بھارت پھر بھی ’ڈارلنگ‘ ملک ہے
- تحریر
- ہفتہ 03 / اکتوبر / 2020
- 5470
دنیا میں شاید کبھی بھی دکھوں کی کمی نہیں رہی۔ مہاتما بُدھ تو بھلا چنگا تخت چھوڑ کر جنگلوں میں تپسیّا کے لئے بیٹھ گئے کہ گیان پائیں کہ آخر یہ سب کیا ہے؟ نتیجہ یہی نکالا کہ یہ دنیا دکھوں کی جگہ ہے۔ ہزاروں سال بیت گئے دنیا میں دکھ ختم نہ ہوئے۔
پچھلے دو سو سال میں نیشن اسٹیٹس کا ظہور ہوا، دو عالمی جنگوں کی تباہی کے بعد شریک ممالک نے یہی سیکھا کہ بس اب دوبار ہ نہیں۔انسان مگر اپنی جِبلّت کہاں چھوڑتا ہے، کمزور کا استحصال اور اسے دبانے کے نِت نئے طریقے اور نظام وضع ہو گئے۔ پچھلے ستر سالوں میں ایک نئے ورلڈ آرڈر نے دنیا میں جگہ بنا لی۔ اس میں اہمیت کا بنیادی اصول طاقت، دولت، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی قوت بنا۔ ورلڈ آرڈر کی اس بساط پر پچھلے تیس سالوں میں دو ممالک نے غیر معمولی اہمیت حاصل کی، چین اور بھارت۔ بھارت کی سوا ارب کے لگ بھگ آبادی پر مشتمل مارکیٹ، معیشت، دنیا بھر میں بھارتی اور بھارت نژاد باشندوں کا اثر و رسوخ اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعوے نے اسے دنیا اور باالخصوص امریکہ، یورپ اورایشیا کا اہم ملک بنا دیا۔
بھارت کو اپنی اس اہمیت کا اچھی طرح احساس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو بطور ملک اپنی فالٹ لائنز کا اچھی طرح علم ہے۔ مذہب، زبان، علاقائی تشخص اور تاریخ کا متنازع ورثہ ان فالٹ لائنز میں سے چند ایک ہیں۔ تقسیم کے بھارتی لیڈرز میں سے بیشتر کو اس کا احساس تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملک کے آئین میں سیکولرروح کو بنیاد بنایا۔مگر اسّی کی دِہائی میں عرصے سے جاری ہندوتوا کی مختلف تحریکوں نے سیاست میں اپنی طاقت جمع کی اور یوں بی جے پی سیاسی میدان میں اقتدار حاصل کرنے لئے اتری۔ کانگرس کی کمزوری اور علاقائی جماعتوں سے اتحادوں نے بالآخر بی جے پی ملک کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا۔1992میں بابری مسجد کا انہدام کئی دِہائیوں سے جاری اسی مذہبی تصادم کا شاخسانہ تھا۔
بی جے پی کے پچھلے دورِ حکومت میں نریندر مودی کی صورت میں آر ایس ایس کو راجدھانی میں اپنا پاسبان مل گیا۔ احمد آباد گجرات کے فسادات اور اس پر انتظامی چھڑکاؤ کرکے تمام فسادیوں کو صاف بچانے کا منظر دنیا نے دیکھا مگر زبانیں گنگ ہی رہیں۔ دوسرے دورِ اقتدار میں نریندر مودی اور اس کے مذہبی جنونیوں کو اپنے ناتمام ایجنڈے کو مکمل کرنے کو حوصلہ دیا۔ گزشتہ سال کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یک طرفہ اقدام کیا۔ اس کے ساتھ ہی دینا کا طویل ترین لاک ڈاؤن بھی لگا دیا۔ حرام ہے جو دو تین ملکوں کے سوا کسی ملک نے عالمی فورمز سمیت انسانی حقوق کے فورمز پر دہائی دی ہو۔ یورپ، امریکہ سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی اپنے اپنے مفادات کی اوٹ میں دبک گئے۔ کشمیر کی یک طرفہ حیثیت ختم ہونے سے قبل بھی سال ہاسال سے مسلسل سات لاکھ سے زائد فوجوں کی سنگینوں کے سائے میں کراہ رہا تھا، پیلٹ گنوں کے ذریعے احتجاج کرنے والے سینکڑوں بینائی کھو بیٹھے مگر دنیا کو دکھائی نہ دیا۔
دنیا کی بیشتر حکومتیں تو دبک کر بیٹھ گئیں مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل ادارہ ان چند اداروں میں سے شامل تھا جس نے کشمیر کی زمینی صورتحال پر مقدور بھر دنیا کو آگاہ رکھا۔ بھارت کو یہ بھی گوارا نہ ہوا۔ بہانے بہانے سے اس ادارے کی راہ میں روڑے اٹکانے سے بھی کام نہ چلا تو اس کی فنڈنگ پر سوال اٹھا تے ہوئے اس کے بنک اکاوئنٹس منجمد کر دئے۔ روزمرہ کام مشکل سے نا ممکن ہوا تواِاس ہفتے اس دارے نے اپنے ہاتھ اٹھا دیے اور بھارت میں اپنے آپریشنزمعطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ بقول اویناش کمار، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمنسٹی انڈیا: انسانی حقوق کے اداروں کو جرائم پیشہ سمجھنا اور اختلاف رائے رکھنے والے افراد سے مجرم کی طرح پیش آنا محض اتفاق نہیں، سوچا سمجھا رویہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ خوف اور جبر سے اختلافی آوازوں کو دبایا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تسلسل کے ساتھ اپنے خلاف ان حکومتی اقدامات کو شیطانی کھیل قرار دیا یعنی
Which - hunting۔
گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ایک طویل قانونی جنگ کے بعد بابری مسجد کے انہدام اور حیثیت پر جو فیصلہ دیا، اس کے نتیجے میں امسال عین پانچ اگست کو جب ایک سال قبل کشمیر کی تنازع اور خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا گیا، نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھا۔ ایک اور مقدمے میں سپریم کورٹ انڈیا میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے بتیس افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام میں حصہ لیا اور ہجوم کو اس پر اکسایا، جس کے نتیجے میں تین ہزار سے زائد افراد فسادات کی بھینٹ چڑھے۔ فردِ جرم میں سابق ڈپٹی وزیر اعظم اور بی جے پی کا سرخیل ایل کے ایڈوانی بھی شامل تھا۔ فیصلہ آیا تو سب کو حیران کر گیا، نامزد تمام افراد کو ناکافی
ٌ شواہد کی بناپر بری کر دیا گیا۔ رہا بابری مسجد کے انہدام کے ذمہ داروں کا تعین تو عدالت نے اس کا بوجھ ہجوم کے چند نامعلوم فسادیوں پر ڈال کر مقدمہ نمٹا دیا:
قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی
مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر
دور کیا جانا گزشتہ سال نیو دہلی شہریت کے مسئلے پر پر امن احتجاج اور دھرنا ختم ہونے کا نام نہ لے رہا تھا اور عالمی میڈیا نے بھی اس پر توجہ دینا شروع کر دی تو بنیاد پرست اور شدت پسند جنونی باہر سے بلوائے گئے۔ نیو دہلی میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ مسلم کمیونٹی مزید سہم گئی مگر دنیا کا ضمیر جاگنا تھا نہ جاگا۔ مسلمانوں کے علاوہ نچلی ذات کے دلت بھی روایتی ذات پات کی صورت ہندو جنونیت کا شکار ہیں۔ اسی ہفتے دو لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کے بعد موت کی نیند سلا دیا گیا۔ انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں اور مذہب کے نام پر ایسی حیوانی جنونیت پر اصولاٌ تو دنیا کو شرمانا چاہئے مگر مفادات سے بندھے ممالک گنگ ہیں۔
بھارت انسانی حقوق کے سنگین جرائم میں منظم انداز میں مصروف ہونے کے باوجود دنیا کے امیر ممالک کا ڈارلنگ ملک ہے۔ ہزاروں سالوں میں بظاہر بہت کچھ بدلا مگر انسانوں کے دکھوں میں کمی نہیں آئی۔