تحریک انصاف اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کی تیار کرے: عمران خان

  • ہفتہ 03 / اکتوبر / 2020
  • 5730

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے اور فوج کو بدنام کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنائیں۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لیے ایک قانونی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کے بیانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے حال ہی میں بنائی گئی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ باتیں کہی ہیں۔  کمیٹی شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری، شفقت محمود اور پرویز خٹک پر شامل ہیں۔

اجلاس میں موجود ذرائع نے روزنامہ ڈان کو بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سابق وزیراعظم نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کمیٹی اراکین کو ہدایت کی کہ ایک قانونی حکمت عملی تیار کریں کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے معاہدے کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کے قائد کی ملک بدری مشکل ہوگی۔

کچھ روز قبل وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے ڈان کو بتایا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی واپسی کے لیے برطانوی حکام کو نئے خطوط لکھے ہیں۔ ان کی حوالگی کے لیے  باضابطہ طور پر ایک درخواست بھی بھیجی گئی تھی۔

وزیراعظم کے مشیر کا خیال تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں تاہم خصوصی انتظام کے تحت مطلوبہ شخص ایک دوسرے کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔  اجلاس میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر ملے گی اور یومیہ کے حساب سے منصوبہ بندی کرے گی تاکہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ، میڈیا اور سیاسی محاذ پر مقابلہ کیا جائے۔

اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے مسلم لیگ (ن) کے ان 5 باغی اراکین سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا گیا جنہوں نے حال ہی میں پارٹی قیادت کو اطلاع دیے بغیر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی۔ وزیراعظم کے حوالے سے بتایا گیا کہ عمران خان نے اپوزیشن کے مقاصد کو شکست دینے اور فوج سمیت ریاستی اداروں کے دفاع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوج کے دشمن درحقیقت پاکستان کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مہم سے کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے طرز کی رعایت کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مشن تھا کہ بدعنوان سیاست دانوں کو بے نقاب کریں۔ اپوزیشن رہنماؤں کو فوج سے مسئلہ اس لیے ہے کیونکہ ان کی کرپشن پتہ لگایا جارہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور بھارت ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سڑکوں پر لائیں جبکہ وہ اور ان کے بچے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ادارے ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس دعوے کہ انہیں سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے مستعفی ہونے کا کہا تھا، پر عمران خان نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'کیوں اس وقت انہوں (نواز شریف) نے سخت مؤقف اختیار نہیں کیا اور کیوں وہ اس وقت نہیں بولے؟'