شاعر تھے، میرے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں، وہ ایک بہت اچھے پڑھے لکھے شاعر ہیں۔ جو کالج میں درس و تدریس کا کام چھوڑ کر مشاعروں کی محافل کو پرنور کر رہا ہو، شاعری کرتا اور سناتا ہو، عوامی مقبولیت کا یہ عالم کہ شاید ہی کسی شاعر کے نصیب میں ہو۔ دو  عدد بیویوں کا شوہراور چار بچوں کا باب، جسے شب مہتاب میں چاند چہرے خوب بھاتے ہوں۔ اس کو حق ہے کہ ضرورت کے مطابق وہ اپنی شاعری کے لئے بھاری بھرکم معاوضہ اور نذرانہ وصول کرے

گلاب،  خواب، دوا،  زہر،جام کیا کیا ہے                  

 میں  آگیا  ہوں،  بتا  انظام  کیا کیا ہے

کبھی  دماغ  کبھی دل، کبھی  نظر  میں  رہو                      

یہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہو

آخری ایام میں راحت صاحب کی شخصیت اس لئے متنازع ہونے لگی تھی، کہ جو اشعار جس کے لئے کہے جا رہے تھے ان تک اس کا ابلاغ ہو رہا تھا:

سبھی کا  خون  ہے شامل  یہاں  کی  مٹی  میں                  

کسی  کے  باپ  کا  ہندوستان  تھوڑی      ہے

 دراصل ڈاکٹر راحت اندوری کا یہ کوئی   ایکمستقل لہجہنہیں ہے، راحت صاحب تو عشق اور محبت کے شاعر ہیں۔ اس قسم کے مذ کورہ بالادرج (کچھ)  ا شعار کا اسلوب تو دل میں بیٹھے ہوئے اس آندھی کا غبار کا ہے جو  1990 میں لال کرشن  اڈوانی کے رتھ کے پہئے سے اٹھا تھا۔ جس نے ملک کی قومی یک جہتی کو طوفان بدتمیزی کے سہارے ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا جہاں سے واپسی کا امکان مشکل لگتا ہے۔  اس قبیل کے کئی اشعار نے راحت صاحب کو ان لوگوں کی نگاہ میں متنازع بنا دیا جن لوگوں نے اس امر کا اعلان کر رکھا ہے کہ ہندوستان صرف ان کے ہی باپ کا ہے۔ اس ماحول کے  بطن سے جو راحت بنتا ہے وہ احتجاج کرتا ہے، شور مچاتا ہے اور شعر کہتا ہے:

ابھی غنیمت ہے صبر میرا، ابھی لبالب بھرا نہیں ہوں        

وہ مجھ کو مردہ سمچھ رہا ہے اسے کہو میں مرا نہیں ہوں   

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر                      

 جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائے      

ڈاکٹر راحت اندوری بھارت سے باہر بھی بڑے مشاعروں کی جان تھے۔ غزلوں میں ان کے نئے تجربے، ان کے جدا گانہ تیور اور الفاط کو برتنے کا سلیقہ ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔ نازک انسانی جذبوں پر ان کی ذبردست پکڑ، سیاست کے ڈھونگ کو بے نقاب کرنے کا ان کا بے خوف انداز اور ہم اثر سماجی معاملات کو کھنگالنے کی ان کی دلکش ادا،مشاعروں کو ایک نئی بلندی تک لے جاتی تھی۔ مشاعروں کی دنیا میں جو خالی پن وہ چھوڑ  گئے ہیں، اس کو بھرنے میں شاید طویل عرصہ لگ جائے۔ڈاکٹر راحت اندوری نے قریب قریب ستر سال کی عمر پائی۔ انیس  سال کی عمر سے مشاعروں کے منچ پر شعر پڑھ رہے تھے۔ آٹھ کتابیں شائع ہوئیں اور کئی فلموں کے کامیاب گانے لکھے۔ اس طرح راحت نے بھرپور زندگی جیا، جس کی فتوحات میرے تاتواں قلم سے مختصر مضمون میں احاطہ کرنا ناگزیر ہے، ان کے لئے تو ڈاکٹریٹ کے کئی مقالے چاہئیں:

زندہ  رہنے  کا  تصور  بھی  خیالی  ہو  گیا       

اک  ترے  جانے  سے  سارا شہر خالی ہو گیا

جب میں مر جاؤں تو میری الگ پہچان لکھ دینا              

لہو  سے  میری  پیشانی  پہ ہندوستان لکھ دینا

آگ  کا  کیا  ہے  پل دو پل  میں  لگتی ہے        

 بجھتے  بجھتے      ایک  زمانہ  لگتا   ہے

ہم  اپنی  جان  کے  دشمن  کو  جان کہتے ہیں         

محبت  کی  اسی  مٹی  کو  ہندوستان  کہتے ہیں

ڈاکٹر راحت اندوری کو اردو ادب میں زندہ رکھنے کے لئے ایک یہی شعر کافی ہے:                    

ہم سے پہلے  بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے             

کم سے کم راہ کے  پتھر تو ہٹاتے جاتے