اہل پاکستان انگریز سے آزادی حاصل کرکے اپنوں کے ہاتھوں غلام بن گئے: نواز شریف

  • بدھ 30 / ستمبر / 2020
  • 5800

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ پارلیمنٹ کو ممبران کے ذریعے کوئی اور چلا رہا ہے۔ پاکستانی آزاد ہوکر بھی اپنوں کے ہاتھوں غلام ہیں۔

پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کہا کہ  ’لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ کوئی اور پارلیمنٹ چلا رہا ہے، دوسرے لوگ آئے دن کے ایجنڈے اور بلوں پر ووٹ ڈالنے کے بارے میں ہدایات دیتے ہیں‘۔

اجلاس کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نو آبادیاتی طاقت سے آزادی مل گئی اور اب اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں غلام بن گئے۔  انہوں نے کہا کہ ’آج ہم آزاد شہری نہیں ہیں‘۔

مریم نواز کی جانب سے شیئر کی جانے والی ایک اور ویڈیو میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں ایک کرنل کو اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران چہرہ چھپاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’چہرہ چھپانے کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ آپ کو بدنما کیا جارہا تھا اسی وجہ سے آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔  نواز شریف نے پارٹی کی طرف سے جاری ایک الگ بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ اپنے بھائی اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف کی گرفتاری سے رنجیدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہمارا عزم کمزور نہیں ہوگا اور پارٹی نے اپنی کوششیں مزید تیز کردی ہیں'۔  سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہماری پارٹی کے کارکنان جرات کے ساتھ موجودہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کے ساتھ جاری بد ترین سلوک کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے ان اوقات میں بے مثال طاقت اور ہمت کا مظاہرہ کیا اور ایمانداری کے ساتھ قوم کی خدمت کرنے پر اپنے بھائی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔  نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب میں بجلی گھروں کے قیام کے لیے دن رات کام کیا۔

نواز شریف نے سرکاری افسران کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے توانائی کی قلت کو دور کرنے میں کردار ادا کیا۔  انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مشکل کی صورت میں کبھی نہیں جھکے۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے کہ جو کچھ ہم کررہے ہیں وہ ٹھیک ہے؟ انتخابات میں آرٹی ایس بند ہونے کو تقدیر کا فیصلہ تسلیم کرلیں۔ 70 برس کے دوران کسی کا حق کسی اور کو تفویض کردینے کو تسلیم کرلینا چایے۔

انہوں نے کہا کہ 'آج عدالتوں پر دباؤ ڈال کر مرضی کے فیصلے لیے جاتے ہیں کیا یہ سب ٹھیک ہے، ہمیں مذکورہ مسائل پر دوٹوک انداز میں بات کرنی چاہیے'۔  سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ 'پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی پارلیمنٹ بنا دیا اور مجھے نہیں معلوم کہ میں پارلیمنٹ کا ممبر کیوں نہیں ہوں؟ اللہ نے ہمیشہ کامیابی دی اور پارلیمنٹ کا حصہ رہا اور اب تو پارٹی کی صدارت سے بھی فارغ کردیا گیا'۔

انہوں نے کہا کہ کیا آپ سب کا دل و ماغ مانتا ہے کہ یہ سب تسلیم کرلیا جائے۔  دھرنوں کے باوجود ہم نے متعدد منصوبوں کو مکمل کیا۔  نواز شریف نے کہا کہ 'مجھے ایک انتہائی قابل شخص نے بتایا کہ کمائی کے باوجود لوگ بجلی و گیس کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں، چینی اور آٹا کی قیمتوں غیرمعمولی بڑھ چکی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے'۔

نواز شریف نے کہا کہ 'تحریک انصاف کے دھرنوں کے دوران اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام نے پیغام بھیجا کہ میں استعفیٰ دے دوں'۔  انہوں نے کہا کہ ظہیر الاسلام کا آدھی رات کو پیغام ملا کہ استعفیٰ دے دو ورنہ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ، مارشل لا بھی لگ سکتا ہے۔  سابق وزیر اعظم نے بتایا کہ 'ظہیر الاسلام کا پیغام ملنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ استعفیٰ نہیں دوں گا جو ہونا ہے ہوجائے'۔  انہوں نے کہا کہ 'مجھے غلامی قبول نہیں ہے یہ زمانہ دیکھے گا'۔

نواز شریف نے کہا کہ 'اب ہم ذلت کی زندگی برداشت نہیں کریں گے کیونکہ میں نے فیصلہ کرلیا'۔  قوم اس وقت مشکل میں ہے کیونکہ ہم غیرجمہوری فیصلوں کے آگے کھڑے نہیں ہوتے۔  انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'وہ نااہل ہیں جنہیں حکومت کرنے کا ڈھنگ نہیں ہے، انہیں معلوم ہی نہیں کہ حکومت کرنا کسے کہتے ہیں'۔  اس بندے کو حکومت میں لا کر پشیمان ہوں گے کہ لائے بھی ہیں تو کس بندے کو لائے ہیں۔ اب آپ لائے ہیں تو آپ کو ہی جواب دینا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ 'اس بندے کو عوام پر مسلط کردیا تو قصوروار تو سب سے بڑے آپ ہیں'۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ بندہ تو قصوروار ہے ہی لیکن اس سے بڑے قصوروار آپ ہیں، آپ کو جواب دینا ہوگا اور ہم جواب لیں گے۔  انہوں نے کہا کہ  اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ تمام فورم سے بھرپور اقدام کرنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ عمران خان کو وزیراعظم تسلیم کرلینا قومی نقصان کے مترادف ہے۔  انہوں نے کہا کہ 'جب ایک کٹھ پتلی وزیراعظم کو 22 کروڑ لوگوں پر مسلط کردیا جائے تو وہ متعدد کٹھ پتلی وزرا کو جنم دیتا ہے'۔

مریم نواز نے کہا کہ اداروں کا جتنا استحصال اور بدنامی عمران خان کی وجہ سے ہوئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔  کوئی ادارہ ان کے قہر سے نہیں بچا، جن کو وہ کہتا ہے کہ ایک پیج پر ہے۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ اگر 72 سال سے ایک پیج پر ہونے سے یہ معاملات جنم لیتے ہیں تو اللہ کرے وہ کبھی ایک پیج پر نہ ہوں۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ عمران خان نے فوج، نیب، ایف آئی اے، عدلیہ غرض تمام ریاستی اداروں پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔  بیماری کی وجہ سے نواز شریف کو جس عدلیہ نے بیرون ملک جانے کی اجازت دی، اسی عدلیہ نے مفرور قرار دے دیا۔