جلد انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار بہت اہم ہے: چیف جسٹس

  • جمعرات 01 / اکتوبر / 2020
  • 7300

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ ماتحت عدالتیں معاملات کو اس طرح جامع انداز میں نمٹائیں کہ یہ اعلیٰ عدالتوں کے پاس جائزہ لینے کے لیے نہ آئیں۔

بدھ کے روز کوئٹہ میں نوجوان وکلا میں کتب کی تقسیم اور ضلعی عدالتوں کی عمارت کی تزئین و آرائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جلد انصاف کی فراہمی میں وکلا کا کردار بہت اہم ہے اور وکلا کو مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس احمد نے نوجوان وکلا کو مشورہ دیا کہ وہ قانون کے ساتھ ساتھ تاریخ اور فلسفے کا بھی مطالعہ کریں جس سے انہیں قانونی امور کو سمجھنے اور علم میں اضافے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کو زیادہ سے زیادہ مقدمات کی وجہ سے بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان کے فیصلوں میں غلطیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تاکہ مؤکلوں کو انصاف مل سکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی مقصد عدالتی نظام میں عوام اور شکایت دہندگان کا اعتماد بحال کرنا ہے اور خالصتاً میرٹ پر انصاف کی فراہمی سے ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ مقدمات کی سماعت تیزی سے ہوسکے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ کامیاب عدالتی نظام صرف عدالتی افسران کی پوری لگن سے ہی ممکن تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانونی برادری نے قانون اور انصاف کی بالادستی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معیشت اور معاشرتی انصاف کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ وکلا کو چاہیے کہ وہ عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کے لیے زیادہ موثر انداز میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہڑتالوں کی ثقافت کی حوصلہ شکنی کریں اور عدالتی طریقہ کار کو آسانی سے انجام دینے کے لیے ان کی مدد کریں جس کی بدولت شکایت کرنے والوں کو بغیر کسی تاخیر انصاف مل سکے گا۔

چیف جسٹس نے بلوچستان کے نوجوان وکلا کی تربیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں جاری رہے گا اور اس سلسلے میں وہ متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کریں گے۔ انہوں نے ضلعی عدالتوں کی عمارت کی تزئین و آرائش کے کام کی تعریف کی۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے کتب کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی عدالتوں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ہی اس عمارت کو تاریخی شکل ملی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ماحول اور سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔