بابری مسجد شہید کرنے والے تمام ملزم بری کردیے گئے
- بدھ 30 / ستمبر / 2020
- 10190
بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے بابری مسجد پر حملہ کرنے کے الزام سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت تمام 32 ملزموں کو بری کردیا ہے۔
ان تمام افراد پر 1992 میں 16ویں صدی عیسویں کی بابری مسجد کو شہید کرنے اور ہندو مسلم فسادات کو بھڑکانے کے الزامات تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار افراد مارے گئے تھے۔ یہ مقدمہ بھارتی عدالت میں 28 سال تک چلا اور آج سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ مسجد کی شہادت باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھی۔
کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے جج کے عہدے کی مدت میں توسیع کی گئی تھی۔ جج کا کہنا تھا کہ مسجد کو سماج دشمن عناصر نے منہدم کیا تھا اور جن رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔ جج کا یہ بھی کہنا تھاکہ سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو شواہد کوئی سازش ثابت نہیں کرسکے جبکہ تقاریر کی آڈیو واضح نہیں تھی۔
تفتیشی اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی، اور کلیان سنگھ سمیت 32 ملزمان اس اسٹیج کے قریب موجود تھے جہاں سیاسی، مذہبی اور مندر کے لیے مہم چلانے والوں نے تقاریر کیں اور ان تقاریر کی وجہ سے ہجوم مشتعل ہوا۔ این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک پروگرام میں ایل کے ایڈوانی نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک 'خوفناک غلطی تھی لیکن مجھے آج تک معلوم نہیں کہ ہجوم کے مشتعل ہونے کے نتیجے میں ہوا یا کسی گروہ کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا'۔
سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ کار سیوکوں کا ایک گروہ قابو سے باہر ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو کچھ ایودھیا میں ہوا وہ افسوسناک تھا ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ہم کامیاب نہ ہوسکے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایودھیا میں دو مقدمات درج کئے گئے تھے اس کے علاوہ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کا بھی ایک مقدمہ تھا جس کا بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نومبر میں فیصلہ سنایا تھا۔
ایک مقدمہ مسجد پر حملہ کرنے والے ہزاروں نامعلوم ہندو انتہا پسندوں کے خلاف درج ہوا تھا اور دوسرا مقدمہ مسجد گرانے کی سازش کے بارے میں تھا جس میں ایل کے اڈوانی، منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت کئی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ابتدائی طور پر 48 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ لگ بھگ تین دہائیوں سے جاری اس کیس کی سماعت کے دوران 16 ملزمان انتقال کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات ہوئے تھے اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔ جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول وفاقی حکومت اور بعدازاں سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔
بھارت کی ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہوگی۔ اس حوالے سے مسلمان اور ہندوؤں نے 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں جس کے بعد اس معاملے میں ثالثی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔
تنازع کے باعث بھارت کی مسلمان اقلیت اور ہندو اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔ 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ 5 اگست کو بابری مسجد کی جگہ پررام مندر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ واضح رہے ایک سال قبل اسی تاریخ کو باھرتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے وہاں سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔