مہاتما گاندھی:عظیم انسان مگر ناکام سیاستدان

دو اکتوبر کو پوری دنیا میں جس شخصیت کا جنم دن منایا جا تا ہے وہ بنیادی طورپر مذہبی آدمی تھے مگر انہوں نے سیاست سیکولر کی۔ اس شخصیت نے ہندومت کے ساتھ ساتھ مسیحیت کا بھی مطالعہ کر رکھا تھا۔

 اور اسلام کو بھی اس قدر سمجھا تھا کہ بلاجھجک عوامی خطبات میں یہاں تک کہہ جاتا کہ رام اور کرشنا تو افسانوی تصورات میں گھری ہوئی شخصیات ہیں جبکہ پیغمبر اسلام اور ان کے خلفا ابو بکرؓ و عمر ؓ تاریخی طور پر ایسی ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنے نظریات و تصورات کو زمینی و عوامی سطح پر عملی جامہ پہنایا۔ اپنی تعلیمات کو بالفعل جاری و ساری کیا، اس لئے ہم بہت سے معاملات میں ان سے رہنمائی لے سکتے ہیں۔ یہ بدنصیب شخص موہن داس کرم چند گاندھی تھا جسے مسلمانان پاکستان کی بھاری اکثریت شاید 90 فیصد سے بھی زیادہ آج بھی مکار، دوغلا اور منافق سمجھتی ہے اور یقیناً ایسی نہیں مگرکم از کم منفی صورتحال آج کے ہندوستان میں بھی ہے، جب سے راسخ العقیدہ ہندو قیادت برسر اقتدار آئی ہے۔

گاندھی جی کی دن رات درگت بنائی جا رہی ہے۔ شدت پسند ہندو کھلے بندوں مہاتما گاندھی کو ہم مسلمانوں کی طرح برا کہتے ہیں۔ اس امر پر بحث ہو سکتی ہے کہ متشدد ہندو گاندھی جی کو غلط سمجھنے میں کتنے حق بجانب ہیں یا مکمل شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ البتہ مسلمان اس طرح کیوں سمجھتے ہیں یہ ایسی ناقابل فہم گتھی ہے جسے سلجھایا جانا چاہیے۔ تمامتر تعصب و نفرت کے باوجود انڈیا میں گاندھی جی کو یہ سہولت ضرور حاصل ہے کہ انہیں جتنی آزادی کے ساتھ برا ثابت کیا جا سکتا ہے، اتنی آزادی کے ساتھ اچھا ثابت کرنے کیلئے دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ وطن عزیز پاکستان میں انہیں صرف برا ثابت کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

اس کے برعکس نقطہ نظر کہ ان کی حیثیت مسلمانوں کے ایک سچے ہمدرد کی تھی جنہوں نے مسلمانوں کی جا و بیجا حمایت و ہمدردی کرتے ہوئے اپنی جان گنوا دی۔ کم از کم سات دہائیوں میں درویش کو یہاں اس کی گنجائش دکھائی نہیں دی ہے۔ بلاشبہ جناح صاحب نے ان کی دردناک موت پر پاکستان میں سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا اور گورنر جنرل کی حیثیت سے تعزیتی بیان بھی جاری فرمایا لیکن اس افسوسناک موقع پر بھی وہ ہندو مسلم امتیاز نہیں بھولے: ”ایک عظیم ہندو رہنما جو کبھی ہندوستان میں پیدا ہوا“ مہاتما گاندھی نے یہ ثابت کرنے کے لئے جان دے دی کہ وہ محض ہندوﺅں کے نہیں بشمول مسلمانان جنوبی ایشیا تمام مذہبی فرقوں کے بھی ہمدرد رہنما ہیں۔ دردناک موت مر کر بھی وہ یہ دعویٰ منوانے سے قاصر رہے اپنے تئیں وہ ضرور یہ سمجھتے ہوں گے کہ:

میں زیر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

اپنے بھی خفا مجھ سے، ہیں بیگانے بھی ناخوش

درحقیقت کسی غیر مسلم کو اپنا لیڈر مان لینا ہم عامة المسلمین کی سرشت میں نہیں ہے۔ چاہے وہ الٹا لٹک جائے، چاہے اپنی پوجا کا آغاز قرآن شریف کی تلاوت سے کرتا ہو یا عوامی مجالس میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتا پایا جائے۔ اس کے برعکس نسلی مسلمان چاہے اسے اسلام کی ابجد کا بھی علم نہ ہو اپنے اسلامی نام اور موٹی موٹی اسلامی تقاریر سے مسلمانوں کا ہیرو بن سکتا ہے۔ باقی غریب عوام سے ہمدردی یا دبے ہوئے طبقات کیلئے قلبی و شعوری امنگ کے ساتھ جدوجہد تو بے معنی چیزیں ہیں۔ بس ماڈرن اسلوب میں اسلام پر دوچار لچھے دار جذباتی باتیں آنی چاہئیں۔

نتھو رام گوڈسے اور ساورکر جیسے متشدد قاتل اور جنونی یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں نے ہندوﺅں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا ہے۔ لیکن اتنی بڑی جنتا کے اتنے بڑے لیڈر مہا تما گاندھی نے ان مسلمانوں کو ایک سخت جملہ تک نہیں کہا۔ الٹا مسلمانوں کو بچانے کیلئے کبھی کلکتہ اور کبھی دہلی کی گلیوں میں دھکے کھاتے رہے اور یہاں تک فرماتے رہے کہ مسلمان اگر ہم ہندوﺅں کو مار کر خوش ہوتے ہیں، تو ہماری گردنیں حاضر ہیں۔ وہ ہماری گردنیں کاٹتے کاٹتے تھک جائیں گے مگر ہم ان کے بالمقابل کھڑے نہیں ہوں گے ۔ پارٹیشن پر جو افسوسناک بلوےہوئے بات محض ان تک نہ تھی۔ موپلا تحریک کی سٹڈی فرما لیں ہندوﺅں پر جس طرح شب خون مارے گئے بلکہ دن دہاڑے جس طرح بے دردی سے وہ قتل کئے گئے، اس تمامتر خون خرابے کے باوجود گاندھی نے مسلمانوں کو سخت لفظ تک نہیں کہا۔ کچھ اسی نوع کی پالیسی آگے چل کر گاندھی کے چیلے پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی اپنائے رکھی ۔

آج ہندوستان کی ہندو اکثریت کے دلوں میں مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کے خلاف جو غم و غصہ ہے، بی جے پی کی سوچ سے اتفاق رکھنے والوں کے نزدیک یہ غم و غصہ بے وجہ نہیں ہے یہ سب ان کرموں کا پھل ہے جو آج کی کانگرس پارٹی پورے ہندوستان میں بھگت رہی ہے۔ مسئلہ راہول یا سونیا جی کی قیادت کا نہیں۔ پریانیکا کو بھی آپ لوگوں نے آزما کر دیکھ لیا ان کے بڑوں نے یک طرفہ طور پر برسوں مسلمانوں کی جو یک طرفہ حمایت پیہم جاری رکھی، اس کا غبار تھمتے نہیں دکھتا۔ آج ان کی اولادیں عام ہندوستانیوں کی نظروں میں ٹکا ٹوکری ہو چکی ہیں اور ردعمل میں مودی جی اور ان کی جنتا پارٹی کا بول بالا ہے۔

آج ہندوستان کی اپنے تئیں خالص اور حقیقی ہندو قیادت نے ایک اقلیت کی خوشنودی کا خبط چھوڑ کر اپنی جنتا کی وسیع تر بھاوناﺅں کو احترام دیا ہے۔ ایک فرقے کے خصوصی سٹیٹس کو لپیٹ کر انڈین آئین میں کی گئی ناروا و امتیازی شقوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ہمسایوں کو بھی سابقہ انڈین وتیرہ بدلتے ہوئے انہی کی زبان میں جواب دیا ہے، تو اب انہیں کسی قدر یاد آیا ہے کہ گاندھی اور نہرو تو ایسے نہ تھے۔ واقعی وہ ایسے نہ تھے دونوں سادھو اور پنڈت تھے مگر اس کے باوجود پاکستان میں آج بھی مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کے حق میں لکھنے یا بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ راسخ العقیدہ ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ جس قیادت نے اپنی جنتا کے دکھ درد کو تج کر مسلم مینارٹی کی خوشنودی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا، ان کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہیے تھا۔

درویش نے پرانے وقتوں میں ایک آرٹیکل تحریر کیا ”مہاتما گاندھی کو کس جرم میں قتل کیا گیا؟“ ایڈیٹر صاحب نے اسے پڑھنے کے بعد پیشانی پر لکھا ’یہ آرٹیکل روزنامہ پاکستان میں نہیں روزنامہ ہندوستان میں چھپ سکتا ہے“۔ ایسے قومیتی تعصبات میں انسانیت کو مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کے مقام پر پہنچنے میں ابھی خاصا وقت لگے گا۔ اس لئے ہم بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر دوشخصیات سیاستدان تھیں ہی نہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں سادھو اور پنڈت تھے شاید اسی کی قیمت آج کا بھارت بھگت رہا ہے۔ درویش پوری دیانتداری سے یہ سمجھتا ہے کہ گاندھی جی اول و آخر متحدہ ہندوستان دیکھنا چاہتے تھے۔ بوجوہ جو گیم سیاسی و قانونی طور پر گاندھی جی کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی۔ اس پر کسی وقت ضرور بحث کی جائے گی۔ اسے وہ اپنی اخلاقی برتری اور پیار محبت کے برتاﺅ سے واپس لانا چاہ رہے تھے۔

بلاشبہ بھارت ماتا کی ایکتا اور کھنڈتا کیلئے وہ خونریزی پر تو آمادہ نہ ہو سکتے تھے۔ البتہ اپنوں کا خون دے کر بھی وہ دلجوئی اور پیار محبت سے دور جانے والوں کو قریب لانا چاہ رہے تھے۔ مسلمانوں کی حمایت و ہمدردی میں اگر وہ اپنی جان پر کھیل گئے یا پاکستان کو 55 کروڑ کی خطیر رقم دلوانے کیلئے مرن برت تک چلے گئے تو اس کے پیچھے ان کا اصل جذبہ محرکہ ہندوستان یا ہندوستانیوں کی ایکتا و اکھنڈتا کی لگن تھی ۔ اپنے تئیں وہ یہ خیال کئے بیٹھے تھے کہ اس طرح کی جدوجہد سے وہ مسلم میجارٹی خطوں کے باسیوں کا دل جیت لینے کے بعد لٹے پٹے ہندوﺅں کے عوامی جتھے پاکستان لے جائیں گے۔ اور وہاں کے عوامی جتھے ہندوستان لے آئیں گے۔ یوں دوریوں کو مٹا کر وہ ایک نوع کی عوامی طاقت سے ایکتا بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس طرح سوچتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ جس ہندو میجارٹی کی طاقت پر ان کی قیادت کا سنگھاسن قائم ہے جب وہ انہی کا اعتماد کھو بیٹھیں گے تو غیروں کا اعتبار کیسے حاصل کر پائیں گے۔ خالی جذبوں سے خطوں یا دلوں کو فتح نہیں کیا جا سکتا، چاہے یہ کتنے ہی خلوص بھرے کیوں نہ ہوں۔ اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا جو نکلا ہر دو فریقین نے ان کے اس جذبہ خلوص کا بہت بری طرح مذاق اڑایا۔