فوج کے خلاف بیان پر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ
- اتوار 04 / اکتوبر / 2020
- 6180
سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ریاست سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں اسٹیشن ہاؤس افسر محمد امجد کی مدعیت میں کیپٹن (ر) صفدر اور رکن صوبائی اسمبلی عمران خالد بٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120 بی، 124 اے اور 505 کے تحت درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں عمران خالد بٹ کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کی زیر قیادت ایک اجلاس ہوا، جس میں کیپٹن (ر) صفدر نے صوبائی اور وفاقی حکومت کو بزور احتجاج ختم کرنے اور افواج پاکستان اور اس کے اعلیٰ افسران کے خلاف بات چیت کی۔
ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے افواج پاکستان کے بارے میں لوگوں میں نفرت کے جذبات ابھارے جس سے لوگوں کے اندر اشتعال پیدا ہوا اور اس کا مقصد امن عامہ کو نقصان پہنچانا تھا۔ پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق محمد صفدر نے کہا کہ جس شہر میں گرفتاری ہوگی اس شہر کے کور کمانڈر کے گھر کا محاصرہ یا گھیراؤ کریں گے اور دھرنا دیں گے۔ اگر گوجرانوالہ میں گرفتاری ہوئی تو وہاں کا کینٹ پاس ہی ہے، ہم وہاں کے کور کمانڈر کے گھر کا گھیراؤ کریں گے۔
ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ انہوں نے کہا کہ 16 اکتوبر والے جلسے کی انتظامیہ اجازت نہیں دے گی یہ ہمیں زور اور طاقت سے لینی پڑے گی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر اور عمران خالد بٹ نے دانستہ طور پر وفاقی و صوبائی حکومت کو گرانے، افواج پاکستان اور اس کے اعلیٰ افسران، ریاستی اور انتظامی اداروں کے خلاف نفرت، اشتعال اور دھمکی آمیز الفاظ کا استعمال کیا۔
خیال رہے کہ کیپٹن (ر) صفدر نے میڈیا سے دوران گفتگو کہا تھا کہ ہمارے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جس شہر میں گرفتاری ہوگی وہاں کے کور کمانڈر کے گھر کے باہر دھرنا ہوگا۔ ہم احتجاج کریں گے اور اپنے قائدین کو باہر نکال کر اٹھیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ میں نے مولانا سے کہا کہ پہلے زمانے نے گرفتاریوں پر لوگ ڈی چوک جاتے تھے جس پر مولانا نے کہا کہ اس وقت جمہوریت تھی۔ اس پر میں نے کہا کہ عمران خان کا گھیراؤ نہ کریں تو مولانا نے جواب دیا کہ عمران کی حیثیت کیا ہے، گرفتاری ہو تو کورکمانڈر کے گھر کا گھیراؤ کریں۔
خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے بلکہ اس سے قبل وہ دیگر معاملات میں گرفتار بھی ہوچکے ہیں جبکہ انہیں عدالت سے کرپشن ریفرنس میں سزا بھی کاٹنی پڑی ہے۔ اکتوبر 2019 میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنے پر پولیس نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔