نقیب اللہ محسود کی موت جعلی پولیس مقابلے میں سینے پر گولی لگنے سے ہوئی: ڈاکٹر کا بیان

  • اتوار 04 / اکتوبر / 2020
  • 5500

انسداد دہشت گردی کی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ماڈل بننے کے خواہشمند نوجوان نقیب اللہ محسود کا جعلی پولیس مقابلے کے دوران سینے میں 2 گولیاں لگنے سے انتقال ہوا اور یہ گولیاں ان کے اوپری حصے کو چیرتے ہوئے باہر نکل گئی تھیں۔

اس بات کا انکشاف عدالت میں استغاثہ کے گواہ ڈاکٹر عبدالغفار نے کیا جو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں اس وقت میڈیکل لیگل آفیسر تھے اور انہوں نے مقتول کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔  سابق ایس ایس پی راؤ انوار پر 2 درجن ماتحت عہدیداروں کے ساتھ مل کر نقیب اللہ اور 3 دیگر افراد کو 13 جنوری 2018 کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں طالبان عسکریت پسندوں سے منسوب کرنے کے بعد ہلاک کرنے کا الزام عائد ہے۔

مقدمہ کی سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی راؤ انوار اور کچھ دیگر ملزمان عدالت میں موجود تھے جو اب ضمانت پر ہیں۔ دیگر ملزمان کو جیل سے لایا گیا تھا۔ سرکاری وکیل نے اس کیس میں اپنا بیان قلمبند کرنے کے لیے گواہ ڈاکٹر عبدالغفار کو پیش کیا۔ انہوں نے نقیب اللہ محسود سمیت 4 متاثرین کی پوسٹ مارٹم جانچ کی رپورٹس سمیت اپنا بیان فائل کیا۔

نقیب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میڈیکل لیگل آفیسر نے بتایا کہ اس کی موت کی وجہ گولیاں تھیں۔  2 گولیاں اس کے سینے میں سامنے کی جانب داخل ہوئیں اور اسی جگہ پر اس کی پیٹھ سے باہر نکل گئیں جس سے ایک دو سینٹی میٹر سوراخ ہوا اور سینے میں چوٹ سے وہ فوت ہو گئے۔ مقابلے کے دوران جن تین دیگر متاثرین کو گولی ماری گئی ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

استغاثہ نے ملزم کے دفاعی وکیل کے ذریعہ 2دیگر گواہوں سب انسپکٹر ممتاز اور سب انسپکٹر سلیم کو ان کے معائنہ کے لیے پیش کیا۔ ایک نجی گواہ عبدالرحیم کو اس کی گواہی ریکارڈ کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔ تاہم سابق ایس ایس پی راؤ انوار کے  وکیل ایڈووکیٹ عامر منصب قریشی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایم ایل او ڈاکٹر شیخ اور دو پولیس عہدیداروں کی نجی گواہ کی جانچ نہیں ہو سکی۔

جج نے گواہوں کی شہادتیں اور جانچ پڑتال کے لیے 7 اکتوبر تک معاملہ ملتوی کردیا۔ جج نے 7پولیس اہلکاروں کے ذریعے استغاثہ کے گواہوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا بھی نوٹس لیا جو موجودہ معاملے میں مبینہ طور پر مفرور ہیں۔

جج نے ڈی آئی جی شرقی کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت کی تاکہ یہ بتایا جائے کہ مفرور ملزمان کو ابھی تک کیوں نہیں پکڑا گیا اور وہ مبینہ طور پر ملزمان کو ہراساں کررہے ہیں تاکہ وہ ملزمان کے خلاف عدالت میں گواہی دینے سے باز رہیں۔

اس سے قبل شکایت کنندہ کے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین پنہور نے شکایت کی تھی کہ اس کیس میں نامزد 7پولیس اہلکار ابھی بھی مفرور ہیں اور وہ عدالت میں ملزموں کے خلاف اپنے بیانات ریکارڈ کرنے سے روکنے کے لیے استغاثہ کے گواہوں کو ہراساں کررہے ہیں۔

فروری میں عدالت نے نقیب کے بھائی عالم شیر کو اس کیس میں شکایت کنندہ بننے کی اجازت دی تھی کیونکہ دسمبر 2019 میں مقدمے کے ابتدائی شکایت کنندہ اور نقیب کے والد کینسر کا شکار ہو کر انتقال کر گئے تھے۔  استغاثہ کے مطابق انڈر ٹرائل پولیس عہدیداروں نے نقیب اور تین دیگر افراد کو تاوان کے بدلے اغوا کیا اور انہیں ایک جعلی مقابلے میں مار ڈالا اور بعد میں انہیں طالبان عسکریت پسندوں کا نام دے دیا۔

نوجوان نقیب کے قتل سے سول سوسائٹی کے اراکین نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ان ہلاکتوں کا از خود نوٹس لیا تھا۔ بعدازاں ٹرائل کورٹ نے نقیب اور تین دیگر متاثرین کو بے گناہ قرار دے دیا تھا اور ان کے خلاف درج مقدمات کو ختم کردیا تھا۔