شہباز شریف کی گرفتاری نے احتساب، نظام عدل اور عسکری قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 28 / ستمبر / 2020
- 12450
لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر منہ ڈھانپے ہوئے دو درجن کے لگ بھگ نوجوانوں کے گروہ کی طرف سے فوج کی حمایت اور نواز شریف کے خلاف مظاہرے کے چند گھنٹے بعد ہی لاہور میں نیب نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ آج ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک مقدمہ میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور پر فرد جرم عائد کی ہے۔ احتساب جج کو یہ کارروائی مکمل کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا جو سپریم کورٹ میں ڈینئیل پرل کیس میں سندھ حکومت کی نمائیندگی کررہے تھے۔
چند گھنٹوں کے دوران میں رونما ہونے والے ان واقعات سے واضح ہورہا ہے کہ ہفتہ بھر پہلے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے جو دھماکہ خیز خطاب کیا تھا ، اس سے لگی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں پڑ سکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن قیادت شدید دباؤ کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جو تند و تیز لب و لہجہ اختیار کیا ہے ، وہ ملک میں تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی موڈ کا پتہ دے رہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے سربراہ کی گرفتاری اور دوسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ نواز شریف کے دو ٹوک خطاب کے بعد تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے کوئی ایسی تدبیر ضروری تھی جس میں براہ راست ٹکراؤ سے بچا جاسکتا اور ملک کو کسی نئے بحران کا شکار ہونے سے روکا جاتا۔
افسوس کا مقام ہے کہ صرف حکومت اور اس کے نمائیندوں ہی نے اپوزیشن کی اے پی سی کے بعد غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ شروع نہیں کیا بلکہ فوج کا شعبہ تعلقات عامہ بھی صورت حال میں فریق بننے سے گریز نہیں کرسکا۔ شیخ رشید نے جب گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں آرمی چیف کی دعوت پر منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں اپوزیشن لیڈروں کی شرکت کا ’انکشاف‘ کرتے ہوئے جان بوجھ کر اسے ’لین دین کی کوشش ‘ کرنے والی ملاقات ثابت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ معاملہ کی نزاکت، گلگت بلتستان کی حساس حیثیت، وہاں انتخابات کے حوالے سے اختلافات اور خطے کی سی پیک کے لئے اہمیت کے پیش نظر ایسے اہم اجلاس کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی گنجائش نہیں تھی۔ گلگت بلتستان چونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کا باعث بننے والے کشمیر کا بھی حصہ ہے، اس لحاظ سے بھی اس خطہ کے بارے میں پاکستان کے کسی بھی فیصلہ کے دوررس سفارتی، علاقائی اور سلامتی کے حوالے سے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس حساسیت کا تقاضہ تھا کہ شٰخ رشید اور حکومت کے دیگر نمائیندے اس معاملہ کو سیاسی رسہ کشی کی وجہ نہ بناتے۔
تاہم شیخ رشید نے جس طرح یکے بعد دیگرے بیانات میں اپوزیشن لیڈروں کو بے اعتبار ثابت کرنے کی کوشش کی ، اس سے یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ شیخ رشید نے یہ بیانات صرف اپنی سیاسی شعبدہ بازی کا رنگ جمانے کے لئے دیے تھے۔ بعد میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے مسلم لیگی لیڈر محمد زبیر کی آرمی چیف کے ساتھ ملاقاتوں اور ان کے ’موضوع‘ کے بارے میں بیان دے کر یہ واضح کردیا کہ پاک فوج بھی ملک میں سیاسی گھٹن اور حکومت کی ناکامیوں کے خلاف اپوزیشن کی مہم جوئی کو مناسب نہیں سمجھتی۔ بدقسمتی سے یہ بیان بازی بالواسطہ طور سے ہی سہی لیکن نواز شریف کے اس دعویٰ کی تصدیق کا سبب بنی ہے کہ ملک میں ریاست سے بالا ریاست اور منتخب حکومت کے متوازی حکومت کام کرتی ہے جو عوام کے منتخب نمائیندوں کو اپنی مرضی سے کام نہیں کرنے دیتی۔ بعد میں اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے ایک متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیتے ہوئے نواز شریف کے مؤقف کو عمران حکومت کے خلاف اپنی جد و جہد کا نعرہ بنانے کا اعلان کیا۔
ان حالات میں شہباز شریف کی گرفتاری ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ دکھائی دے گی۔ خاص طور سے یوں بھی کہ متعدد وزیر پہلے سے اس گرفتاری کی پیش گوئی کرتے رہے ہیں ۔ آج اس گرفتاری کے بعد جس طرح مرکزی اور پنجاب حکومت کے وزرائے اطلاعات نے ’نیب کا ترجمان‘ بننے کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے شہباز شریف کی گرفتاری کو سو فیصد سیاسی اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایک ایسی بدحواس حکومت کا اٹھایا ہؤا قدم سمجھا جائے گا جو اپوزیشن کی مسلسل مقبولیت اور فعالیت سے خوفزدہ ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی خواہ جتنے تواتر سے اپوزیشن کی سیاسی مہم کو بدعنوانی چھپانے اور این آر او لینے کی کوشش قرار دیں لیکن ہر شعبہ میں حکومتی ناکامی کی وجہ سے اب اس دلیل میں وزن محسوس کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ بیان اب تحریک انصاف کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے نعرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
حکومت نے نہ صرف اپوزیشن کو ناراض اور خود سے دور کیا ہے بلکہ اس نے کسی بھی شعبہ میں ایسی کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کی جسے دکھا کر وہ اپوزیشن کا منہ بند کرسکے۔ اس کے علاوہ میڈیا کے خلاف نت نئی پابندیاں عائد کرنے کے بعد وزیر اعظم کا یہ اصرار کہ ’اس وقت ملک میں میڈیا کو جس قدر آزادی حاصل ہے وہ تاریخ کے کسی دور میں اسے نہیں ملی‘ ۔۔۔اشتعال دلانے کی کوشش سے زیاد اہمیت نہیں رکھتا۔ یہ بیان پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نقطہ نظر اور مؤقف سے متصادم ہے۔ اس طرح عمران خان نے فوج کی سرپرستی کے زعم میں بیک وقت کئی محاذ کھول لئے ہیں لیکن کسی شعبہ میں حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی۔ لگتا ہے عمران خان اور ان کی حکومت کے سارے کارپرداز دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ صرف بلند بانگ دعوؤں اور اپوزیشن کو مسترد کرنے سے ہی ملک کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ اب یہ حکمت عملی مکمل طور سے ناکام ہورہی ہے۔ مریم نواز کی لاہور میں پریس کانفرنس اس کا ببانگ دہل اعلان ہے۔
شہباز شریف کی گرفتاری بلاشبہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد عمل میں آئی ہے اور آصف زرداری کے خلاف فرد جرم اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے عائد کی ہے۔ لیکن ملک کے دو نمایاں ، معتدل مزاج اور زیرک سیاست دانوں کے خلاف کئے گئے ان اقدامات کا سیاسی بوجھ عمران خان کی حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا۔ خاص طور سے وزیروں مشیروں کی فوج نے جس طرح شہباز شریف کے خلاف نیب کے اقدام کی حمایت میں دھؤاں دار بیانات دیے ہیں، ان کے بعد حکومت کیسے یہ بتا سکے گی کہ نیب اور وزیر اعظم ہاؤس میں کوئی فرق ہے۔ اس طریقہ سے صرف حکومت کی نیت ہی مشتبہ نہیں ہوتی بلکہ ملک میں احتساب کا پورا عمل مشکوک ہوجاتا ہے۔ نیب کے طریقہ کار ، ناقص کارکردگی اور سیاسی عزائم کا اظہار صرف اپوزیشن لیڈروں اور ان عناصر کی طرف سے ہی نہیں ہوتا جو اس وقت نیب کی گرفت میں ہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت متعدد معاملات میں نیب کی صلاحیتوں کے بارے میں سوال اٹھا چکی ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا تھا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر نیب قوانین میں ترمیم سے اس ادارے کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتی۔ لیکن حکومت نے نیب قانون کو ہتھکنڈا بنا کر اپوزیشن کو عاجز کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اب وہ خود اس جال میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے کسی قانونی عذر کی بنیاد پر شہباز شریف کی ضمانت قبول کرنے سے انکار کیا ہوگا۔ لیکن یہ قانونی عذر چند روز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی اپیل پر غور کرنے والے ڈویژن بنچ کی قانونی موشگافیوں سے زیادہ مضبوط نہیں ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ایسے جج کے دیے ہوئے حکم پر عمل درآمد کے لئے نواز شریف کو مفرور قرار دینے اور فوری گرفتاری کا حکم دیاتھا جو خود اپنے غیر پیشہ وارانہ طرز عمل کی وجہ سے معزول کیا جاچکا ہے۔ کسی بے حس چوخانہ میں فٹ ہونے والے ایسے عدالتی فیصلے ملک میں اعلیٰ عدلیہ کی ہوشمندی، غیر جانبداری اور وسیع تر تصویر دیکھنے کی صلاحیت کے بارے میں متعدد سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
جب اعلیٰ عدالتیں نواز شریف اور شہباز شریف کے قد کاٹھ کے سیاسی لیڈروں کو بر وقت انصاف دینے اور احتساب کے نام پر ملک کی احتساب عدالتوں میں جاری پتلی تماشہ ختم کرنے میں ناکام ہوتی ہیں تو عام آدمی ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ یہ کیسا نظام عدل ہے جس میں فیصلہ دینے والا جج ’چور‘ نکلتا ہے لیکن اعلیٰ عدالتیں اس پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں؟ یہ کیسا احتساب ہے کہ ملک کے قدیم اور بڑے میڈیا گروپ کا سربراہ میر شکیل الرحمان سات ماہ سے اور پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز تیرہ ماہ سے قید ہیں لیکن کوئی عدالت انہیں ریلیف دینے پر آمادہ نہیں ۔ کیاملک میں احتساب عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ناانصافی کی ساری ذمہ داری کم تر عہدوں پر کام کرنے والے ججوں اور نیب پر عائد کردی جائے گی یا ملک کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ پر بھی اس سلسلہ میں کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ خاص طور سے جب یکے بعد دیگرے متعدد معاملات میں نیب اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات بھی اٹھائے جاچکے ہیں۔
مریم نواز کی پریس کانفرنس میں اٹھائے جانے والے نکات ملک کے سیاسی نظام سے زیادہ انصاف کے طریقہ کار پر شبہات کا اظہار ہیں۔ ملک کی ایک نمایاں سیاسی لیڈر جب حکومت اور اپوزیشن کے خلاف نیب اور عدالتوں کے غیر متوازن طرز عمل کا حوالہ دیتی ہیں تو اس پر صرف وزیر اعظم ہاؤس کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ حکومت کو سیاسی مقاصد کے لئے ملکی انتظام کو استعمال کرنے کا حق دینے والے عدالتی نظام کو بھی چوکنا ہونا چاہئے۔
مریم نواز نے شہباز شریف کی گرفتاری کی روشنی میں سوال اٹھایا ہے کہ سی پیک کے چئیر مین لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کے اربوں کے اثاثوں پر خاموشی کیوں ہے؟ حالانکہ وہ تو ایک عام سرکاری ملازم ہی تھے۔ اس سوال کا جواب صرف عمران خان پر واجب نہیں ہے۔ نیب ، عدالتیں اور فوج یکساں طور سے کٹہرے میں کھڑی ہیں۔