لتادیوی کی آواز: فن کی معراج
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 28 / ستمبر / 2020
- 15460
دنیا میں بڑے بڑے خوش الحان آئے، گیت گاتے اور باجے بجاتے ایسے فنکار آئے کہ پرندے اڑنا اور راہی چلنا بھول جائیں۔ جیسے کہ ایک بڑی شخصیت کے متعلق بیان کہا جاتا ہے کہ جب وہ گیت گاتے اور باجا بجاتے تو متذکرہ بالا صورتحال پیدا ہو جاتی تھی۔
اگرچہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ سب محاورةً تھا بات کو زور آور بنانے کیلئے، کہنے کا مقصد یہ تھا کہ گائیگی میں وہ بہت زیادہ خوش الحان تھے۔ جنوبی ایشیا سے ابھرنے والی ایک ایسی ہی مدھر رسیلی آواز کا نام لتا منگیشکر ہے، جو فن کی دیوی کہلائی، جس کی میٹھی آواز پچھلی پون صدی سے اپنے چاہنے والوں میں محبتوں کے پھول بانٹ رہی ہے۔ ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو، ہاتھ سے چھوکے اسے رشتوں کا الزام نہ دو، صرف احساس ہے یہ، روح سے محسوس کرو، پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو، پیار کوئی بول نہیں، پیار آواز نہیں، ایک خاموشی ہے سنتی ہے کہا کرتی ہے، نہ یہ بجھتی ہے نہ رکتی ہے، نہ ٹھہری ہے کہیں، نور کی بوند ہے، صدیوں سے بہا کرتی ہے۔دلیپ کمار کے الفاظ میں ”جس طرح پھول کی خوشبو کا اور بچے کی مسکراہٹ کا کوئی بھید بھاﺅ نہیں ہوتا اسی طرح لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تخلیق کا ایک کرشمہ ہے“۔
28 ستمبر 1929کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پنڈت دینا ناتھ منگیشکر کے گھر نور کی یہ بوند جلوہ گر ہوئی۔ ان کے والد ایک کلاسیکل سنگر اور تھیٹر کے ایکٹر تھے۔ منگیشی گواکا ایک گاﺅں یا قصبہ تھا جہاں کے مندر میں لتاجی کے داد ایک برہمن پنڈت کے طور پر وابستہ تھے۔ منگشی ٹمپل اور قصبے کی نسبت سے ہی لتا جی کے والد نے اپنے نام کے ساتھ منگیشکر لگایا جو لتا جی کے نام کا حصہ بن گیا ابتدا میں لتا جی کا نام ہیما رکھا گیا تھا جسے بعد ازاں بدل کر لتا کر دیا گیا۔
لتاجی کی والدہ کا نام شیوانتی شدھ متی تھا جو خود بھی اپنے خاوند کے ساتھ تھیٹر سے وابستہ تھیں۔ لتاجی اپنے والد پنڈت دینا ناتھ سے بے حد متاثر تھیں کیونکہ جوانی میں ہی ان کی موت ہو گئی تھی۔ 29 دسمبر 1900میں پیدا ہونے والے دینا ناتھ 24 اپریل 1942کو چل بسے۔ یہ وہ حالات تھے جب ننھی منی لتا نے بڑے ارمانوں سے فن کی دنیامیں قدم رکھا اور مراٹھی فلموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد میں ان کی مراجعت ہندی فلموں میں ہو گئی۔ 1947میں ایک فلم آئی ”آپ کی سیوا میں“ یہی فلم ننھی لتا کی فنی زندگی میں کا آغاز ثابت ہوئی۔ بعد ازاں قدرت نے جب لتاجی کو عروج دیا تو انہوں نے پونا میں اپنے والد کی یاد میں ”دینا ناتھ منگیشکر ہسپتال“ بنوایا۔
موسیقار غلام حیدر نو عمر لتا کے استاد تھے جو اس معصوم بچی کی آواز کے حوالے سے بہت پرامید تھے کہ وہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے کہ اس بچی کی آواز ایک روز پورے ہندوستان میں اس قدر گونجے گی کہ بڑے بڑے موسیقار ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ مگر کچھ ایسے بھی تھے جو اسے بڑھ خیال کرتے اور ہنس دیتے۔ اوپی نیئر بھی شاید ان میں سے ایک تھے جن کا خیال تھا لتا کی آواز اس قدر پتلی ہے کہ یہ مقبولیت حاصل نہیں کر پائے گی۔ بچپن کے کئی دلچسپ واقعات ہیں جب ماسٹر غلام حیدر کو یہ کہا گیا کہ یہ مراٹھی بچی ہے، یہ مراٹھی تلفظ کے ساتھ ہندی فلموں میں کیسے آگے بڑھ پائے گی۔ لیکن سچی لگن ہو تو پربت بھی دھول ہے اور لتاجی میں یہ سچی لگن چھوٹی عمر میں ہی ظاہر ہو گئی تھی۔ ایک دفعہ انہوں نے دیکھا کہ ان کے والد ریاضت کرواتے ہوئے اچانک اٹھ کر باہر گئے ہیں تو والد صاحب کے ایک شاگرد کی گائیکی درست کرنے کیلئے یہ معصوم بچی اسے آواز کا اتار چڑھاﺅ سمجھانے لگی۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے والد اس کے پیچھے کھڑے سب سن رہے تھے اور یہ سب سنتے ہوئے جھوم رہے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔
یوں 1947میں جب ملک آزاد ہونے جا رہا تھا تو ”آپ کی سیوامیں“نمودار ہونے والی آواز بھی بلندیوں کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ 49 میں ان کا گیت ”آئے گا آنے والا“ بہت ہٹ ہوا بعد ازاں ”آ جارے پردیسی“اور پھر ”اے دل تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا، دن زندگی کے جیسے بھی گزریں گزارنا“یوں 1974تک پہنچتے پہنچتے ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں سب سے زیادہ گیت گانے والی فنکارہ کی حیثیت سے درج ہو چکا تھا۔ ان کا فنی سفر نصف صدی سے بھی زائد عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ لتاجی کے گائے ہوئے گیتوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد بیان کی جاتی ہے۔ بالآخر ان کی شہرت اور مقبولیت نہ صرف پورے ہندوستان میں چھا گئی اور وہ چھوٹوں بڑوں سب کی دیدی کہلائیں بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں ہندی اور اردو بولی یا سمجھی جاتی ہے۔ لتاجی کی سریلی آواز کے ساتھ چاہنے والوں کی دھڑکنیں جڑ گئیں۔
1969 میں انہیں پدما بھوشن سے نوازا گیا تو 1989میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ان کی نذر کیا گیا۔ 1997میں مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ 1999میں این ٹی آر نیشنل ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور سب سے بڑھ کر2003میں انڈیا کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ”بھارت رتنا“ ان کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ باوجود اس کے کہ انہوں نے خود کو ایوارڈ دینے سے بار بار منع کیا اور بالآخر آئندہ کیلئے وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ دوسرے نئے لوگوں کو پیش کئے جائیں جو فن کی خدمت کر رہے ہیں۔ میرے لئے سب سے بڑا ایوارڈ میرے لوگوں کا سچا پیار ہے، وہ مان اور عزت ہے جو جنتا نے مجھے بخشی ہے۔
ان تمامتر محبتوں اور عقیدتوں کے باوجود ان کی ذاتی زندگی اس گیت کے مصداق ایک نوع کی تشنگی و محرومی کا ہی شکار رہی جس نے ساری زندگی ساری دنیا میں خوشیاں بانٹیں۔ اس کی اپنی زندگی میں بہاریں نہ آ سکیں وہ پیہم یہی گنگناتی رہی۔ بہارو میرا جیون بھی سنوارو، تمہی سے دل نے سیکھا ہے تڑپنا تمہی کو دوش دوں گی اے نظارو.... رچاﺅ کوئی کجرا لاﺅ گجرا، لچکتی ڈالیو تم پھول وارو، لگاﺅ میرے ان ہاتھوں میں مہندی سجاﺅ مانگ میری، یاد کی دھارو.... اور پھر یہ امر گیت، جو بہار بن کے برسے وہ گھٹا کہاں سے لاﺅں، تیرے دل کو جو لبھالے وہ صدا کہاں سے لاﺅں؟ جو دلوں کو چین دے دے، وہ دوا کہاں سے لاﺅں؟ جو مراد بن کے آئے، وہ دعا کہاں سے لاﺅں؟