پاکستان، افغانستان کا سرپرست نہیں دوست بننا چاہتا ہے: وزیر خارجہ
- منگل 29 / ستمبر / 2020
- 5170
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان کا سرپرست نہیں دوست بننا چاہتا ہے۔ امن کے ساتھ رہ کر مشترکہ مستقبل تعمیر کے لئے مساوی بنیاد پر تعلقات اہم ہیں۔
اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز میں افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے ہمراہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم افغانستان کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا افغان عوام کے لیے واضح پیغام ہے کہ ہم آپ کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف افغان ہی کرسکتے ہیں۔ بین الافغان مذاکرات اور بات چیت کے نتیجے میں جو بھی اتفاق رائے ہوگا پاکستانی عوام افغانستان کے عوام کی خواہش کو قبول کریں گے اور یہ ہمارے لیے اہم ہے۔
سابق صدر ایوب خان کی کتاب کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے افغان رہنما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے سرپرست نہیں دوست بننا چاہتے ہیں۔ یہ تبدیلی کا نمونہ ہے اور اگر ہمیں امن کے ساتھ رہ کر مشترکہ مستقبل تعمیر کرنا ہے تو یہ اس بات کی پہچان کا نیا احساس ہے۔
انہوں نے کہا کہ عبداللہ عبداللہ زمینی حقائق، کمزوریوں، رکاوٹوں اور خدشات کو پوری طرح سمجھتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں مفاہمتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت ان کے کیرئر کا سب سے مشکل کام ہے جس پر میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں کیوں کہ ان کی کامیابی میں میری کامیابی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم براِہ راست بات کریں، خوش اسلوبی سے دوستانہ انداز میں خلوص کے ساتھ تبادلہ خیال اور رابطے کریں۔ گزشتہ روز ہم نے انتہائی اہم ملاقات کی اور متعدد چیزوں پر بات کی لیکن خاص توجہ امن عمل کو آگے بڑھانے پر تھی جو ایک مشکل کام ہے۔ میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس دورے کا وقت انتہائی اہم ہے، کیوں کہ یہ متعدد تاریخی مواقع کے بعد ہورہا ہے۔ امریکا اور طالبان کے مابین 29 فروری کو دوحہ میں امن معاہدہ ہوا جو تاریخی تھا۔
یہ معاہدہ اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا آسان نہیں تھا لیکن یہ ہوا۔ علاقائی سمجھوتہ آسان نہیں تھا لیکن ہوا۔ 9 اگست کو لویہ جرگہ میں کیے گئے فیصلے آسان نہیں تھے لیکن ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 12 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات کا انعقاد آگے کی جانب ایک قدم ہے۔ افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈیریٹی (اے پی اے پی پی ایس) کا دوسرا دور 31 اگست کو کابل میں ہوا جو میری نظر میں درست سمت میں ایک قدم تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک نیا بین الاقوامی ماحول ہے جو سیاسی تصفیے کا حامی ہے۔ آج امن عمل کو علاقائی حمایت حاصل ہے اور یہ بغیر علاقائی حمایت کے آگے بڑھ بھی نہیں سکتا تھا۔ آج اس بات کا بڑا واضح احساس پاکستان اور افغانستان دونوں میں موجود ہے کہ اگر ہم اپنے لیے ایک خوشحال مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں امن کی ضرورت ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج تشدد میں کمی جنگ بندی کی جانب بڑھ رہی ہے جو امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آج میں یہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ افغانوں کی بڑی تعداد امن چاہتی ہے لیکن میں اور عبد اللہ عبداللہ دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں جن پر ہمیں نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
ضروری ہے کہ ماضی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ راستہ آسان نہیں یہ ہمیں پلیٹ میں رکھا نہیں ملے گا بلکہ اس کے لیے کام کرنا ہوگا اور یہ سارا کھیل صبر کا ہے آپ کو صبر رکھنا ہوگا۔
بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان رہنما عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کاری کر کے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ممالک نے دہشت گرد گروہوں کا سامنا کرتے ہوئے بھاری قیمت ادا کی ہے جو اب بھی بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کے طور پر فعال ہیں۔
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغانستان کسی بھی قوم کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو کسی بھی قوم کے لیے خطرہ بننے نہیں دے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز انتہائی اہم موقع ہے۔ انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو کہا ہے کہ صبر رکھیں اور سمجھوتے کرنے کے لیے تیار رہیں۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی، انتہائی پسندی، عدم برداشت اور حال ہی میں کووِڈ 19 جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔
افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے بہترین امکانات موجود ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کابل ان کی باعزت واپسی کے پاکستانی نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے۔