امریکہ کے پہلے صدارتی مباحثے میں الزام تراشی اور ذاتی حملے
- بدھ 30 / ستمبر / 2020
- 5760
امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے صدارتی امیدواروں کے درمیان پہلے صدارتی مباحثے میں تلخی دیکھی گئی۔ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن نے ایک دوسرے پر سخت تنقیدی جملوں کا تبادلہ کیا۔
ریاست اوہائیو کے شہر کلیو لینڈ میں منگل کی شب ہونے والے مباحثے میں کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ مباحثہ میں صدر ٹرمپ کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ نسل پرست گروہوں کو مسترد کرنے میں ناکام رہے اور ماڈریٹر کے اصرار کے باوجود اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے۔ جو بائیڈن نے اس پر ٹرمپ کو نسل پرست قرار دیا۔
ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے کہا کہ عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے صدر کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مہلک وبا ہے لیکن انہوں نے عوام کو کچھ نہیں بتایا۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ صدر کو مسائل سے نکل کر کروونا وبا کی پیش قدمی روکنی چاہیے۔ جس پر ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے شاندار اقدامات کیے ہیں اور ہم ویکسین کی تیاری میں چند ہفتے دوری پر ہیں۔
ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ الیکشن کے روز اپنا حق رائے دہی لازمی استعمال کریں اور صدر ٹرمپ کی تجاویز سے نہ گھبرائیں کیوں کہ ان کے بقول شاید وہ نقصان قبول نہ کر سکیں۔ جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں پر غیر ضروری طور پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کا خدشہ ہے۔ اُن کے بقول گزشتہ ہفتے کچرے سے بیلٹ پیپرز بھی ملے ہیں۔
مباحثے کے دوران ایک موقع پر جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ سے ٹیکس دستاویزات دکھانے کا بھی مطالبہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک اسکول ٹیچر سے بھی کم ٹیکس ادا کیا ہے۔ ٹیکس ادائیگی سے متعلق جو بائیڈن کی تنقید پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے لاکھوں ڈالرز ٹیکس ادا کیا ہے۔
منگل کو ہونے والے نوے منٹ کے مباحثے میں دونوں امیدواروں نے بیشتر وقت ایک دوسرے پر ذاتی نوعیت کے حملوں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور برے القابات دینے پر صرف کیا۔ جو بائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کے بدترین صدر ہیں۔ انہوں نے کئی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو مسخرہ بھی کہا۔
ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے 47 ماہ میں اتنا کام کیا ہے جتنا بائیڈن بطور نائب صدر اور سینیٹر، 47 برس میں نہیں کر سکے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر بائیڈن ملک کے اگلے صدر منتخب ہوئے تو عوام مایوسی کا شکار ہوں گے کیوں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پلان میں ٹیکسز میں اضافہ شامل ہے۔
مباحثے کے دوران صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ اپنے حریف کو بات مکمل کرنے نہیں دی۔ اس دوران بائیڈن مسلسل کیمرے کی جانب متوجہ رہے جس پر صدر ٹرمپ نے اُنہیں امریکی عوام سے براہِ راست اپیل کرنے پر ٹوکا۔ فاکس نیوز سے وابستہ ماڈریٹر کرس والس نے مباحثے کے دوران ایک موقع پر صدر ٹرمپ کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ مباحثے کے قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دوسرے امیدوار کو بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دے رہے۔
بائیڈن نے اٹلانٹک میگزین کے ایک آرٹیکل کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے 2018 میں پیرس کے دورے کے موقع پر پہلی جنگِ عظیم کی صد سالہ تقریب کے دوران جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کو شکست خوردہ قرار دیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے بائیڈن کے اس الزام کی تردید کی۔ بائیڈن نے جذباتی انداز میں ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بیٹے بیے بائیڈن کو ناکام قرار نہیں دے سکتے۔ یاد رہے کہ بیے بائیڈن امریکہ کی مسلح افواج میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور 2015 میں کینسر کے مرض کے باعث اُن کا انتقال ہو گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے بائیڈن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بیے بائیڈن کو نہیں جانتا البتہ بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کو جانتا ہوں جس نے یوکرین کی گیس کمپنی میں اُس وقت اہم عہدہ حاصل کیا تھا جب اُن کے والد امریکہ کے نائب صدر تھے اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی کو دیکھ رہے تھے۔
کلیولینڈ شہر کے کالج کیمپس میں دونوں امیدواروں کے درمیان 90 منٹ تک یہ مباحثہ جاری رہا۔ صدارتی مباحثہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب پانچ ہفتوں کے بعد امریکہ میں تین نومبر کو صدارتی انتخاب ہونا ہے۔