سیاسی خانہ جنگی کا عذاب
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 05 / اکتوبر / 2020
- 17990
آدمی اپنی زبان کے نیچے چھپا ہے، جب وہ بولتا ہے تو پہچان لیا جاتا ہے۔ یہ بات وصی ء مولائے کائنات ﷺ ، باب العلم، جناب امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہ نے ارشاد فرمائی تھی۔ یہ علم کی وہ بات ہے جو یا تو صاحبِ علم ہی سمجھ سکتا ہے یا وہ جسے علم حاصل کرنے کی طلب ہو کیونکہ طلبِ علم ایک دینی فریضہ ہے جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے۔
لیکن اس عہد کا مسلمان اپنے علمی مدار سے ہٹ گیا ہے اور وہ علم پر دولت کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ شاید یہ نہیں جانتا کہ بے علمی اُس سے لسانی پاکیزگی اور حُسن کلام چھین لیتی ہے۔ اس وقت کا پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ جس میں سیاست دان، حُکمران اور اُن کے سرکاری اور کرائے کے ترجمان ہر روز پریس کانفرنسوں، اخباری بیانات اور ٹاک شوز میں لفظ کی آبرو ریزی کرتے ہیں اور زبان کی بے حُرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے پر الزامات کی سنگ زنی کرتے ہیں اور فریقین ایک دوسرے کی تواضع ناقابلِ بیان اسموں سے کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، خائن ، بے ایمان اور غدار تک گردانتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے کیمپ پر دشنام کے لفظی بم پھینک کر ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کے در پے رہتے ہیں۔
ان کی یہ حالتِ زار دیکھ کر جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے، یہ ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، اور اپنے ملک کے نام کا مطلب لا الہ الاللہ بتاتے ہیں، اسلام کے پیغام سے واقف بھی ہیں یا نہیں؟ اِس لیے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لیے یہ حُکم جاری کر رکھا ہے کہ:
لا تفسدو فی الارض۔ زمین پر فساد مت پھیلاؤ۔
مگر اِن سیاسی بقراطوں اور اُن کے ترجمانوں نے اپنی بد زبانی سے مُلکِ خُداداد میں فساد برپا کر رکھا ہے۔ جب یہ لوگ بولتے ہیں تو اِن کی تھوتھنیوں سے بچھو برستے ہیں اور اُن کی دیکھا دیکھی، اُن کے طرزِ بیان سے شہ پا کر اُن کے ہم نظریہ کارکن اُنہی کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے کو کوسنے دیتے اور ایک دوسرے پر فحش الزامات لگاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے ہیں جس سے گلی کوچے لسانی خانہ جنگی کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ اور سچ یہی ہے کہ پاکستان اپنی بہتر سالہ تاریخ کی بد ترین لفظی خانہ جنگی میں مبتلا ہے جس میں کبھی کہیں سنگ زنی، ہاتھا پائی اور دست بدست جنگ کے سین بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس جنگ میں گلی محلوں کے ماجے گامی، سیاسی جماعتوں کے شیدے میدے، لونڈا پارٹی کے بِلّو ٹِلو سے لے کر مذہبی مدارس کے طالب علم تک بہرِ ثواب شامل ہوتے ہیں۔ یہ صورتِ حال عدم برداشت، تحمل کے فقدان اور صبر کی دولت سے محروم ہونے کی چغلی کھاتی ہے حالانکہ صبر بہت بڑی دولت ہے۔ ایسی دولت ِ اخلاق جو گالی کھا کر دعا دینا سکھاتی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان اللہ مع الصابرین مگر ان بے صبروں کو اللہ کی قربت میسر نہیں ہوتی۔
بے صبری کے اس طوفان ِ بد تمیزی نے سیاست دانوں، ترجمانوں اور اُن کے جماعتی کارکنوں کی مت مار رکھی ہے۔ بد قستی سے سیاسی جماعتیں متحارب لشکروں میں تبدیل ہو گئی ہیں جو ایک دوسری کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ اس جنگ میں لندن سے لاہور تک کا وسیع میدان ہے ۔ ویڈیو لنک پر تقریریں ہو رہی ہیں، احکامات جاری کیے جا رہے ہیں جن کے زیرِ اثر جماعتی کارکن اور ہمدرد اپنے اپنے مورچوں پر لفظ و سنگ سے گولہ باری کر رہے ہیں ، بد امنی پھیلا رہے ہیں اور اُن کی دیکھا دیکھی سوشل میڈیا کے کوے بھی کائیں کائیں کا شور مچا نے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ ایسی ایسی مضحکہ خیز تصویریں اور کارٹون شائع کرتے، خاکے اُڑاتے اور ٹِک ٹوک وارداتیں ڈالتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اور پھر کچھ ایسے نا عاقبت اندیش بھی ہیں جو خواہ مخواہ فوج کی پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ اس طرح سے فوج کی چاپلوسی کرتے ہیں گویا فوج ایک بے حد کمزور ادارہ ہے جسے ان ترجمانوں اور حوصلہ افزائی کرنے والے بینڈ باجوں کی ضرورت ہے تاکہ ان کا مورال بلند رہے۔ لا حول ولاقوۃ۔
یہ انتہائی افسوسناک طریقہ واردات ہے جس کے ذریعے فوج کو سیاسی امور میں غیر ضروری طور پر ملوث کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ فوج کے مارشل لا لگانے کے سابقہ ریکارڈ کے پیشِ نظر فوج کو بلا وجہ ملوث کرنا، آ بیل مجھے مار کے فارمولے کو آزمانا ہے۔ یہ سارا تماشا ایک انتہائی غیر منظم، غیر مہذب اور اخلاق باختہ ہجوم کی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے جو بے حد افسوس ناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔ اور اس کا سب سے ستم ظریفانہ پہلو یہ ہے کہ علمائے دین جن کا کام ملت کی اخلاقی تربیت کرنا ہے ، وہ بھی اس بدکلامی ، بد گوئی اور ژاژ خائی کے میدان میں سہولت کار بن کر اُترتے ہیں ۔ گویا ایک طرح سے پوری ملت اس جنگ میں شریک ہے۔ اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ فطرت اس قسم کی فاش غلطیوں اور دانستہ خطاؤں سے چشم پوشی نہیں کیا کرتی ہے۔ اقبال کی گواہی یہ ہے کہ:
فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
اور اس ملت نے اگر اپنا محاسبہ نہ کیا اور اس لسانی و بیانی خانہ جنگی کے خاتمے کا اعلان نہ کیا تو کوئی ایسا سانحہ رونما ہوسکتا ہے جس کے لگے زخم یہ ملت برس ہا برس تک بنگلہ دیش کی طرح چاٹتی رہے گی۔ اللہ نہ کرے مگر سزا اور جزا کا قانون اٹل ہے اور ہر جگہ نافذ ہے جو یہ کہتا ہے کہ جیسا کروگے، ویسا بھرو گے۔ لیکن انسان نسیان کا مریض ہے۔ وہ بہت جلدی بھول جاتا ہے کہ گذشتہ کل اُس پر کیا بیتی تھی۔ اس لیے آسمان سے آواز آ رہی ہے کہ:
خُدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو اعلانیہ بُرا کہے مگر جو مظلوم ہو ۔ سورہ انسا ء ۸۴۱
اور اس سارے قضیے میں مظلوم وہ عوام، عورتیں اور بچے ہیں ہیں جو جنسی تشدد، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اگر وہ ظالموں کو برا کہیں تو اللہ معاف کرنے ولا ہے ورنہ یہ حق سیاست دانوں کو تفویض نہیں ہوا۔
وما علینا الاالبلاغ