ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا
- سوموار 28 / ستمبر / 2020
- 5280
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے اُنہیں گرفتار کر لیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کو آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ اُس موقع پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد دو رکنی بینچ نے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ ضمانت کے اخراج کے بعد نیب نے شہباز شریف کو احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا۔ عدالت کے باہر موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے حکومت اور نیب کے خلاف نعرے بازی کی۔ کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
یاد رہے کہ شہباز شریف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر مل کیس میں اکتوبر 2018 میں گرفتار ہو چکے ہیں جنہیں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر گزشتہ برس دونوں کیسز میں ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے حکم پر نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر مخالف آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری 'کُل جماعتی کانفرنس' کا ردِ عمل ہے۔ اُن کے بقول 2018 کی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں دھاندلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ آپ شہباز شریف کو گرفتار کر کے اپنے جھوٹے اور جعلی مینڈیٹ کو نہیں بچا سکیں گے۔ شہباز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے اے پی سی میں جو بھی فیصلے کیے، مسلم لیگ (ن) کا ہر کارکن ان وعدوں پر ثابت قدم رہے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر اس ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو شہباز شریف نہیں، عاصم سلیم باجوہ اور اس کا خاندان گرفتار ہوتا۔ شہباز شریف کا صرف یہ قصور ہے کہ انہوں نے نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے جیل جانے کو ترجیح دی مگر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شہباز شریف کی گرفتاری یقینی تھی جس کا حکومتی ترجمان کئی مرتبہ اشارہ دے چکے تھے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان تحریک اںصاف کی حکومت سمجھتی ہے کہ عمران خان کا اگر کوئی متبادل ہے تو وہ شہباز شریف ہے کیونکہ وہ بھی مفاہمانہ سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے تھے۔
حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف کی گرفتاری مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ' سے بوکھلائے عمران خان اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے ہیں۔ اپوزیشن سے وابستہ سیاست دانوں کو نوٹس بھیجنا اور گرفتار کرنا عمران خان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 'پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ' کے نام سے حکومت مخالف اتحاد تشکیل دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ اور معاونین خصوصی پر سنگین الزمات ہیں مگر اُنہیں نیب طلب نہیں کرتا۔ نیب کی جانب سے اپوزیشن کے سیاست دانوں کو نشانہ بنانے سے عوامی مزاحمت کا راستہ نہیں رُک سکتا۔ حکومت نے جو کرنا ہے کر لے۔ 'پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ' کا سفر نہیں رُکے گا۔