ڈینیئل پرل کیس: سپریم کورٹ نے ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا

  • سوموار 28 / ستمبر / 2020
  • 6050

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سندھ کو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کو رہا کرنے سے روک دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل ساؤتھ ایشیا کے بیورو چیف ڈینیئل پرل کے والدین اور حکومت سندھ نے دو اپریل کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مرکزی ملزم احمد عمر سعید کی سزائے موت کو 7سال قید اور 20لاکھ جرمانے میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی تھیں۔

18سال سال قید میں گزارنے والے عمر سعید کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے امریکی صحافی کے قتل کے جرم میں عمر سعید کو سزئے موت دی تھی۔ لیکن سندھ ہائی کورٹ کی جانب ان کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے وہ پہلے ہی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔ البتہ حکومت سندھ نے ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے تحت قتل کے الزام میں قید عمر سعید اور دیگر چار ملزمان کو 30ستمبر تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

آج ہونے والی سماعت میں سینئر وکیل فاروق نائیک نے حکومت سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ شناخت پریڈ میں ٹیکسی ڈرائیور ناصر عباس نے مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کو نشاخت کر لیا تھا۔ عمر سعید کو 13جنوری 2002 کو گرفتار کیا گیا تھا اور 22اپریل 2002 کو ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے میں کُل 23 گواہان تھے، اکبر انٹرنیشنل ہوٹل جہاں عمر سعید اور ڈینیئل پرل نے ملاقات کی تھی، وہاں کے ریسیپشنسٹ عامر افضل نے بھی شناخت پریڈ میں ملزم کو شناخت کر لیا۔

عدالت نے حکام کو ملزمان کو رہا کرنے سے روکتے ہوئے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے 15ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی سندھ حکومت کی درخواست مسترد کردی تھی۔