مقامی حکومتوں کا نظام اور سپریم کورٹ کی ذمہ داری
- تحریر سلمان عابد
- منگل 29 / ستمبر / 2020
- 5740
کیا واقعی پاکستان کی حکمرانی کے نظام میں مقامی حکومتوں کے نظام کو بنیادی ترجیحات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مربوط نظام کے تحت قائم کیا جاسکے گا؟ عملی طور پر پاکستان کا جمہوری حکمرانی کا نظام مقامی حکومتوں کے نظام سے نہ صرف محروم ہے بلکہ اس نظام کوسیاسی بنیادوں پر ایک بڑے سیاسی استحصال کا سامنا ہے۔
وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کا کردار سب سے زیادہ تنقید کے زمرے میں آتا ہے جو اس بنیادی جمہوریت کے نظام کے ہی خلاف ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت وفاق او رصوبائی سطح پرحکمرانی کے شدید ترین بحران میں سب ہی سیاسی، انتظامی اور قانونی فریقین مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔لیکن حکمران طبقہ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اس نظام کی تشکیل اور خود مختاری کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ پچھلے دنوں اس ملک کی اعلی عدلیہ یعنی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے واضح طور پر ریمارکس دیے کے حکمران طبقات کے لیے’مقامی حکومتوں کا نظام‘اس طبقہ کی خواہش سے نہیں جڑا بلکہ یہ عمل آئین کی پاسداری سے جڑا ہوا ہے اور حکمران طبقات پر فرض ہے کہ وہ آئین کی شق پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے اس نظام کو خود مختار، فعال، شفاف بنائیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بقول مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات دینا صوبائی سطح پر حکومتوں کی سیاسی و آئینی ذمہ داری بھی ہے۔اسی طرح عدالت کا کہنا تھا کہ اگر اختیارات کی بات کرنی ہے تو ذمہ داری او راحتساب کی بھی کرنا ہوگا۔اگرچہ چیف جسٹس کے ریمارکس سندھ اور اسلام آباد کی مقامی حکومتوں کے نظام کے تناظر میں تھے لیکن پنجاب، خیبر پختونخواہ او ربلوچستان کی صورتحال بھی کسی بڑے المیہ سے کم نہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک بنیادی نکتہ اٹھایا کہ سارا کھیل طاقت کو اپنے پاس رکھنے کا ہے اور جب سیاست دان اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اختیارات کی منتقلی پر بہت زور دیتے ہیں۔لیکن جب اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتے ہیں تواختیارات کی تقسیم کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں اختیارات کی تقسیم کی مخالف ہیں۔
ملک کی اعلی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت دیگر ججز نے مقامی حکومتوں کے نظام پر جو ریمارکس دیے ہیں وہ ہماری سیاست، جمہوریت، اہل اقتدار سمیت دیگر فریقین کے لیے ایک بڑی چارج شیٹ ہے۔لوگوں کو یاد ہوگا کہ 2015میں بھی جو مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت مقامی انتخابات ہوئے تھے وہ حکمران طبقات کی خواہش یا فیصلے کی بجائے سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے تھے۔ اگر اس وقت سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی اور اپنا فیصلہ نہ سناتی تو حکمران طبقات انتخابات کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔
مسئلہ حکمران طبقات کی سیاسی او رآئینی یا قانونی ذمہ داری کے تحت محض مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد یا اس نظام کی تشکیل تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بڑا نکتہ یا مسئلہ اس نظام کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ ہماری حکمرانی سے جڑے نظام کی عملی ضرورت مصنوعی یا دکھاوے یا کسی دباؤکی بنیاد پر محض ان مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت انتخابات یا نظام کی تشکیل ہی نہیں بلکہ عملی طور پر ان اداروں کی آئینی ضرورت کے تحت خود مختاری اور شفافیت کی ہے۔
بڑے شہروں کے نظام کو جس فرسودہ طور طریقوں، مرکزیت یعنی اختیارات کو اپنی حد تک سمیٹ کر چلایا جارہا ہے اس سے حکمرانی کا بحران اور زیادہ بگاڑ کا شکا رہوگیا ہے۔ صوبائی حکومتیں وفاق کی جانب سے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات کی تقسیم کے باوجود مقامی حکومتوں کو مقامی سطح پر اختیاارت دینے کے لیے کسی بھی طور پر تیار نظر نہیں آتیں او ران کا یہ رویہ یا طرزعمل 18ویں ترمیم اور صوبائی خود مختاری کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ضلعی یا تحصیل یا مقامی گاوں ومحلہ کی سطح پر خود مختار او رفیصلہ ساز اداروں کو بنیاد بنانا ہوگا او راس کو قائم کیے بغیر صوبائی خود مختاری ممکن نہیں ہوگی۔
اگرچہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی معاملہ ہے اور حتمی فیصلہ بھی صوبائی حکومتوں نے ہی کرنا ہے۔وفاق کا کوئی براہ راست کردار اس نظام پر نہیں ہے۔لیکن محض ان اداروں کو صوبائی حکومتوں کے رحم وکرم پر چھوڑنا اور کوئی ان صوبائی حکومتوں کی جانب سے ان مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل میں تواتر سے تاخیر، کمزور یا مفلوج نظام یا چاروں صوبوں کا ایک دوسرے سے مختلف نظام، بڑے شہروں کے نظام کو کوئی بڑی شکل نہ دینا، حتی تک کہ مقامی حکومتوں کے نظام کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف صوبائی حکمران طبقات کے آمرانہ طرز عمل خود وفاقی سطح پر حکومت کے لیے بھی بڑا چیلنج یا فکر کی دعوت دیتا ہے۔اس ساری خرابیوں کی بھاری قیمت پاکستان کے مظلوم، کمزور، غریب عوام اور بڑے بڑے شہر ایک بدترین حکمرانی کے نظام کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔ہم یہ سیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں کہ شفاف حکمرانی کے نظام کا براہ راست تعلق ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑاہوا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد اور اعلی عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں محض ریمارکس تک خود کو محدود نہ رکھیں۔ بلکہ یہ اس آئینی شکنی پر صوبائی حکومتوں کے خلاف سو موٹو لیں۔ اس تناظر میں عدلیہ کو چار بنیادی باتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ اول وہ اس وقت ملک کے چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈ کے موجود مقامی حکومت سے جڑے نظام کا جائزہ لیں کہ وہ کس حد تک 1973کے دستور کی شق کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ دوئم ملک میں موجود تمام نظاموں میں جو تضاد، ٹکراؤ او رایک دوسرے سے جس طرح مختلف ہیں ان میں چند بنیادی اصولوں پر اہم آہنگی پیدا کی جائے جس میں ہر سطح پر آئین کے تحت اختیارات کی سیاسی، انتظامی اور مالی تقسیم، آئین کی شق 32کے تحت کمزور او رمحروم طبقات یعنی عورتوں، کسان،مزدور اور اقلیتوں سمیت نوجوانوں کی نمایاں نمائندگی کی یقینی دہانی۔ سوئم فوری طور پر صوبائی حکومتوں کو وپابند کیا جائے کہ وہ اپنے صوبوں میں مقامی انتخابات کے عمل کو یقینی بنائیں۔ چہارم مقامی حکومتوں کے نظام کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے قانونی رکاوٹوں یا کمی کے عمل کو ہر صورت ختم کیاجائے۔پنجم بڑے شہروں کے نظام کے لیے ایک مربوط او رجامع پلان یقینی بنا کر، ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز کا خاتمہ کرکے اسے مقامی نظام کے ماتحت کرنا ہوگا۔
یہ کام اعلی عدلیہ ہی کرسکتی ہے۔کیونکہ ہماری صوبائی حکومتوں کا طرز عمل نہ تو فوری مقامی حکومتوں کے انتخابات کے تیار نظر آتا ہے او رنہ ہی یہ سیاسی و جمہوری حکومتیں مقامی حکومتوں کے نظام کو مکمل خود مختاری دینا چاہتی ہیں۔اس لیے یہ اعلی عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمران طبقات کی آئین شکنی کا نوٹس لے او رایک مضبوط مقامی نظام کو بنانے میں عوام کی مدد کرے۔